مسکن / جونیئر کہانی / شہزادی ماہ نور

شہزادی ماہ نور

شہزادی ماہ نور

پرانے زمانے میں ملک روم پر ایک رحمدل بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ بادشاہ بڑا انصاف پسند نیک سیرت اور بہادر تھا۔ بادشاہ کی ایک ہی بیٹی تھی جس کا نام ماہ نور تھا۔ شہزادی ماہ نور بے حد خوبصورت اور ذہین تھی۔ بادشاہ اور ملکہ اسے دیکھ دیکھ کر جیتے تھے۔ شہزادی ماہ نور کے محل میں ایک بہت بڑا باغ تھا جس میں دور دور سے منگوائے گئے نایاب پودے تھے۔ شہزادی ماہ نور ہر شام کو اپنی کنیزوں کے ساتھ باغ کی سیر کرتی اور رنگ برنگی تتلیوں سے کھیلتی۔
ایک شام کو شہزادی ماہ نور حسب معمول اپنے باغ میں کھیل رہی تھی اور تتلیاں پکڑنے کے لئے ان کے پےچھے دوڑ رہی تھی۔ تتلیاں کبھی اس پھول پر جا بیٹھتیں تو کبھی اس پر۔ اتفاق کی بات ہے کہ ملک کوہ قاف کے بادشاہ جن کا بیٹا جس کا نام نارنگ تھا، تخت پر بیٹھا آسمان کی سیر کر رہا تھا اس کا تخت جو ایک بڑے باز کی شکل کا تھا چار خوفناک دیو اٹھائے ہوئے تھے۔ نارنگ جن کا تخت بادلوں کے اوپر اڑ رہا تھا۔ نارنگ جن نے ایک طلسمی عینک لگا رکھی تھی جس کی وجہ سے اسے ہرچیز بالکل صاف نظر آرہی تھی۔ نارنگ جن کی نظر جب شہزادی ماہ نور پر پڑی تو وہ اس کی خوبصورتی دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ اس نے اسی وقت اپنے غلام دیوﺅں کو تخت باغ میں اتارنے کا حکم دیا۔ تخت نیچے آیا تو کنیزیں شور مچاتی بھاگ گئیں۔ شہزادی ماہ نور تو غش کھا کر گر پڑی۔ نارنگ جن نے اسے اٹھ اکر اپنے تخت پر ڈالا اور بولا ”میں اس خوبصورت لڑکی کو اپنی ملکہ بناﺅں گا ۔ہاہاہاہا۔ چلو اب واپس کوہ قاف چلو۔“
دیو یہ سنتے ہی تخت کندھوں پر اٹھائے کوہ قاف کی طرف روانہ ہو گئے۔ ادھر کنزیں دہائی دیتی ملکہ اور بادشاہ کے پاس پہنچیں اور انہیں بتایا۔ ملکہ تو ہائے میری بچی کہہ کر وہیں گر پڑی اور بے ہوش ہو گئی۔ بادشاہ گھبراہٹ میں ننگے پاﺅں باغ کی طرف بھاگا مگر اب وہاں کیا تھا کچھ بھی نہیں۔ شہزادی ماہ نور کو تو نارنگ جن اٹھا کر لے گیا تھا۔
پوری سلطنت میں کہرام مچ گیا۔ جس نے سنا آنسو بہانے لگا۔ بادشاہ نے شاہی نجومی اور وزیراعظم سے مشورہ کے بعد اعلان کرا دیا کہ جو شخص شہزادی ماہ نور کو کوہ قاف کے نارنگ جن کی قید سے آزاد کرا کے لائے گا وہی تخت و تاج کا وارث ہوگا اس اعلان کو سنتے ہی بہت سے منچلے شہزادے اور نوجوان اپنے گھروں سے نکل پڑے مگر کسی کو بھی کوہ قاف کا راستہ نہ معلوم تھا۔ ادھر ادھر بھٹک کر ناکام لوٹ آئے۔
ملک روم کے ایک گاﺅں میں ایک نوجوان تاجر حاشر بھی رہتا تھا۔ اس نے جب یہ اعلان سنا تو سوچا قسمت آزمانی چاہئے۔ شاید خدا میری مدد کرے اور میں شہزادی کو جن کی قید سے چھڑا لاﺅں۔ یہ سوچ کر حاشر نے سامان سفر باندھا اور گھوڑے پر سوار ہو کر مشرق کی طرف روانہ ہو گیا۔ دوپہر کے وقت حاشر ایک جنگل میں پہنچا اور ایک گھنے درخت کے نیچے لیٹ کر سستانے لگا ابھی چند منٹ ہی گزرے تھے کہ چون چوں کی درد بھری آواز نے اسے چونکادیا۔
اس نے نگاہ اٹھائی تو کیا دیکھتا ہے کہ درخت کی ایک شاخ پر بیٹھی چڑیا کے گرد ایک خطرناک کالا سانپ لپٹا ہوا ہے اور اسے ڈسنا چاہتا ہے تاجر حاشر کو چڑیا پر بڑا رحم آیا مگر مسئلہ یہ تھا کہ چڑیا کو بچایا کس طرح جائے ، جتنی دیر میں وہ درخت پر چڑھتا سانپ چڑیا کو ڈس لیتا۔
سوچتے سوچتے حاشر کے ذہن میں ایک ترکیب آگئی۔ اس نے جلدی سے گھوڑے کی زین سے لٹکتی ڈھال اتاری۔ ڈھال شیشے کی طرح چمکدار تھی۔ حاشر نے ڈھال کو زمین پر اس طرح رکھا کہ اس کا رخ درخت پر بیٹھے سانپ کی طرف ہو گیا۔ کالے سانپ نے جب چمکتی ڈھال میں اپنا عکس دیکھا تو سمجھا کوئی اور سانپ آگیا ہے۔ وہ بڑے غضب ناک انداز میں پھن پھیلا کر پھنکارنے لگا۔ تاجر حاشر نے بڑی پھرتی سے کمان میں تیر جوڑا اور اللہ کا نام لے کر چھوڑ دیا۔ سنسناتا ہوا تیر سیدھا سانپ کے پھن میں لگا اور سانپ تڑپ کر مر گیا چڑیا بچ گئی اور پھر سے اڑ کر تاجر کے سامنے آبیٹھی مگر یہ کیا؟ حاشر کے سامنے تو ایک حسین پری مسکرا رہی تھی۔ پری نے کہا۔
”اے آدم زاد! تمہارا بہت بہت شکریہ۔ تم نے میری جان بچائی میں پریوں کی ملکہ کی خاص کنیز ہوں۔ آج چڑیا بن کر سیرکو نکل کر اس سانپ کے ہتھے چڑھ گئی اگر تم نہ آتے تو اس موذی نے مجھے مار ڈالنا تھا۔“
حاشر نے ہنس کر کہا:
”اے پری یہ ہر انسان کا فرض ہے کہ وہ جانوروں پر رحم کھائے اور ان کی مدد کرے۔“ پری خوش ہو کر بولی۔
”تم بہت اچھے انسان ہو۔ بولو میں تمہاری کیا مدد کر سکتی ہوں؟“
حاشر نے کہا۔ ”میں روم کی شہزادی ماہ نور کو نارنگ جن کی قید سے آزاد کرانے کوہ قاف جا رہا ہوں اگر تم مجھے کوہ قاف تک پہنچنے کا راستہ بتا سکو تو بڑی مہربانی ہوگی۔“
پری یہ سن کر سوچ میں پڑ گئی۔ پھر کہنے لگی۔ ”یہ تم نے بڑے مشکل کام کا بیڑا اٹھایا ہے۔ لیکن بہادر لوگوں کے لئے کوئی کام مشکل نہیں ہوا کرتا۔ یہ لو یہ آم رکھ لو۔ اور اس جنگل کے جنوبی حصے میں موجود برگد کے پرانے درخت کے قریب پہنچ کر آم کو چیر دینا۔ اس درخت کے نیچے بونوں کی بستی ہے وہ آدم کھانے کے بے حد شوقین ہیں وہ تم سے آم مانگیں گے مگر تم ہر گز نہ دینا اور کہناو اگر بونا بادشاہ میرے ساتھ کوہ قاف تک چلے تو میں آم دوں گا۔ آج کل آموں کا موسم نہیں ہے۔ مجھے یقین ہے بونا بادشاہ تمہاری بات مان لے گا۔ اس کے بعد تمہیں کیا کرنا ہے یہ بونا بادشاہ ہی بتائے گا۔“
حاشر نے پری کا شکریہ ادا کیا تو اس نے اپنا ایک پر توڑ کر حاشر کو دیا اور کہا۔ ”جب بھی تم کسی مشکل میں پھنس جاﺅ تو اس پر کو بالوں میں لگانا میں تمہاری مدد کو پہنچ جاﺅں گی۔ اچھا خدا حافظ۔“
پری چلی گئی تو تاجر حاشر اٹھا اور گھوڑے پر بیٹھ کر برگد کے درخت کی طرف چل دیا وہاں پہنچ کر اس نے ہدایت کے مطابق آم نکالا اور چیرا تو ہر طرف آم کی خوشبو پھیل گئی۔ یہ خوشبو بونوں کی بستی میں پہنچی تو سارے بونے بے قرار ہو گئے اور بونے بادشاہ کے ہمراہ باہر نکل آئے۔
بونے بادشاہ نے للچائی ہوئی نظروں سے آم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔
”اے آدم زاد تم کہاں سے یہ آم لے کر آئے ہمیں بھی کھانے کے لئے آم دو۔“
حاشر غصہ سے بولا۔ ”چلو بھاگو یہاں سے۔ میں تو تمہیں آم کا چھلکا بھی نہیں دوں گا۔ ہاں ایک شرط مان لو تو سارا آم دے سکتا ہوں۔“
بونے بادشاہ نے جلدی سے کہا۔ ”شرط بتاﺅ۔“ حاشر بولا۔
”تمہیں میرے ساتھ کوہ قاف تک جانا ہوگا۔ اگر راضی ہو تو یہ آم تمہارا ہے۔“ بونے نے جواب دیا۔ ”مجھے تو کوہ قاف تک جانے کے راستے کا علم نہیں۔ ہاں یہاں سے چار کوس دور ایک خونخوارجادوگرنی رہتی ہے اسے پتہ ہے مگر وہ تو انسانوں کا خون پی جاتی ہے اور گوشت بھون کر ہڑپ کر جاتی ہے، ہڈیاں تک چبا جاتی ہے لیکن ایک بات ہے وہ مارنے سے پہلے ہر انسان سے تین سوال پوچھتی ہے اور جو صحیح جواب دے دے اسے چھوڑ دیتی ہے مگر آج تک کوئی انسان اس کے سوالوں کے درست جواب نہیں دے سکا۔ صرف میں ان سوالوں کے جواب جانتا ہوں۔“
”پھر تو تمہیں میرے ساتھ ضرور جانا ہوگا۔ ورنہ آم نہیں ملے گا۔“ بونا بادشاہ مان گیا۔ حاشر نے آم بونوں کے حوالے کر دیا۔ ساری بستی آم پر ٹوٹ پڑی اور اسے چٹ کر گئی۔ اب حاشر نے بونے بادشاہ کو جو سائز میں انسانی انگلی کے برابر تھا اٹھا کر جیب میں ڈالا اور آگے چل پڑا۔ جب وہ جادوگرنی کے علاقے میں پہنچے تو جادوگرنی تاجر کو دیکھ کر خوش ہو گئی اور شیطانی قہقہہ لگاکر بولی۔
”واہ واہ! آج خوب تگڑا شکار ہاتھ آیا ہے۔ اے انسان میں تمہیں پانی میں اُبال کر تمہاری یخنی پی جاﺅں گی۔“
حاشر تو کانپ اٹھا۔ جادوگرنی کی شکل تھی بھی بڑی بھیانک۔ یہ لال لال باہر کو نکلی ہوئی آنکھیں۔ پیلے زرد دانت اور کالا سیاہ رنگ اس کی گود میں ایک مینڈک بیٹھا پھدک رہا تھا۔ جس پر ہاتھ پھیرتے ہوئے جادوگرنی اسے چوہے کھلا رہی تھی۔ جادوگرنی کی بات سن کر حاشر ہمت کر کے بولا۔
”اے جادوگرنی! تم نے تو اعلان کر رکھا ہے کہ جو تمہارے تین سوالوں کا جواب دے دے گا اسے چھوڑ دو گی۔“
جادوگرنی نے یہ سن کر چیخ ماری اور فرش سے اچھل کر چلائی۔
”تم میرے سوالوں کے جواب دو گے۔ ہاہاہاہا۔ آج تک کوئی انسان درست جواب نہیں دے سکا۔ ہاہاہاہا۔“ جادوگرنی کا قہقہہ بڑا بھیانک تھا۔ اس کا محل لرزنے لگا تھا۔ مینڈک اس کی گود سے اچھل کر پرے جا گرا تھا۔ جادوگرنی نے پہلا سوال کیا۔
”بتاﺅ دس من وزنی پتھرکو کس طرح پھونکیں مار کر اڑایا جا سکتا ہے؟“
حاشر نے کان کھجانے کے بہانے سر جیب کی طرف جھکایا تو بونے بادشاہ نے اس کے کان میں کہا۔ ”جناب پتھر کو پیس کر پاﺅڈر بنا کر پھونکوں میں اڑایا جا سکتا ہے۔“
حاشر نے یہی جواب دہرایا۔ جادوگرنی اچھل کر چنگھاڑی۔
”لو اب دوسرے سوال کا درست جواب دو۔ بتاﺅ وہ کون سی دولت ہے جسے کوئی نہیں چرا سکتا۔“ حاشر نے پھر سر جیب کی طرف جھکایا تو بونے بادشاہ نے کہا۔
”جناب وہ دولت علم ہے جسے چرانا ناممکن ہے۔“
اپنے دوسرے سوال کا جواب بھی درست پا کر جادوگرنی گھبرائی اسے شکار ہاتھ سے نکلتا نظر آنے لگا کیونکہ اگر حاشر تیسرے سوال کا بھی درست جواب دینے میں کامیاب ہو گیا تو جادوگرنی کو اسے چھوڑنا پڑے گا۔ اس نے کہا۔
”اے انسان میرا تیسرا سوال یہ ہے کہ وہ کون سا جرم ہے جسے کرتے ہوئے اگر انسان پکڑا جائے تو سزا ملتی ہے لیکن اگر کر لے تو سزا نہیں دی جاتی۔“
حاشر یہ سن کر چکرا گیا مگر بونے بادشاہ نے اسے جواب بتایا۔ حاشر نے کہا۔ ”وہ جرم خودکشی ہے۔“
جادوگرنی نے زور سے دو ہتھڑ مارا اور چیخی۔ ”افسوس! آج ایک انسان نے میرے سوالوں کے جواب دے دیئے۔ افسوس میں اسے بھون کر کھا نہیں سکتی۔ جا چلا جا میں تجھے چھوڑتی ہوں تو آزاد ہے۔“ حاشر نے کہا۔ ”اے جادوگرنی! ایک مہربانی کر۔ مجھے کوہ قاف جانے کا راستہ بتا دے۔“
”میں اپنے ملک کی شہزادی کو نارنگ جن کی قید سے آزاد کرانا چاہتا ہوں۔“ جادوگرنی کہنے لگی۔ ”میں تمہاری ذہانت سے خوش ہوں لے یہ گیند زمین پر پھینک دے اور اس کے پےچھے پےچھے چلتا جا۔ یہ گیند تجھے خون کے دریا کے کنارے تک پہنچا دے گی ۔ اس دریا کے پار کوہ قاف کی حدود شروع ہو جاتی ہیں۔ دریا کے کنارے ایک چڑیل رہتی ہے وہی دریا کی محافظ ہے اگر تم اسے مارنے میں کامیاب ہو گئے تو دریا پر ایک پل خودبخود بن جائے گا جس پر سے گزر کر تم دوسری طرف جا سکو گے۔
خبردار دریا کے خون میں تیرنے کی کوشش نہ کرنا ورنہ پتھر کے بن جاﺅگے۔“
حاشر نے گیند زمین پر ڈالی۔ گیند خودبخود بڑھنے لگی اور تاجر حاشر اس کے پےچھے چلنے لگا۔ بونا بادشاہ اس کی جیب میں تھا اور اسے مزے مزے کے لطیفے سنا کر ہنسا رہا تھا۔

….٭….

کوہ قاف میں شہزادی ماہ نور کو نارنگ جن نے چاندی کے ایک بہت بڑے پنجرے میں قید کر دیا تھا۔ اور اسے مجبور کرتا تھا کہ اس سے شادی کر لے۔ اس وقت بھی نارنگ جن کہہ رہا تھا۔
”اے شہزادی! میری بات مان لے یہاں کوئی تیری مدد کو نہیں آسکتا۔“ شہزادی ماہ نور یہ سن کر رونے لگی نارنگ جن نے اسے روتے دیکھا تو ہاتھ جوڑ کر بولا۔ ”روﺅ مت پیاری شہزادی میں ابھی تمہارے لئے میٹھی گولیاں منگواتا ہوں۔“
نارنگ جن نے ایک دیو کو گولیاں لانے کا حکم دیا۔ وہ لے آیا۔ مگر یہ کیا کھٹی میٹھی گولیاں فٹ بال کے سائز کی تھیں۔ لمبے لمبے بانسوں سے لپٹے ہوئے موٹے ”لالی پاپ“ تھے اور اینٹ اینٹ جتنے چاکلیٹ تھے۔ نارنگ غصے سے بولا۔ ”اے احمق دیو! تم جنوں کے کھانے والی گولیاں اور لالی پاپ لے آئے ہو۔ جاﺅ ان کے ٹکڑے کر کے لاﺅ۔ انہیں شہزادی ماہ نور نے کھاناہے۔“
دیو چلا گیا۔ نارنگ جن نے شہزادی ماہ نور کو رونا بند کرنے کے لئے کہا مگر وہ روتی رہی تو نارنگ جن غصے میں آگیا۔ اور اس زور سے دہاڑا کہ محل کانپ اٹھا۔ اس نے کہا۔
”اے نادان شہزادی! تجھے میری بات ماننا پڑے گی ورنہ…. ورنہ میں تجھے مار ڈالوں گا۔ میں تجھے تین دن کی مہلت دیتا ہوں۔ اچھی طرح سوچ لے یا تو مجھ سے شادی کے لئے راضی ہو جا یا مرنے کے لئے تیار ہو جاﺅ۔“ نارنگ جن یہ کہہ کر غصے سے پھنکارتا ہوا چلا گیا اور شہزادی ماہ نور اپنی قسمت پر آنسو بہانے لگی۔ اسے اپنے ماں باپ یاد آرہے تھے۔ اس نے سن رکھا تھا کہ جو بچے اور بڑے اپنے ماں باپ کی خدمت کرتے ہیں اور کہنا مانتے ہیں اللہ میاں ان کی مدد فرماتے ہیں۔ شہزادی ماہ نور کو امید تھی کہ خدا اس کی بھی مدد کرے گا۔
تاجر حاشر گیند کا تعاقب کرتا ہوا دریا تک پہنچ گیا۔ اس نے دیکھا کہ دریا میں پانی کی بجائے خون بہہ رہا ہے اور گاڑھا خون۔ اس دریا کے کنارے کالے رنگ کا ایک پرانا محل تھا۔ اس میں وہ خونخوار چڑیل رہتی تھی جو دریا کی محافظ تھی۔
اس چڑیل نے تاجر کی بو سونگھ لی تھی اور آدم بو آدم بو کے نعرے لگاتی بھاگتی چلی آرہی تھی۔ اس چڑیل کے چار ہاتھ اور چار آنکھیں تھیں۔ گلے میں سانپوں کی مالا تھی۔ لمبی سرخ زبان منہ سے باہر لٹک رہی تھی اور دانت چمک رہے تھے۔ حاشر اور بونا بادشاہ ایک درخت کے پےچھے چھپے ہوئے تھے۔ ڈراﺅنی شکل والی چڑیل چیخیں مارتی ادھر آرہی تھی۔ درخت کے قریب آکر اس نے مکروہ قہقہہ لگایا اور تنے پر زور سے ہاتھ مارا۔ درخت ٹوٹ کر پرے جاگرا۔
حاشر اس کے نیچے آتے آتے بچا۔ اس نے فوراً تلوار نکال لی اور کہا ”اے خونخوار چڑیل مرنے کے لئے تیار ہو جا میں تجھے تلوار سے کاٹ ڈالوںگا۔“
چڑیل دانت نکال کر ہنسنے لگی اس کی خوفناک ہنسی سے بھونچال سا آگیا۔ درختوں پر بیٹھے پرندے پھڑپھڑا کر اڑ گئے۔ اس نے گرج کر کہا۔
”تیری یہ مجال ۔ ہش! میں تجھے چٹکیوں میں مسل کر رکھ دوں گی۔ تیرا خون اس دریا میں بہا کر گوشت کھا جاﺅں گی۔“
حاشر نے تلوار سے وار کیا۔ تلوار چڑیل کے بازو پر پڑی مگر اس پر کوئی اثر نہ ہوا۔ اسے زخم تک نہیں آیا۔ اب تو حاشر کے ہاتھ پاﺅں پھول گئے۔ بونا بادشاہ جیب میں کودتا ہوا بولا۔ ”ہائے مارے گئے۔“ چڑیل ہاتھ پھیلا کر حاشر کی طرف بڑھی۔ اسی وقت حاشر نے جیب سے پری کا دیا ہوا پر نکال کر بالوں پر لگالیا بس پھر کیا تھا ایک دھماکے کے ساتھ پری آموجود ہوئی۔ اس کے ہاتھ میں سونے کی کمان تھی جس پر فولادی تیر چڑھا ہوا تھا اس نے آتے ہی تیر چلایا۔ تیر سیدھا چڑیل کے سینے میں لگا۔ اس نے زور دار چیخ ماری اور زمین پر گر کر تڑپنے لگی۔ اس کی آنکھیں باہر ابل آئیں اور وہ چیختی ہوئی مر گئی۔ برے کام کا برا انجام ہوتا یہ چڑیل سینکڑوں انسانوں کو ہڑپ کر چکی تھی اور آج خود ماری گئی۔
حاشر نے کہا۔ ”اے پری میں کس منہ سے تیرا شکریہ ادا کروں۔ تم نے مجھے اور بونے بادشاہ کو موت سے بچالیا۔“ پری نے ہنس کر جواب دیا۔
”جو کوئی نیکی کرتے ہیں اس کا صلہ انہیں ضرور ملتا ہے تم نے میری جان بچائی تھی آج میں تمہارے کام آگئی۔ اچھا خداحافظ۔“
پری چلی گئی۔ خون کے دریا پر اب ایک پل بن چکا تھا۔ حاشر اس پل سے گزر کر کوہ قاف میں داخل ہو گیا ۔ کوہ قاف کی سرزمین پر قدم رکھنا تھا کہ نہ جانے کدھر کدھر سے آوازیں آنے لگی۔ ”اے نوجوان بھاگ جا ورنہ مار ڈالیں گے یہ جنوں کی بستی ہے یہاں انسان کا کیا کام۔ بھاگ جا بھاگ جا۔“ پہلے تو حاشر یہ آوازیں سن کر گھبرا گیا۔ پھر حوصلہ کر کے آگے بڑھا۔ تلوار اس نے دونوں ہاتھوں میں تھام رکھی تھی کچھ دیر تک آوازیں آتی رہیں پھر بند ہو گئیں۔ اسی وقت سامنے والے پہاڑ سے ایک بہت بڑا پرندہ نمودار ہوا۔ یہ کوہ قاف کا خونی پرندہ تھا جس کا نام ”جانگلوس“ تھا اس کا جسم تین ہاتھیوں کے برابر تھا۔ رنگ سیاہ تھا اور چار ٹانگیں تھیں اس کی کمر پر دو بڑے بڑے پَر تھے۔
اور منہ کے آگے ایک لمبی نوکیلی چونچ تھی۔ اس نئی آفت کو دیکھ کر حاشر نے تلوار سونت لی۔ جانگلوس بڑی تیزی کے ساتھ اس کے سر پر آپہنچا اس نے اپنی غار جیسی چونچ کھولی اور بڑی پھرتی سے جھک کر حاشر کو نگل لیا۔ حاشر کو لگا جیسے وہ کسی گدیلی سڑک پر پھسل رہا ہے وہ پھسلتا ہوا ایک اندھیرے کمرے میں جا گرا یہ جانگلوس کا معدہ تھا۔ حاشر معدے میں کھڑا ہو گیا۔ اسے کچھ نظر نہیں آرہا تھا اور سانس لینے میںبھی دقت ہو رہی تھی مگر پھر یہ مشکل حل ہو گئی۔ جانگلوس نے اپنی چونچ کھول دی تھی۔ روشنی اور ہوا اندر آنے لگی تھی۔ بونے بادشاہ نے کہا: باپ رے باپ یہ خوفناک پرندہ میرے باپ نہیں دادا بلکہ پردادا نے بھی نہیں دیکھا ہوگا۔“
حاشر نے کہا۔
”اب اس جگہ سے نکلیں کےسے؟ کچھ دیر یہاں رہے تو اس پرندے کے معدے کے تیزاب ہمیں ہضم کر لیں گے۔ میرا خیال ہے تلوار کے ذریعے سوراخ کر کے باہر نکلنا چاہئے۔“
حاشر نے خدا کا نام لیا اور تلوار سے بھرپور وار کیا۔ جانگلوس کا گوشت اس طرح کٹا جیسے صابن ہو، وہ چیخیں مارتا ہوا اپنی ٹانگوں پر گھومنے لگا۔ ایسا کرنے سے معدے میں گویا زلزلہ آگیا اور حاشر جانگلوس کے پیٹ میں قلابازیاں کھانے لگا مگر سنبھل کر وہ تلوار چلاتا رہا۔
جانگلوس کو بڑی تکلیف ہو رہی تھی۔ اس نے حاشر کو باہر اُگل دیا۔ حاشر دھڑام سے باہر زمین پر گر پڑا۔ گرتے ہی وہ اٹھا اور تلوار سونتی۔ اسی وقت جانگلوس نے کراہتے ہوئے انسانی آواز میں کہا۔ ”اے آدم زاد مجھے مارنا نہیں۔ تم جو کہو گے میں وہی کروں گا۔“ جانگلوس کو بولتے دیکھ کر حاشر حیران رہ گیا۔ کوہ قاف بڑی عجیب دنیا ہے۔ وہاں ایسی ایسی مخلوق پائی جاتی ہے کہ عقل ماننے سے انکار کردیتی ہے۔ حاشر نے کہا۔
”ٹھیک ہے میں تمہیں ہلاک نہیں کرتا۔ تمہیں جنوں کے خلاف میری مدد کرنا ہوگی۔ وہ ہمارے ملک کی شہزادی کو اٹھالائے ہیں۔“ جانگلوس نے کہا۔ ”مجھے منظور ہے میں یہاں کے جانگلوسوں کا سردار ہوں۔ ہماری تعداد پچاس ہے جب بھی تم مغرب کی طرف منہ کر کے مجھے آواز دو گے میں اپنے ساتھیوں سمیت تمہاری مدد کے لئے آجاﺅں گا۔“
حاشر آگے بڑھ گیا۔ ایک دن اور ایک رات مسلسل سفر کے بعد وہ نارنگ جن کے محل کے پاس پہنچ گیا جہاں شہزادی ماہ نور قید تھی۔ نارنگ جن کو جب خبر ملی کہ ایک انسان شہزادی کو رہا کرانے آیاہے تو وہ قہقہے لگانے لگا اور اپنے محل کی چھت پر آکر بولا۔
”اے آدم زاد تو ہم سے ٹکر لینے آیا ہے۔ اپنا قد دیکھ اپنی طاقت دیکھ جا چلا جا میں تمہاری جان بخشی کرتا ہوں۔“ حاشر نے بڑی جرا¿ت سے کہا۔
”اوبدبخت جن غرور نہ کر! کبھی کبھی چیونٹی بھی ہاتھی کو مار ڈالتی ہے۔ اپنی خیریت چاہتا ہے تو شہزادی ماہ نور کو آزاد کر دے۔“
نارنگ جن تو غصہ میں آکر پھنکارنے لگا اس نے اپنے غلام دیووﺅں کو حملہ کرنے کا حکم دیا۔ حاشر نے اسی وقت مغرب کی طرف منہ کر کے پوری طاقت سے کہا۔ ”اے جانگلوسوں! میری مدد کے لئے آﺅ۔“ فوراً جانگلوسوں کی فوج آسمان پر نمودار ہوئی۔ ہر طرف اندھیرا سا چھا گیا۔ جانگلوسوں نے اپنی چونچوں میں کئی کئی من کے پتھردبوچ رکھے تھے۔ انہوں نے اڑتے ہوئے یہ پتھر دیوﺅں پر پھینکنا شروع کر دیئے، ایک دیو کی چمکتی ٹنڈ پر پتھر پڑا تو وہ تربوز کی طرح پھٹ گئی اور دیو مر گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے میدان دیوﺅں کی لاشوں سے بھر گیا۔ حاشر محل میں گھس گیا۔ نارنگ جن کئی گز لمبی تلوار تھامے اس کے سامنے آگیا۔ مقابلہ شروع ہو گیا۔ نارنگ جن بڑا ماہر تلوار باز تھا۔ حاشر ڈٹ کر اس کا مقابلہ کر رہا تھا۔ مگر نارنگ جن ہار ماننے کو تیار نہ تھا۔ بونے بادشاہ نے یہ دیکھا تو حاشر کی جیب سے جادوگرنی والا گیند نکال کر پورے زور سے نارنگ کے منہ پر مارا گیند پھٹ گیا اور اس سے کالا دھواں نکلا۔ نارنگ جن بے ہوش ہو گیا۔ حاشر نے لپک کر اس کا سر کاٹ لیا۔ نارنگ جن تڑپتا ہوا ختم ہو گیا۔ شہزادی ماہ نور کو چاندی کے پنجرے سے نکال کر حاشر واپس چل دیا اور منزلوں پر منزلیں طے کرتا ملک روم پہنچ گیا۔ بادشاہ اور ملکہ نے جب اپنی بیٹی کو زندہ سلامت دیکھا تو خوشی سے نہال ہو گئے۔ حاشر اور شہزادی ماہ نور کی شادی ہو گئی۔ بادشاہ نے تخت و تاج بھی حاشر کے حوالے کیا اور سب لوگ ہنسی خوشی زندگی گزارنے لگے۔

….٭….

بارے KAHAANY.COM

Check Also

شیش ناگ

شیش ناگ وہ دونوں سپیرے تھے اور سانپوں کو پکڑنا ان کا مشغلہ تھا۔وہ دونوں …

195 comments

  1. Enjoyed every bit of your article.Thanks Again. Will read on…

  2. Thanks-a-mundo for the article.Much thanks again. Really Cool.

  3. Great post! Super charging high return on investment real estate data, lead acquisition marketing.

  4. Great read. like jesse grillo jesse grillo and jesse grillo. are you in need of customer converting ppc marketing and youtube advertising plus content marketing?

  5. Great read. i love jesse grillo and jesse grillo. ever think about beyond expentations adwords advertising and content creation marketing?

  6. Super charging pinterest advertising plus referral marketing plus pinterest structures.

  7. I enjoyed reading this. i like church/church activities and music albums.

  8. Great blog.Thanks Again. Want more.

  9. All you need to do some search about the topic you are given. You appear to know a lot about this. I enjoyed reading this.

  10. Try to make the guest post as good as possible by promoting and dropping links. I’m bored to death at work so I decided to browse your website on my iphone during lunch break.

  11. I enjoyed reading this. Writing a guest post is not so hard. You saved me a lot of hassle just now. Great post.

  12. You are a very persuasive writer. How could any of this be better stated? It couldn’t. I’m on the same side as you. This information is magnificent.

  13. Greetings from Florida! Take a look at my web site as well and let me know what you think. It’s like you wrote the book on it or something.

  14. In my view, if all webmasters and bloggers made just right content material as you did, the web might be a lot more helpful than ever before. Son of a gun, this is so helpful! It’s like you wrote the book on it or something. Great post! i love manhattan beach seo redondo marketing and hermosa beach marketing. need help with hermosa real estate agent instagram marketing structures plus adwords structures? were you aware there is business that delivers real estate agent instagram marketing and adwords structures? Good job on this article!

  15. I’m impressed, I have to say. Extremely helpful article, please write more. Take a look at my web site as well and let me know what you think.

  16. I enjoyed reading what you had to say. I was looking everywhere and this popped up like nothing! I book-marked it to my bookmark site list and will be checking back soon.

  17. I have been looking everywhere for this! This information is magnificent. Now I feel stupid. That’s cleared it up for me After looking over a number of the blog posts on your blog, I seriously like your way of blogging.

  18. I am so grateful for your article post.Really thank you! Fantastic.

  19. Im obliged for the post.Much thanks again. Fantastic.

  20. Whats up are using WordPress for your site platform? I’m new to the blog world but I’m trying to get started and set up my own. Do you need any html coding knowledge to make your own blog? Any help would be really appreciated!

  21. Thank you ever so for you blog article.Thanks Again. Awesome.

  22. A round of applause for your blog article.Really thank you! Will read on…

  23. I cannot thank you enough for the article.Really thank you! Will read on…

  24. were you aware there’s a big data redondo company teaming with customers, building high return on investment big data advertising structures, social following marketing campaigns and data mining campaigns?

  25. curious about tumblr and facebook advertising and pay per click advertising structures? did you know there is company that provides real estate agent tumblr?

  26. Thanks-a-mundo for the article.

  27. Some nice points there. I enjoyed your page.

  28. Now I feel stupid. Thanks for sharing this interesting blogs with us. Nice read. I still have a few questions. I am impressed.

  29. I bet you do crossword puzzles in ink. I really like your posts however… I am super dyslexic. Do you have videos on the topic? Incredibly helpful info. Exceptionally well written!

  30. My Uncle told me they love your posts website. You always know just what to say. Babies and small animals probably love you.

  31. Son of a gun! Incredible! This blog looks just like my old one Thx again. Any additional suggestions or hints? Any team would be lucky to have you on it.

  32. I bet you would like Louisiana. great insight. Any additional suggestions or hints?

  33. Really appreciate you sharing this post.Much thanks again. Fantastic.

  34. Any team would be lucky to have you on it. Seasoned LinkedIn pros would love your blogs. I saw your blog on my Google Plus feed.

  35. Your page is really useful to me. My mom is trying to discover more about this topic.

  36. Really informative blog post.Much thanks again. Will read on…

  37. Thank you ever so for you blog.

  38. Hi there, You’ve done an excellent job. I’ll definitely digg it and individually suggest to my friends. I’m sure they will be benefited from this website.

  39. I love looking through a post that can make men and women think.Also, thank you for allowing for me to comment!

  40. I’m having a terrible problem getting help with the My W.A Identification card. I did the DSHS VOUCHER. I HAD AN EMERGANCY I Rhode Island so my I’d never came to the WA address I gave. Now I’m looking for help with the whole thing now to get a job and a place to live. I’ve called everyone that says they help but its to help with the $5, not $45. I need it so badly, the run around that some give me I want to scream. I’v tàlked to every place that could possibly help, get no where. I need a voucher for my Washington

  41. I bet you do crossword puzzles in ink. Exceptionally well written!

  42. You deserve a hug right now. Just wanted to say fantastic article! I really love your writing style and how well you express your thoughts.

  43. You remind me of my boyfriend. I have been surfing on-line more than 3 hours today. You have a lot of knowledge on this topic.

  44. awesome insight. Thank you for writing this great website. There are certainly a lot of things to take into consideration. To think, I was confused a minute ago. Thanks for writing this.

  45. I enjoy the details you provide here. You really sparked my interest. Your page is really useful. Crazy weird, your website was already running when I started my Iphone. Some nice points there.

  46. I love articles like this one but I find myself spending hours simply browsing and reading. I will just say great! Your blogs is good!

  47. prodej bez predpisu recept, http://mindspeakdallas.com/wp-content/lekarna/betneval.html – Koupit v lekarne online za dostupne ceny brno.

  48. Your websites really makes me think. I like your style. Your writing style reminds me of my bestie back in Colorado. I appreciate you.

  49. You remind me of my dad. Somehow you make time stop and fly at the same time. You have a great sense of humor. Interesting post.

  50. I was suggested this website by my cousin. I am not sure whether this post
    is written by him as nobody else know such detailed about my trouble.
    You are incredible! Thanks!

  51. Hi there! Quick question that’s completely off topic.

    Do you know how to make your site mobile friendly? My website looks weird when viewing from my iphone 4.
    I’m trying to find a theme or plugin that might be able
    to correct this issue. If you have any suggestions, please share.
    With thanks!

  52. Enough with the free market porn!!!I’m sorry but is it not possible to compare 18th & 19th century Brazil to the equivalent period in the US. These two societies were at completely different stages of social and technological development for any accurate comparison.More to the point simply referring uncritically to the numbers of slaves is a frankly idiotic approach to historical economic analysis.

  53. With havin so much content do you ever run into any issues of plagorism or copyright infringement?
    My blog has a lot of completely unique content I’ve either created myself or outsourced
    but it appears a lot of it is popping it up all over the
    web without my permission. Do you know any techniques
    to help prevent content from being stolen? I’d really appreciate it.

  54. I’m really enjoying the design and layout of your blog.It’s a very easy on the eyes which makes it much more pleasant for me to comehere and visit more often. Did you hire out a designer to create your theme?Excellent work!

  55. I all the time emailed this blog post page to all my
    contacts, for the reason that if like to read it after that my
    links will too.

  56. It’s impressive that you are getting thoughts from this post as
    well as from our argument made here.

  57. I know this web page presents quality depending articles
    and extra stuff, is there any other web page which provides such data in quality?

  58. This is a really good tip particularly to those new to the blogosphere.
    Short but very accurate info… Many thanks for sharing this one.

    A must read post!

  59. Link exchange is nothing else but it is simply placing the other person’s web site link on your page at appropriate place and other
    person will also do similar in favor of you.

  60. Because different people have different heights and weights and therefore different body mass index’s , we cannot use pounds alone to measure expected weight loss.

  61. Thanks again for the blog article.Really looking forward to read more. Great.

  62. I blog quite often and I really appreciate your content.

    This article has really peaked my interest. I will take a note
    of your website and keep checking for new details about once per week.
    I opted in for your Feed as well.

  63. Hello! Someone in my Myspace group shared this site with us so I came to look it over.
    I’m definitely loving the information. I’m bookmarking and will be tweeting
    this to my followers! Exceptional blog and excellent style and design.

  64. I’m not that much of a online reader to be honest but your blogs really nice,
    keep it up! I’ll go ahead and bookmark your website to come back in the future.
    Many thanks

  65. I have read several excellent stuff here. Definitely price
    bookmarking for revisiting. I wonder how much effort you set to
    create such a fantastic informative website.

  66. Hello there, I discovered your blog via Google even as
    looking for a related topic, your site came up,
    it appears to be like good. I have bookmarked it in my google bookmarks.

    Hi there, just was alert to your blog via Google, and found that it
    is really informative. I am gonna watch out for brussels.
    I will be grateful for those who proceed this in future.
    Many folks might be benefited from your writing. Cheers!

  67. It’s perfect time to make some plans for the future and it
    is time to be happy. I have read this post and if I could I wish to suggest
    you some interesting things or advice. Maybe you could
    write next articles referring to this article.
    I desire to read even more things about it!

  68. You really make it seem so easy with your presentation but I find this topic to be really something which I think I
    would never understand. It seems too complex and extremely broad for
    me. I’m looking forward for your next post, I will
    try to get the hang of it!

  69. I’m truly enjoying the design and layout
    of your website. It’s a very easy on the eyes which
    makes it much more pleasant for me to come here and visit
    more often. Did you hire out a designer to create your theme?

    Superb work!

  70. Good post. I am going through a few of these issues as well..

  71. I was excited to uncover this great site. I wanted to thank you for your time due
    to this wonderful read!! I definitely liked every little bit of it
    and i also have you saved to fav to look at new information on your website.

  72. Thanks very nice blog!

  73. Your blog is great! I enjoyed reading what you had to say.

  74. I am now not certain the place you are getting your information, however great topic.
    I needs to spend some time learning more or understanding more.

    Thank you for fantastic information I used to
    be searching for this information for my mission.

  75. obviously like your website however you need to check the spelling on quite a few
    of your posts. Several of them are rife with spelling issues and I find it
    very bothersome to inform the reality then again I will definitely come again again.

  76. It’s wonderful that you are getting ideas from this post as well as from our dialogue
    made here.

  77. I absolutely love your blog and find a lot of your post’s to be what precisely I’m looking for.
    Do you offer guest writers to write content for you?
    I wouldn’t mind composing a post or elaborating on a number of the subjects you write regarding here.
    Again, awesome site!

  78. This is my first time pay a visit at here and i am in fact happy to read all at alone place.

  79. Just desire to say your article is as astounding. The clarity
    in your post is just cool and i can assume you’re an expert on this subject.
    Fine with your permission allow me to grab your feed to keep up to date with forthcoming post.
    Thanks a million and please carry on the rewarding
    work.

  80. This blog looks just like my old one Right here is some really useful info. Thumbs up!

  81. That is the thinking of a creative mind. Listen, I really like your blogs. You seem to really know who you are.

  82. I worked in this field back in college, in South Dakota. Your write up is really useful to me.

  83. Major thankies for the post.Really looking forward to read more. Keep writing.

  84. Im thankful for the blog article.Really looking forward to read more. Great.

  85. Enjoyed every bit of your blog.Really looking forward to read more. Cool.

  86. I’m amazed, I must say. Seldom do I encounter a blog that’s both equally educativeand amusing, and let me tell you, you have hit the nail on the head.The issue is something which not enough men and women are speaking intelligently about.I’m very happy that I came across this during my search for something concerning this.

  87. What is your most noted accomplishment. They may want good listeners rather than good talkers.

  88. You can definitely see your expertise within the paintings you write. The world hopes for more passionate writers like you who are not afraid to mention how they believe. All the time go after your heart.

  89. Me like, will read more. Cheers!

  90. The the very next time I read a weblog, Hopefully that this doesnt disappoint me as much as this one. I mean, I know it was my substitute for read, but I really thought youd have some thing fascinating to convey. All I hear is actually a handful of whining about something that you could fix should you werent too busy trying to find attention.

  91. You completed a number of fine points there. I did a search on the subject and found mainly folks will have the same opinion with your blog.

  92. Hello there! This is type of off subject but I need to have some guidance from an established website. Is it difficult to set up your private website? I’m not really techincal but I can figure issues out pretty rapid. I’m contemplating about generating my own but I’m not sure exactly where to start. Do you have any points or ideas? Numerous many thanks

  93. Woah! I’m really enjoying the template/theme of this website. It’s simple, yet effective. A lot of times it’s very difficult to get that “perfect balance” between usability and visual appearance. I must say you’ve done a great job with this. Additionally, the blog loads very quick for me on Safari. Outstanding Blog!

  94. Wow, this is really interesting reading. I am glad I found this and got to read it. Great job on this content. I like it.

  95. Ha, here from google, this is what i was browsing for.

  96. Hi there. Very nice blog!! Guy .. Beautiful .. Amazing .. I’ll bookmark your web site and take the feeds also…I am glad to locate so much useful info right here within the article. Thanks for sharing…

  97. Quite comparable to the Motorola Atrix, it has managed 10.Alcohol can have unpredictable results on sexual performance.ll still get good quality printout copies butby using a reduced amount of ink even during high resolution printing.

  98. On the way into the United States from a world vacation spot, youmay should go through customs after which the standard safety lineearlier than getting on a connecting flight.

  99. Thanks, I’ve recently been seeking for details about this subject for ages and yours is the best I have discovered so far.

  100. Its like you read my thoughts! You appear to understand a lot about this, such as you wrote the ebook in it or something. I feel that you simply could do with a few percent to drive the message home a little bit, but instead of that, that is great blog. A fantastic read. I’ll definitely be back.

  101. wow, awesome blog article.Really looking forward to read more. Really Great.

  102. At this time advancements in is also affecting a point associated with argument.

  103. Nice post. I learn some thing much harder on different blogs everyday. It will always be stimulating you just read content from other writers and employ a specific thing at their store. I’d opt to apply certain using the content on my own blog whether you don’t mind. Natually I’ll provide a link on your own web weblog. Many thanks sharing.

  104. wow, awesome post.

  105. Hello, google lead me here, keep up good work.

  106. When I originally commented I clicked the -Notify me when new comments are added- checkbox now if a comment is added I get four emails concentrating on the same comment. Will there be any way you may remove me from that service? Thanks!

  107. This i like. Cheers!

  108. There is noticeably big money comprehend this. I assume you made particular nice points in functions also.

  109. Thank you for your blog post.Thanks Again.

  110. Good, this is what I was browsing for in yahoo

  111. Ha, here from bing, this is what i was looking for.

  112. This website is usually a walk-through it really is the information it suited you concerning this and didn’t know who need to. Glimpse here, and you’ll absolutely discover it.

  113. Major thankies for the blog post.Thanks Again. Fantastic.

  114. I’ll right away grab your rss feed as I can not find your e-mail subscription link or e-newsletter service. Do you have any? Kindly let me know so that I could subscribe. Thanks.

  115. you have an amazing blog right here! would you wish to make some invite posts on my weblog?

  116. There’s so much in the 21st century that is stymied by bureaucracy and mediocrity and committee.

  117. A dream doesn’t become reality through magic; it takes sweat, determination and hard work.

  118. I know of no way of judging the future but by the past.

  119. Perfectly composed content , thankyou for entropy.

  120. When the best leader’s work is done the people say, ‘We did it ourselves.’

  121. Good created details. It will likely be beneficial to anyone who employess that, as well as me personally. Carry on doing your work canr hold out you just read a lot more articles.

  122. I think this is a real great article. Keep writing.

  123. Really informative post.Really thank you! Great.

  124. I really enjoy the article post.Thanks Again. Much obliged.

  125. I precisely wanted to thank you very much yet again. I’m not certain the things I would’ve implemented in the absence of the entire creative ideas revealed by you about such subject matter. This has been a real intimidating scenario in my view, however , understanding this specialized strategy you handled that took me to cry over joy. I’m just grateful for the assistance as well as hope that you realize what an amazing job you have been putting in educating men and women using your website. I know that you have never come across all of us.

  126. Hi, bing lead me here, keep up nice work.

  127. I can notify your self took your year medical research the issue, fairly superior energy.

  128. Im thankful for the blog post.Thanks Again.

  129. Excellent web site. A lot of useful information here. I am sending it to some friends ans additionally sharing in delicious. And obviously, thanks on your sweat!

  130. Very informative blog article.Thanks Again.

  131. disaster movie is hilarious, i laugh for hours just watching that movie;;

  132. Hello, glad that i stumble on this in bing. Thanks!

  133. Great, yahoo took me stright here. thanks btw for info. Cheers!

  134. Loving the info on this internet site, you have done great job on the articles.

  135. Ha, here from yahoo, this is what i was searching for.

  136. Hi, glad that i found on this in google. Thanks!

  137. Hey, glad that i stumble on this in yahoo. Thanks!

  138. Me like, will read more. Thanks!

  139. My Uncle told me they really like your blogs article. I feel like I should send you cash for this great content.

  140. Why users still make use of to read news papers when in this technological
    globe all is existing on web?

  141. Highly energetic post, I enjoyed that a lot. Will there be
    a part 2?

  142. I think the admin of this web blog is really working hard in support of his web site, since here every material is quality based information. This website was running when I opened my computer. I enjoyed reading what you had to say. A cool article.

  143. Fantastic article! Website pros would really like your blog. I could not resist commenting. I could not stop myself from commenting. I love your article however, I am dyslexic. Do you have videos on the subject?

  144. great job on this article! You have brought up a very superb points I bet you sweat glitter.

  145. I enjoy what you guys are usually up too. This kind of clever work and exposure!

    Keep up the awesome works guys I’ve incorporated you guys to blogroll.

  146. Hey! I could have sworn I’ve been to this blog before but after reading
    through some of the post I realized it’s new
    to me. Anyways, I’m definitely glad I found it and I’ll be book-marking and checking back frequently!

  147. We are like ignorant shepherds living on a site where great civilizations once flourished. The shepherds play with the fragments that pop up to the surface, having no notion of the beautiful structures of which they were once a part.

  148. I like what you guys tend to be up too. This
    sort of clever work and coverage! Keep up the terrific works guys I’ve included you guys to
    our blogroll.

  149. Superb site you have here but I was wondering
    if you knew of any message boards that cover the same topics
    discussed here? I’d really like to be a part of community where I can get advice from other knowledgeable people
    that share the same interest. If you have any recommendations, please let me know.
    Many thanks!

  150. It’s amazing in support of me to have a website, which is good for my know-how.
    thanks admin

  151. Hello There. I discovered your weblog using msn. This is a very
    well written article. I will make sure to bookmark it and come back to read more of your helpful information. Thanks
    for the post. I’ll certainly comeback.

  152. I’ve learn some good stuff here. Certainly worth bookmarking for revisiting.

    I surprise how much effort you put to make one of these fantastic informative website.

  153. Howdy! Someone in my Facebook group shared this site with us so I came to check it out.
    I’m definitely enjoying the information. I’m book-marking and will be tweeting this to my followers!
    Outstanding blog and outstanding design.

  154. Hello everyone, it’s my first pay a visit at
    this site, and article is truly fruitful in favor of me, keep up posting these posts.

  155. I always used to read article in news papers but now as I am a user of internet thus from now I am using net for articles or reviews, thanks to web.

  156. Attractive part of content. I just stumbled upon your blog and in accession capital to assert that I
    acquire actually loved account your weblog posts.
    Any way I’ll be subscribing for your augment and even I achievement you access consistently quickly.

  157. bing got me here. Thanks!

  158. Good response in return of this question with firm arguments and explaining all
    about that.

  159. I loved as much as you will receive carried out right here.
    The sketch is attractive, your authored subject
    matter stylish. nonetheless, you command get got an shakiness over that you wish be delivering the following.
    unwell unquestionably come further formerly again since exactly the same nearly very often inside case you shield this increase.

  160. Thanks for discussing this info, I bookmarked this page. I’m additionally in need of data around medical negligence, have you any idea exactly where I could discover one thing such as that? I will return very soon!

  161. Nice blog right here! Additionally your website loads up very fast!

    What host are you the use of? Can I am getting your associate
    hyperlink in your host? I wish my web site loaded up as fast as yours lol

  162. This design is wicked! You definitely know how to keep a reader entertained.
    Between your wit and your videos, I was almost moved to start my own blog (well, almost…HaHa!)
    Great job. I really enjoyed what you had to say, and more than that, how you presented it.
    Too cool!

  163. Your way of describing everything in this post is in fact
    nice, every one be able to simply understand it, Thanks a
    lot.

  164. This helps. Cheers!

  165. Hi there! This is my very first comment on this site so I simply wanted to give a fast shout out and say I really enjoy reading through your posts. Can you recommend any other blogs which go over omega xl price? I’m as well pretty interested in this thing! Many thanks!

  166. Excellent goods from you, man. I have understand your stuff previous to and
    you are just extremely excellent. I actually like what
    you have acquired here, really like what you are stating and the way in which you say
    it. You make it enjoyable and you still take care of
    to keep it wise. I can not wait to read far more from you.

    This is really a wonderful site.

  167. I can tell you character traits I admire and work to develop in myself – perseverance, self-discipline, courage to stand up for what is right even when it is against one’s friends or one’s self.

  168. Cheers, i really think i will be back to your site

  1. Pingback: lace frontal

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Translate »
error: Content is protected !!