مسکن / رومانی / جو بویا وہی۔۔۔۔! ۔۔۔ از ۔۔۔ ناہید طاہر

جو بویا وہی۔۔۔۔! ۔۔۔ از ۔۔۔ ناہید طاہر

جو بویا وہی۔۔۔۔!

ناہید طاہر

………………………………

شام کافی سرد تھی خوبصورت عمارت میں داخل ہونے کے بعد اندر کے گھٹن آمیز ماحول اور وہاں کی عجیب سی ہولناکی پر مجھے اپنے وجود میں اداسی کی ایک لہر سرایت کرتی ہوئی محسوس ہوئی میں نے سر کو خفیف انداز میں ہلکا ساجھٹکادیا ، وارڈن سے اپنا اور جماعت کی ساتھیوں کا تعارف کروایا ۔اولڈایج ھوم کا حال احوال جاننے کی خواہش ظاہر کی ۔وارڈن ہمیں خواتین سے ملنے کی اجازت دے دی۔کچھ تحفے جو ساتھ لائے تھے وہ وارڈن کے حوالے کئےاوربےتابی سے راہداری عبور کرتے ہوئے ایک بڑے ہال میں پہنچ گئے جہاں ترتیب سے سنگل بیڈ بچھے تھے جوسارے  فل تھے  ایسا لگ رہا تھا ہم کسی سرکاری ہسپتال میں آگئے ہیں۔۔۔۔۔ یہاں بہت سی ضعیف العمر خواتین تھیں ان کے چہروں پر اداسی اور غم کےبادل چھائے ہوئے تھے بہت خستہ حال، ایسا لگ رہا تھا زندگی کی صلیب پر کھڑے کراہ رہے ہیں ، نہ تو موت  تک ان کی پہنچ  ہے  اور ناہی راحت انکی دسترس میں ۔۔۔۔۔۔!!!

اس کرب ناک ماحول نے میرے دل ودماغ کو ماؤف کیا ،میرے بدن میں ایک جُھرجُھری سی ہونے لگی خود پر قابو پانے کی کوشش کرتی ہوئی بستر پر لیٹی ایک خاتون کی جانب بڑھ گئی

آپ کا نام کیا ہے؟

زینب ! وہ سوکھے لب تلے بدبدائی

آنٹی آپ کو یہاں کسی چیز کی کوئی کمی یا تکلیف  تو نہیں ؟

جواب میں صرف خاموشی ملی

آپ خوش ہیں نا؟ میں نے دوسراسوال کیا

یہ سن کر اُس خاتون  کے سوکھے لب مسکرانے کی کوشش  کئے لیکن انہیں ناکامی میسر ہوئی تو وہ نظریں چرانے لگیں ،ایسا لگ رہا تھا جیسے مسکراہٹ کہی کھو گئی اور وہ اسے پانے کی کشمکش کرتی رہی آخر تھک ہار کر ہانپنے لگیں اس شکست سے انکی آنکھیں جھلک آئیں ۔

آپ رورہی ہیں؟؟؟میرے جسم کے رونگٹے کھڑے ہوئے کیونکہ میری ایک کمزوری کہ میں کسی کی آنکھوں میں آنسو برداشت نہیں کرسکتی ۔

بیٹی  ! راحت وخوشی یہ کس چڑیا کا نام ہے ؟؟؟ اس ضعیف العمر کی آواز مجھےکسی گہرے کنواں سے آتی سنائی دی ۔

آپ کو یہاں کسی چیز کی کوئی کمی تو نہیں ہے؟؟؟ میں نے دوبارہ سوال داغا

یہاں تو نہیں ۔۔۔۔! ہاں البتہ زندگی میں  دو چیزوں کی کمی رہ گئی۔ "خوشی اور دل کاسکون”

مجھے یہ خاتون کافی دلچسپ لگیں۔ میں اس خاتون کے پہلو میں آکر بیٹھ گئی

"آپ بہت غم زدہ دکھائی دیتی ہیں؟”

آپ کن وجوہات کے سبب یہاں لائی گئیں ؟؟؟

میرے اپنے اعمال  !!!وہ زہر آمیز لہجے میں  گویا تھی۔

میں سمجھی نہیں! میں بےچینی سے پہلو بدل کر اس خاتون کے ویران چہرے اور آنکھوں  کو پڑھنے کی کوشش کرنے لگی ۔

اسکا ضمیر شاید غبارے کی طرح پُھول چکا تھا میرا  ہمدردانہ انداز نوکیلا نشتر ثابت ہوا اور غبارہ جیسے پھٹ پڑا ۔

وہ کہنے لگیں۔

جب میری شادی ہوئی تب میں اپنی زندگی کا ہر پل جینا چاہتی تھی اور اُس پل پر صرف ہمارا اپنا اختیار  ہو ، کسی کی مداخلت پسند نہیں تھی، خواہ وہ میری ساس سسر کیوں نہ ہو ! میرا خواب ایک منی جنت چاہتا تھا جس میں صرف میں  میرا شوہر اور میری اولاد بس اس کے علاوہ کسی کا وجود مجھ سے برداشت نہیں ہوتا تھا  اور نہ پسند تھا۔۔۔۔۔۔

بڑے سے آنگن میں نیم کے درخت کے نیچے تخت پر براجمان  منہ میں پان اور ہاتھوں میں سروتا لئے ناشتے کے انتظار میں بیٹھی ساس زہر کی مانند لگتی تھیں ۔۔۔۔ محض ساس کی وجہ سے  نرم بستر اور شوہر کی باہوں سے نکل کرصبح کی خنکی میں کچن کا رخ کرنا ، پل صراط پر گزرنا جیسا تھا

مجھے پتہ نہیں کیوں اپنی ساس سے بے پناہ نفرت ہوتی چلی گئی ان کی کوئی چیز مجھے پسند نہیں تھی صبح اٹھنے کے بعد غلطی سے ان پر نظرپڑتی تو میں نظریں پھیر لیتی کہ دن منحوسیت کے نذر نہ ہوجائے، وہ بے چاری اس کے باوجود میری دلجوئی میں کوئی کسر نہیں چھوڑتیں۔

میں اپنی نفرت سے شکست خوردہ   ان پر ظلم وتشدت کرتی چلی گئی۔۔۔۔۔۔۔میرے شوہر بہت نرم مزاج اوربھولے بھالے انسان تھے ۔۔۔۔۔۔ظاہر بات ہے جب میں ان کی بیوی ہوں تو انہیں ایسا ہی ہونا تھا۔۔۔۔۔دھیرے دھیرے گھر کا سارا کام ساس کے کمزور وجود نے سنبھال لیا۔

بچوں کی دیکھ بھال بھی ان کی ذمے داری تھی۔نوکرانی کا خرچ بھی بچ گیا تھا۔۔۔۔زندگی بڑے ٹھاٹ سے گزررہی تھی کے ایک دن اچانک ساس کا بی پی ہائی ہونے سے انہیں فالج کا اثر ہوا میرے ہاتھوں سے طوطے اڑ گئے، گھر کا ساراکام اور ذمےداری مجھ پر آگئی۔ساس آرام سے بستر پر لیٹی رہتیں اور میں خادموں کی طرح کام میں مصروف ۔!!! میرا غصہ اور جھنجھلاہٹ عروج پر پہنچ گئے ، میں  انہیں دوائی کھلانی بند کر دی۔۔۔۔۔۔۔ان کی زبان بند تھی کسی سے شکایت کرنہیں پاتیں وہ سسک سسک کر آخری سفر طے کی اور اپنا بوجھ اس زمین سے اٹھا لے گئیں۔

اُس بے چاری کی بے بسی کا سوچ کر میری  آنکھیں جھلک آئیں ۔

ارررے۔۔۔۔۔ آپ رونے لگیں۔۔۔۔! وہ خاتون طنز سے مسکرائی اور کہنے لگی آپ نے سنا ہوگا کے بچھو کی اولاد بچھو کا شکم چاک کرتی ہوئی  دنیا میں وارد ہوتی ہے ،بے چارہ مادہ بچھو فوت ہو جاتا ہے۔ آگے اولاد کا انجام بھی یہی ہوتاہے اسکی اولاد بھی شکم چاک کے بعد ہی دنیا میں آتی ہے۔ اللہ تعالی کا فرمان بھی  ہے کہ ماں باپ کے ساتھ کی گئی بدسلوکی کی سزا دنیا میں ہی ملےگی ۔

میرا بیٹا اس شہر کا رئس ترین شخص ہے۔۔۔۔یہ اولڈ ایج ھوم بھی اسی نے بنوایا ہے خاص میرے لئے۔۔۔۔۔۔اسی نے اسکا نام "دارالامن”رکھا یعنی امن کی جگہ جب کہ یہاں روح تک منتشر ہے۔۔۔۔!

ہر پل ہر لمحہ اپنوں کی یاد دل و دماغ کو زخم وکرب کی سوغات بخش جاتی ہے ۔۔۔۔۔۔

آپ کو یہاں چھوڑ جانے کی کوئی خاص وجہ؟

میری بہو بہت امیر گھرانے سے تعلق رکھتی ہے۔بیٹے کو سماج نے اونچائی عطا کی جس کی وجہ سے  مجھے ماں کہنے میں شرم محسوس کرتاہے

میں اپنی نم آنکھوں کے ساتھ گویا ہوئی

ایسی” اولاد پر لعنت ہے”

"نہیں ! اس میں اس کا  کوئی قصور نہیں ۔۔۔۔!”قصور وار میں ہوں ۔۔۔۔۔!”

*-*-*

یہ بات انہوں نے صدفی صد صحیح کہی ۔

میں اتنی دلبرداشتہ  تھی کے وہاں سے بوجھل قدموں سے گھر لوٹ آئی۔

کئی دنوں تک میری سماعت میں اس ضعیف العمر کے الفاظ کی بازگشت گونچتی رہی

"قصور وار میں ہوں ۔۔۔۔۔!”

"جو بویا وہی کاٹ رہی ہوں۔!!!”

 

*-**-**-*

بارے KAHAANY.COM

Check Also

تیرے پیار میں پاگل ہوئے ۔۔۔ از ۔۔۔ روبینہ غلام نبی

تیرے پیار میں پاگل ہوئے ۔۔۔ روبینہ غلام نبی ………… پتھر بنا دیا مجھے رونے …

17 comments

  1. progressive web apps definition

  2. Those are yours alright!. We at least need to get these individuals stealing images to start out blogging! They probably just did an image search and grabbed them. That they look good though!

  3. Эта офисная блондинка не очень любит интимные связи, но парень нашёл подход и к этой девочнке – смотрите как правильно он дселал ей массаж, что девушка сразу же его захотела.
    http://porno-realnoe.ru/uploads/posts/2016-08/medium/1471603699_4.jpg

  4. Excellent post. I was checking constantly this blog and I’m impressed! Extremely useful info specifically the last part 🙂 I care for such info a lot. I was seeking this particular information for a long time. Thank you and best of luck.

  5. Hi there can you inform me which platform you’re utilizing? I am going to start my very own site on mesothelioma attorney very soon but I am having difficulty choosing.

  6. Thanks for writing the idea, I saved the page. I’m additionally in search of info on free hd movies online, are you aware where I might come across a thing such as that? I’ll come back in a little while!

  7. Unquestionably believe that which you stated. Your favorite justification appeared to be on the web the easiest thing to be aware of. I say to you, I certainly get irked while people think about worries that they just do not know about. You managed to hit the nail upon the top and also defined out the whole thing without having side effect , people could take a signal. Will likely be back to get more. Thanks

  8. Hello, what do you think around family dental care? Very impressive issue, isn’t it?

  9. [url=http://handtasche.xyz/]http://handtasche.xyz/[/url] Stirllic , VADOOLL Damen Schultertasche Canvas Totes Hobo Bag mit einfachem

  10. Hey there! I recently found this page and I truly enjoy it. I also love to speak about free movie websites at times. Good to be around, bless you!

  11. Great, this is what I was looking for in yahoo

  12. You ought to take part in a contest for one of the greatest blogs on the net. I will recommend this internet site!

  13. I’m really enjoying the design of your information site. Do you run into any browser interface situations? A lot of my site visitors have lamented about my free movies online for free blog not operating the right way in Explorer though seems wonderful in Safari. Do you have any ideas to aid repair the issue?

  14. I really love looking over this article.

  15. Most educational site on the web

  16. I must say, as a lot as I enjoyed reading what you had to say, I couldnt help but lose interest after a while.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Translate »
error: Content is protected !!