مسکن / سسپنس / حدود ۔۔۔ از ۔۔۔ سلیم انور

حدود ۔۔۔ از ۔۔۔ سلیم انور

حدود ۔۔۔ سلیم انور

ہم ایک روز قبل اس مکان میں منتقل ہوئے تھے۔ وہ جگہ بھی اچھی تھی اور مکان بھی ٹھیک ٹھاک بنا ہوا تھا۔

اگلے روز صبح جب میں گھر سے باہر نکلا تو اپنے پڑوس کے مکان کی کھڑکی سے ایک بوڑھے شخص کو جھانکتے دیکھا۔ وہ باہر سڑک کا نظارہ کررہا تھا۔ مجھ پر نگاہ پڑتے ہی وہ متجس اور مشتاق نظروں سے مجھے دیکھنے لگا۔ پھر مجھے متوجہ کرتے ہوئے بولا”تمہیں یہ مکان کرائے پر نہیں لینا چاہیے تھا”۔ یہ کہہ کر وہ بدتمیزی سے ہنس دیا۔

میں نے اس سردنگاہوں سے گھورا۔

"کیا پڑوسیوں کو خوش آمدید کہنے کا یہ کوئی نیا طریقہ ہے؟” میں غرایا”تمہاری اس بات کا کیا مطلب ہے کہ ہمیں مکان کرائے پر نہیں لینا چاہیے تھا؟”

"اس لیے کہ اس مکان میں اکثر چور آتے ہیں”۔ اس نے یہ بات بڑے خوش ہوکر بتائی”۔ پڑوسی ہونے کے ناتے یہ میرا فرض بنتا ہے کہ تمہیں ہوشیار کردوں”۔

مجھےیہ سن کر غصہ آیا جیسے چور اس کے مکان میں تو داخل ہی نہیں ہوسکتے! بھلا چوروں کو صرف ہمارے مکان ہی سے کیا خاص دلچسپی ہوسکتی ہے؟

میں اپنی جھنجلاہٹ کے عالم میں سگریٹ خریدنے کے لیے سڑک کے کونے پر بنے ہوئے اسٹور میں داخل ہوگیا۔

"یہاں پر کس قسم کے لوگ بستے ہیں؟” میں بڑبڑایا۔

"کیوں؟ کیا ہوا؟” دکاندار نے پوچھا۔

"ایک بوڑھے نے مجھ سے کہا کہ ہم ابھی جس مکان میں منتقل ہوئے ہیں۔ اس میں اکثر چور آتے ہیں”۔ میں نے شکایتی لہجے میں بتایا۔

دکاندار یہ سن کر اثبات میں سر ہلانے لگا۔”بوڑھا صحیح کہہ رہا تھا۔ آپ کو وہ مکان کرائے پر نہیں لینا چاہیے تا۔ اس میں لگاتار چوریاں ہوتی ہیں”۔

مجھے یہ سن کر طیش آگیا اور میں کوئی جواب دیے بغیر اسٹور سے باہر نکل آیا۔ اس قسم کی باتوں نے میرا پورا دن برباد کردیا۔ اس بات پر میں رات تک کھولتا رہا۔

اسی شب ہمارے محلے سے ایک جوڑا ہم سے ملنے کے لیے آیا۔ وہ بہت اچھے لوگ تھے۔ ہم آدھی رات تک ادھر ادھر کی گپ شپ کرتے رہے۔ جب وہ رخصت ہونے لگے تو ہم انہیں الوداع کہنے کے لیے دروازے تک ساتھ گئے۔ دروازہ سے قدم باہر نکالنے کے بعد شوہر نے پلٹ کر عجیب نظروں سے دیکھا پھر بولا۔”یہ بہت خوبصورت مکان ہے لیکن چور اسے نہیں چھوڑتے”۔

پھر اس سے قبل کہ میں اس سے کچھ پوچھتا ۔وہ لوگ چل پڑے تھے۔ میں یہ پوچھنا چاہتا تھا۔”آخر یہ مکان چوروں کے لیے اتنا پُر کشش کیوں سمجھا جاتا ہے؟ آخر وہ یہ اعزاز آپ کے مکان کو کیوں نہیں بخشتے؟”

میری قہر آلود نگاہوں اور تیوریوں کو دیکھ کر میری بیوی قہقہے لگانے لگی۔

"ڈیئر تم اتنا بھی نہیں سمجھتے!” بیوی نے کہا۔”لوگ کرائے داروں کو بھگانے کے لیے ہزاروں ترکیبیں لڑاتے ہیں۔

یہ یقیناً ایک نئے انداز کی چال ہے۔ یہ لوگ ہمیں بھگا دینا چاہتے ہیں، کیونکہ کرایہ بہت کم ہے، اس لیے یا تو یہ خود اس مکان میں منتقل ہونے کا ارادہ رکھتے ہیں یا پھر اپنے کسی عزیز کو یہاں لانا چاہتے ہیں”۔

یہ ممکن تھا، بہر حال اس رات ایک لمحے کے لئے بھی میری پلک جھپکی، یوں محسوس ہورہا تھا جیسے میں نے چور کو ملاقات کا وقت دے رکھا ہے۔میں سانس روکے اس کا انتظار کررہا تھا اور سرگوشی کے انداز میں خود سے کلام کررہا تھا۔”وہ کسی بھی لمحے یہاں پہنچنے والا ہوگا”۔

پھریقیناً میری آنکھ لگی گئی تھی۔ لیکن ہلکے سے کھٹکے پر میں اچھل پڑا اور اپنا وہ ریوالور نکال لیا جو میں نے اپنے تکیے کے نیچے چھپایا ہوا تھا۔

"کوئی حرکت مت کرنا ورنہ میں شوٹ کردوں گا”۔ میں نے تاریکی میں چیختے ہوئے کہا۔

جیسا کہ میں پہلے بتا چکا ہوں۔ ہم ایک روز قبل اس مکان میں منتقل ہوئے تھے۔ اب رات کی تاریکی میں شب کے مہمان کا سامنا ہوتے ہی میں یہ بھول گیا کہ لائٹ کا سوئچ کہاں پر ہے۔میں نے اندھیرے میں سوئچ کو ٹٹولنا شروع کیا تو دیواروں اور تصور میں آنے والی ہر شے سے ٹکراتا رہا۔ اور پھر بات یہیں تک محدود نہیں رہی۔ کوئی کم بخت شے میرے ٹخنوں سے ایسے لپٹی کہ ایک گونج دار آواز کے ساتھ میں نے خود کو فرش پر پایا۔ میرے منہ سے بے ساختہ گالی نکلتے رہ گئی۔ "یقیناً اس چور نے ٹانگ اڑائی ہوگی”م  میں نے دل ہی دل میں کہا۔ پھر یہی سفاکانہ فیصلہ کیا کہ ریوالور کا تمام سیسہ اس چور کے معدے میں اتار دوں گا۔

لیکن بدقسمتی سے فرش کی جانب پر داز کرتے ہوئے ریوالور میرے ہاتھ سے نکل کر دور جا گرا تھا۔۔۔!

اور پھر اچانک تاریکی میں فلم کی شوٹنگ کررہے ہیں؟” میں چیخ پڑا۔”اگر تم مرد ہو تو اپنا چہرہ دکھائو۔۔۔۔تم۔۔۔تم۔۔۔ بدمعاش!”

"میرے خیال سے تم سوئچ تلاش کررہے تھے۔” اندھیرے سے ایک آواز بھری۔”حیرت کی بات ہے کہ تمام نئے کرائے داروں سے یہی غلطی سرزد ہوتی ہے”۔

"کیا تم جانتے ہو کہ میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کرنے والا ہوں؟”

"نہیں”۔ اندھیرے میں موجود شخص نے کہا۔” میں نہیں جانتا۔ لیکن یہ بتائو کیا اب میں لائٹس آن کردوں اور تمہاری مدد کروں؟”

پھر سوئچ کا کھٹکا ہوا اور پورا کمرا روشنی میں نہا گیا۔ روشنی ہونے پر میں نے خود کو میز کے نیچے پایا۔ یہ ظاہر یہی دکھائی دے رہا تھا کہ فرش پر گرنے کے بعد میں میز کے نیچے لڑھک گیا تھا ۔اور جہاں تک میری بیویکا تعلق تھا۔ وہ بیڈ کے نیچے عارضی لیکن محفوظ سکونت اختیار کیے ہوئے تھی۔

کمرے کے وسط میں جوشخص کھڑا تھا وہ جسامت میں مجھ سے  دگنا تھا۔ مجھے احساس ہوگیا کہ اگر میں اپنی پناہ گاہ سے باہر نکلا تب بھی اسے خوفزدہ نہیں کرسکوں گا۔ چنانچہ میں نے یہی مناسب سمجھا کہ میزکے نیچے ہی رہوں۔ اس طرح سے وہ میری کاٹھ اور جسامت کا اندازہ نہیں لگا سکے گا۔

میں نے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اپنی آواز میں گھن گرج کا سُر شامل کرنے کی کوشش کی۔”تم کون ہو؟” میں نے رعب دار آواز میں پوچھا لیکن خود مجھے محسوس ہوگیا کہ میری آواز بیٹھیہوئی اور غراہٹ کے مانندنکلی تھی۔

"میں چور ہوں”۔ اس شخص نے اطمیان سے جواب دیا۔

"اوہ۔۔۔ تویہ بات ہے؟” میں نے سر ہلاتے ہوئے کہا۔”اگر تمہارا خیال ہے کہ میں بے وقوف ہوں تو  تم غلطی پر ہو۔ تم چور نہیں ہو۔تم ہمیں خوفزدہ کرکے یہاں سے بھگا دینا چاہتے ہوتا کہ خود رہنے کے لیے آجائو۔ میری طرف دیکھو۔۔۔ غور سے دیکھو۔ کیا میں تمہیں احمق لگتاہوں؟”

اس شخص نے میری بات کو جواب نہیں دیا”تمہیں خود پتا چل جائے گا کہ میں چور ہوں یا نہیں”۔

یہ کہہ کر اس شخص نے درازیں ٹٹولنا شروع کردیں۔ وہ اس اطمینان کے ساتھ چیزوں کو الٹ پلٹ رہا تھا جیسے یہ اس کے باپ کا گھر ہو۔ اسے جو چیز پسند آرہی تھی وہ اسے اپنی جیب میں رکھتا جارہا تھا۔ اس دوران وہ ہم سے مستقل باتیں بھی کیے جارہا تھا۔ مجھے اس بات کا اقرار کرنا پڑے گا کہ اس کا رویہ دوستانہ تھا۔

"تو تم نے اس کمرے کو بیڈ روم بنا لیا ہے۔۔۔ تم سے پہلے جو فیملی یہاں مقیم تھی وہ اس اسٹڈی کے طور پر استعمال کرتے تھے۔ اور ان سے پہلے والی فیملی نے بھی اسے اسٹڈی ہی بنایا ہوا تھا۔۔۔”

"دیکھو!” میں نے کہا” تم مجھے لوٹ رہے ہو۔ میں پولیس کو تمہاری خبر کردوں گا۔”

"پلیز ،ضرور رپورٹ کرو۔” اس نے ہاتھ روکے بغیر جواب دیا۔”پولیس اسٹیشن چلے جائو۔ اور انہیں میری نیک خواہشات پہنچانا مت بھولنا۔”

"لیکن اگر میں اسٹیشن چلا گیا تو تم یقیناً بھاگ جائو گے”۔

"میں نہیں بھاگوں گا”۔

"تم بھاگ جائو گے! تم پورے گھر کا صفایا کرکے کھسک لو گے”۔ میں نے جواب دیا۔ میں مخمصے میں پڑ گیا۔ پھر کچھ سوچ کر بولا۔”میرے ذہن میں ایک آئیڈیا ہے۔ پہلے میں تمہیں باندھ دوں گا، پھر پولیس اسٹیشن جائوں گا”۔

"بچائو!۔۔۔ بچائو۔” اچانک میری بیوی نے مدد کے لیے چیخنا شروع کردیا۔

اور جیسے  تمام پڑوسی ہماری دہلیز پر منتظر کھڑے تھے۔ اشارہ پاتے ہی سب کے سب دندناتے ہوئے اندر گھس آئے۔ وہ سب بڑے پُر جوش انداز میں ایک د وسرے سے باتیں کررہے تھے۔ لیکن کیا انہوں نے ہماری طرف دیکھنا گوارا کیا یا کوئی ہمدردی جتائی؟ قطعی نہیں! وہ سب کے سب متجس اور بڑے خوشگوار موڈ میں تھے۔

"ایک اور دار دات؟”

"کیا، ایک بار پھر؟”

"اس مرتبہ کون ہے؟”

"آئو، دیکھتے ہیں!”

ان میں سے بعض تو چور کے دوست نکلے۔ وہ اس کی خیریت دریافت کرنے لگے۔ چور اطمینان کے ساتھ ہماری چیزیں سمیٹنے اور ان کی پیکنگ میں مصروف تھا۔

"میری مدد کرو!” میرے حلق سے مینڈک کی سی آواز نکلی۔ "میرا ہاتھ بٹائو! مجھے اس شخص کو رسیوں سے باندھنا ہوگا۔ پھر میں پولیس اسٹیشن جائوں گا”۔

میری بات سن کر ایک پڑوسی نفی میں سر ہلانے لگا۔

"اس نے تمہیں کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔” اس پڑوسی نے کہا۔” لیکن میں کبھی کسی کو اس کام سے نہیں روکتا جسے وہ کرنا چاہتا ہے۔۔۔ بے شک تم اپنا کام شروع کرو!”

اچانک میری بیوی نے ہمت باندھی اور رسی ڈھونڈ کر لے آئی۔

اس نے رسی مجھے تھماد ی۔ میں نے چور کو مضبوطی سے باندھنا شروع کردیا۔ اس نے کوئی مزاحمت نہیں کی۔ ہم اسے اٹھا کر ایکد وسرے کمرے میں لے گئے اور کمرےکا دروازہ بند کرکے اس میں تالا لگا دیا۔

پھر ہم پولیس اسٹیشن کی جانب دوڑ پڑے۔ چونکہ میری بیوی خود کو خاندانی معاملات کا ترجمان سمجھی تھی، اس لیے پوری کہانی اس نے چیف کے گوش گزار کی۔ پولیس چیف نے کہانی سننے کے بعد ہمارے گھر کا پتا پوچھا۔

"آہا”۔ پولیس چیف نے پتا سننے کے بعد سرہلانا شروع کردیا۔”اچھا ۔۔۔ تو وہ مکان ہے!”

"ہاں۔۔۔” میں نے جواب دیا”وہی مکان”۔

"ہم اس مکان کے معاملے میں کچھ نہیں کرسکتے”۔ پولیس چیف نے بتایا۔” وہ ہماری حدود میں نہیں آتا”۔

"تو پھر اب ہمیں کیا کرنا چاہیے؟ کیا ہم نے اس بے چارے کو یونہی فضول میں باندھ کر ڈال رکھا ہے؟”

"اگر تم لوگ اس کے برابر کے مکان میں رہ رہے ہوتے تو پھر اس بارے میں کچھ کیا جاسکتا تھا”۔ چیف نے اس انداز سے کہا جیسےہم میاں بیوی احمقوں کا جوڑا ہوں اور وہ ہمیں سمجھانے کی کوشش کررہا ہو۔”پھر تمہارا مکان ہماری حدود میں آجاتا”۔

"وہ برابر کا مکان خالی نہیں تھا۔ لہٰذا ہمیں اس مکان میں آنا پڑا۔” میری بیوی نے نہایت صبر کے ساتھ وضاحت کی۔

پھر ہمیں پتا چلا کہ ہمارا مکان عین اس سرحدی علاقے میں واقع ہے جو دو پولیس اسٹیشنوں کے حدود کو تقسیم کرتا ہے۔

"دوسری پولیس اسٹیشن کو اس معاملے کو دیکھنا چاہیے”۔ پولیس چیف نے کہا۔

دوسرا پولیس اسٹیشن خاصے فاصلے پر واقع تھا۔ جب ہم وہاں پہنچے تو سورج کافی اوپر آچکا تھا۔ ہم نے اپنی کہانی دوبارہ بیان کی اور انہوں نے دوبارہ ہمارا پتا پوچھا۔

"اچھا۔۔۔ تو وہ مکان!” ان میں سے ایک سپاہی نے کہا۔

"ہاں، وہ مکان۔ "میں نے جواب دیا۔

"اگر تم اس کے برابر مکان میں رہ رہے ہوتے تو اس معاملے میں کچھ کیا جاسکتا تھا۔ تمہارا مکان ہماری حدود میں نہیں آتا”۔

"وہ بیچارہ!” میری بیوی بڑبڑائی۔” اسے ہم نے رسی سے باندھ کر ڈالا ہوا ہے”۔ اس کا اشارہ چور کی جانب تھا۔

"مجھے ایک بات تو بتائو۔ "میں جھنجلاہٹ کے عالم میں چیخ پڑا۔” آخر ہم کس کے دائرہ حدود میں آتے ہیں؟ ہماری حفاظت کے ذمے داری کس پر عائد ہوتی ہے؟”

"ملٹری پولیس پر”۔ سپاہی نے جواب دیا۔”تمہارا مکان ان کی حدود میں واقع ہے۔ پولیس اس معاملے میں کچھ نہیں کرسکتی۔

ہم میاں بیوی پولیس اسٹیشن سے نکل آئے۔

"پہلے گھر چلتے ہیں”۔ میری بیوی نے مشورہ دیا”۔ مجھے چور کی فکر کھائے جا رہی ہے۔ وہ مر بھی سکتا ہے”۔

یقیناً بیوی صحیح کہہ رہی تھی۔ اگر چور بھوک سے مر گیا تو پھر کیا ہوگا؟ اس کا ہارٹ فیل ہوگیا تو کون جواب دہ ہوگا؟ ہم نے تو اسے رسی سے اس بری طرح باندھ دیا تھا جیسے پکانے سے قبل پرندے کے پر باندھے جاتے ہیں۔ اگر رسیوں کی بندش نے اس کے دوران کون کو بند کردیا تو پھر؟ اور اگر وہ۔۔۔ میں اس سے زیادہ اور کچھ نہیں سوچنا چاہتا تھا۔

ہم سیدھے واپس گھر پہنچ گئے۔ چور وہیں موجود تھا جہاں ہم اسے چھوڑ کر گئے تھے۔

"کیا حال ہیں؟” میں نے بے تابی سے پوچھا۔

"فائن، فائن۔” چور نے جواب دیا۔” بس بھوک لگ رہی ہے”۔

میری بیوی کچن کی جانب لپکی ہم نے پالک پکائی ہوئی  تھی، لیکن صد افسوس کہ یہ وہ واحد ڈش تھی جس سے چور کو شدید نفرت تھی۔ میری بیوی بازار کی طرف دوڑی اور قصائی سے تازہ گوت کے پارچے لے کر آگئی۔ اس نے چور کے لیے الگ کھانا پکایا جو چور نے خوب سیر ہوکر کھایا۔

جب ہمیں چور کی جانب سے اطمینان ہوگیا تو ہم ملٹری پولیس کے پاس پہنچ گئے۔ ہماری پوری کہانی سننے کے بعد کمانڈنٹ نے ہمارا پتا پوچھا۔

ہم نے بتا دیا۔

"آہا!” کمانڈنٹ نے سر ہلایا۔”وہ مکان!”

لگتا تھا کہ ہم نے جو  مکان کرائے پر لیا تھا وہ بہت زیادہ مشہور تھا۔

"یہ ملٹری پولیس کا کیس نہیں ہے۔”کمانڈنٹ نے معذرت کرتے ہوئے کہا” تمہیں پولیس کو خبر کرنی چاہیے”۔

"ہم پولیس کے پاس گئے تھے۔ انہوں نے ہمیں یہاں بھیج دیا”۔ میں نے روہانسے لہجے میں بتایا۔” اب آپ کہہ رہے ہیں کہ پولیس سے رابطہ قائم کریں۔ کیا ہم یونہی چکر کاٹتے رہیں گے؟ کیا کوئی ایسا شخص نہیں جو اس کیس کو دیکھ سکے؟”

کمانڈنٹ نے یہ سن کر ایک نقشہ نکالیا۔

"مجھے امید ہے کہ تم نقشہ پڑھنا تو جانتے ہوگے”۔ کمانڈنٹ نے کہا۔” دیکھویہ بلندی کو ظاہر کررہا ہے۔۔۔ ایک سو چالیس فٹ۔ یہ پانی کی ٹنکی ہے۔۔۔ ایک سو سولہ فٹ پر۔۔۔ اوریہ پہاڑی ہے۔۔۔ اب یہ علاقہ ملٹری پولیس کے دائرے میں آتا ہے۔ اگر تمہارا مکان ذرا سا آگے یعنی دو گز پرے شمال مغرب کی سمت بنا ہوتا تو تم ہماری حدود میں آجاتے۔”

"تو یہ سب کچھ صرف دو گز کے فاصلے کی وجہ سے ہو رہا ہے۔۔۔!”میں نے کہا” آپ کچھ کیجیئے، جناب! اگر آپ بالفڑض اس وقت ہماری مدد کردیتے ہیں تو پھر کیا ہوگا؟”

"پھر کیا ہوگا؟” کمانڈنٹ نے اپنے ہونٹوں کو سکیٹرتے ہوئے دہرایا۔ پھر دانشمندوں کے سے انداز میں سر ہلانے لگا۔”یہ تو ہم ہی جانتے ہیں کہ پھر کیا ہوگا۔۔۔ صرف ہم ہی۔” یہ کہہ کر اس نے اپنی انگلی نقشے پر اس مقام پر رکھ دی جہاں ایک چھوٹسا دائرہ بنا ہوا تھا”۔ دیکھو، یہ تمہارا مکان ہے، اور یہ عین اس خط پر واقع ہے جو ہمارے علاقے اور پولیس کے علاقوں کو تقسیم کرتا ہے۔ دیکھ رہے ہونا؟ بے شک تمہارے باغ کا ایک حصہ ہماری حدود میں آتا ہے۔ لیکن چوری کی وار دات باغ میں تو نہیں ہوئی نا؟”

اب ہماری پاس واپس پولیس کے پاس جانے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں تھا۔

"چلو پہلے گھر چل کر چور کی خیریت دریافت کرتے ہیں۔” میری بیوی نے تجویز پیش کی۔”اگر اسے کچھ ہوگیا تو پھر خدا ہی ہماری حفاظت کرسکتا ہے۔”

لہٰذا ہم گھر کی طرف چل پڑے۔

گھر میں داخل ہوتے ہی میں نے چور کو تقریبا گلے سے لگا لیا۔” کیا حال چال ہیں؟” میں نے ہانپتے ہوئے پوچھا۔

"جلدی کرو! پانی لائو!” وہ چیخا” مجھے پاس لگ رہی ہے”۔

پانی پینے کے بعد وہ غصے سے ہمیں گھور نے لگا۔

"سنو!” اس نے مجھ سے مخاطب ہوکر کہا۔” بعد میں یہ مت کہنا کہ میں نے تمہیں پیشگی آگاہ نہیں کیا تھا! تمہیں مجھے یہاں زبردستی روکنے کا کوئی حق نہیں پہنچتا۔ تم ایک شہری کے آزادی کے حقوق کو سلب کررہے ہو۔ میں قانونی چارہ جوئی کا حق محفوظ رکھتا ہوں”۔

"لیکن ہم بھی کیا کرسکتے ہیں؟” میں نے روہانسے لہجے میں کہا” ہمیں ابھی تک معلوم نہیں ہوسکا ہے کہ ہماری حفاظت کی ذمے داری کس پر عاید ہوتی ہے۔ یہ ظاہر تو یہی دکھائی دے رہا ہے کہ ہم کہیں کے نہیں ہیں۔ میری تو یہ سمجھ میں نہیں آتا کہ آخر اس مکان کو عین سرحدی خط پر بنانے کی کیا تک تھی؟”

"میں نے تم سے کیا کہا تھا؟۔۔۔ اب مجھے جانے دو۔ ورنہ میں ایک آزاد شہری کو قید رکھنے کے الزام میں تمہیں عدالت میں گھسیٹ لوں گا”۔

"مجھے سوچنے کے لیے کچھ وقت دو”۔ میں نے التجا کی۔” آج رات تک کی مہلت دے دو۔ میں ایک بار پھر پولیس کے پاس جانا چاہتا ہوں”۔

"بڑی خوشی سے”۔ چور نے کشادہ دلی کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔”تم جس سے جی چاہے، ملاقات کرسکتے ہو۔ لیکن اس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔ میں اس صورتِ ھال کے بارے میں ایک طویل عرصے سے واقف ہوں۔ ان لوگون کو ابھی یہ فیصلہ کرنا ہے کہ آیا تمہارے مکان کو ان میںس ے کسی کے حدود میں شامل کرلینا چاہیے یا سرحدی خط کو تبدیل کردیا جائے۔ جب تک کوئی فیصلہ نہیں ہوجاتا، اس وقت تک۔۔۔”

ہم ایک بار پھر پولیس اسٹیشن پہنچ گئے۔ اس مرتبہ پولیس چیف نے بھی ایک نقشہ نکال لیا۔

"یہ دیکھو!” اس نے ایک آہ بھرتے ہوئے کہا۔”یہ علاقہ ملٹری پولیس کی حدود میں آتا ہے۔ تمہارا باغ اور مکان کا ایک مختصر سا حصہ ان کے علاقے میں شامل ہے۔ مکان کا صرف ایک گوشہ ہماری حدود میں واقع ہے”۔

"ہماری خواب گاہ تمہاری حدود میں واقع ہے” میں نے نشاندہی کی۔” اور چوری کی واردات وہیں پر ہوئی ہے۔”

اس بات پر وہ مجھے اُلوئوں کی طرح گھوڑنے لگا۔” خاموش! پہلے اس بارے میں کوئی حتمی فیصلہ تو ہوجانے دو۔ پھر اس کے علاوہ ایک اور مسئلہ بھی ہے۔ چور یقیناً اڑتا ہوا کھڑکی کے راستے خوابہ گاہ میں داخل نہیں ہوا ہوگا۔۔۔ یا ایسا ہی ہوا تھا؟ اس نے پہلے باغ عبور کیا ہوگا پھر مکان میں داخل ہوا ہوگا۔ ٹھیک ہے؟ اور باغ ملٹری پولیس کی حدود میں آتا ہے۔ تمہارا یہ مسئلہ کوئی نیا نہیں ہے۔ یہ معاملہ پہلے ہی سے زیرِ غور ہے ۔ پہلے تو ان لوگوں کو کسی نتیجے پر پہنچنا ہوگا۔ پھر وہ اس بارے میں ہمیں اسے نتیجے سے آگاہ کریں گے کہ تمہارا مکان کس کی حدود میں آتا ہے۔ تب ہم اس فیصلے کی روشنی میں کوئی قدم اٹھا سکیں گے”۔

ہم گھر لوٹ آئے۔

ہمارا بوڑھا پڑوسی حسبِ معمول اپنی کھڑکی میں کھڑا باہر کا نظارہ کررہا تھا۔

ہمیں دیکھتے ہی وہ چہکنے لگا۔”تو چور ایک بار پھر مکان میں گھس آئے۔”

"ہاں۔۔۔” میں نے اثبات میں سر ہلادیا۔

"کوئی بھی اس مکان میں زیادہ نہیں ٹکتا۔” بوڑھے پڑوسی نے بتایا۔ خوشی اس کے لہجے سے ٹپک رہی تھی”۔ جبھی تو اس کا کرایہ اتنا کم ہے۔ اس میں نہ تو مالک مکان خود رہ سکتا ہے اور نہ ہی کرائے دار۔ مالک مکان نے مکان گرا کر اسے مزید دو گز آگے سے دوبارہ بنانے کا فیصلہ کرلیا تھا۔ لیکن پھر اسے تم احمق۔۔۔ میرا مطلب ہے کہ تم نئے کرائے دار مل گئے اور اس نے مکان دوبارہ کرائے پر دے دیا۔”

بوڑھے کی بیوی بھی کھڑکی میں کھڑی ہماری باتیں سن رہی تھی۔ اس نے افسردہ نگاہوں سے ہماری طرف دیکھا اور بولی۔” اس میں تم لوگوں کی کوئی غلطی نہیں ہے۔ تمام تر غلطی مالک  مکان کی ہے۔جب بھی کوئی شخص مکان تعمیر کرتا ہے تو پانی،گیس،بجلی ہوا کے رخ اور بیرونی منظر کے بارے میں ضرور تمام باتوں کا خیال رکھتا ہے۔ لیکن کیا کبھی کوئی اس بارے میں بھی سوچتا ہے کہ وہ مکان کس کی حدود میں شامل ہوگا؟ نہیں۔۔۔ بھلا کوئی احمق ہوگا جو اپنا مکان عین اس سرحدی خط پر تعمیر کرے گا جو کسی قانون نافذ کرنے والے ادارے کے دائرہ اختیار نہیں آتا؟”

میں چاہتے ہوئے بھی ان سوالات کا کوئی جواب نہ دے سکا۔

چونکہ ہم پورے سال کا کرایہ پیشگی ادا کرچکے تھے۔ لہٰذا مکان چھوڑ کر جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ لہٰذا ہم نے گھر میں داخل ہونے کے بعد چور کی تمام نبدشیں کھول دیں۔ پھر ہم سکون کے ساتھ اسٹڈی میں جا بیٹھے اور دنیا کے حالات پر کچھ دیر تک تبادلہ خیال کرتے رہے۔ اس دوران میری بیوی کھانا پکانے میں مصروف رہی۔

پھر اس رات کا کھانا چورنے ہمارے ساتھ کھایا۔

"اچھا، اب میں چلتا ہوں۔” چور نے کھانے کے بعد اٹھتے ہوئے کہا۔

"میں رات کو پھر آئوں گا”۔

*-*-*

اب ہمارے ساتھ اس مکان میں پانچ چھ چور سکونت پذیر ہیں، ہمارے تمام پڑوسی ان سے آشنا ہیں۔ہم بھی چوروں کے ساتھ پورا پورا تعاون کرتے ہیں۔ ایک طریقے سے یوں کہنا چاہیے کہ دیگر غیر شناسوچورون سے اپنے گھر کا دفاع کرنے میں ہم ان کی پوری مدد کرتے ہیں۔

مجھے علم نہیں کہ اس بات کا حتمی نتیجہ کیا ہوگا۔ یا تو ہم آٹھ کے آٹھ۔۔۔ میں، میری بیوی اور چھ چور پورا سال اسی مکان میں گزار دیں گے۔ یا پھر وہ لوگ اس مکان کو کسی نہ کسی کی حدود میں شامل کرنے کے نتیجے پر پہنچ جائیں گے۔ اور اس طرح میں اس قابل ہوسکوں گا کہ متعلقہ حکام کے پاس اپنی شکایت درج کراسکوں۔

لیکن اب ہم اپنے ان دوستوں یعنی چوروں کے عادی ہوچکے ہیں۔ اور ان کے بارے میں رپورٹ درج کرانا باعث شرمندگی وپریشانی ہوگا۔۔۔ وہ اس لیے بھی کہ مہنگائی کے اس دور میں ہمارے گھریلو اخراجات بہ مشکل تمام پورے ہوتے تھے۔ ہم نے ڈرتے ڈرتے یہ بات اپنے دوستوں کو بتائی تو انہوں نے ہماری مشکل کا احساس کرتے ہوئے اپنے بھر پور تعاون کا یقین دلایا۔

اب وہ گھریلو اخراجات میں ہمارے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔۔۔!

 

*-**-**-*

بارے KAHAANY.COM

Check Also

” جب رونگٹے کھڑے ہو گئے "

شیرازی ہاﺅس کا یہ وسیع و عریض ڈرائینگ روم اور گھر کے مکینوں کا رہن …

87 comments

  1. My brother recommended I might like this web site.
    He was entirely right. This post truly made my day. You can not
    imagine just how much time I had spent for this info!

    Thanks!

  2. Have you ever considered about including a little bit more
    than just your articles? I mean, what you say is fundamental and all.
    However imagine if you added some great images or video clips to give your posts more,
    "pop”! Your content is excellent but with images and videos, this website could definitely be one of
    the most beneficial in its field. Great blog!

  3. Fastidious answer back in return of this issue with real arguments and
    describing all about that.

  4. Thanks for sharing your thoughts on buy mink lashes.

    Regards

  5. Howdy! I know this is sort of off-topic but I needed to ask.
    Does running a well-established blog like yours take a lot of work?
    I’m brand new to writing a blog however I do write in my diary
    every day. I’d like to start a blog so I can share
    my experience and views online. Please let me know if you have any kind of suggestions or tips for brand new aspiring bloggers.
    Thankyou!

  6. Please let me know if you’re looking for a writer for
    your blog. You have some really good posts and I believe I would be a good asset.
    If you ever want to take some of the load off, I’d really like to write some
    material for your blog in exchange for a link back to mine.
    Please send me an e-mail if interested. Many thanks!

  7. Generally I don’t learn post on blogs, however I would like to say that this write-up very forced me to
    take a look at and do it! Your writing style has been amazed
    me. Thanks, very great post.

  8. Thank you ever so for you article post.Really looking forward to read more. Will read on…

  9. I really enjoy the post.Thanks Again. Really Cool.

  10. After I initially left a comment I appear to have clicked
    on the -Notify me when new comments are added- checkbox
    and from now on each time a comment is added I get 4 emails with the
    same comment. Is there a way you can remove me from that service?
    Thanks a lot!

  11. Wow that was strange. I just wrote an incredibly long comment but after I clicked submit my comment didn’t appear.

    Grrrr… well I’m not writing all that over again. Anyhow,
    just wanted to say excellent blog!

  12. Hello there! I could have sworn I’ve been to this blog before
    but after reading through some of the post I realized it’s new to
    me. Anyways, I’m definitely happy I found it and I’ll be book-marking and
    checking back frequently!

  13. My brother suggested I may like this web site. He
    was once totally right. This put up truly made my day.
    You cann’t consider just how so much time I had spent for this info!
    Thank you!

  14. Hmm is anyone else experiencing problems with the images on this blog
    loading? I’m trying to determine if its a problem on my end or if it’s the blog.

    Any feedback would be greatly appreciated.

  15. Have you ever thought about including a little bit more
    than just your articles? I mean, what you say is valuable and everything.
    But imagine if you added some great visuals or
    videos to give your posts more, "pop”! Your content is excellent but with pics and clips,
    this blog could definitely be one of the very best in its field.
    Awesome blog!

  16. Having read this I thought it was extremely informative.
    I appreciate you taking the time and energy to put
    this information together. I once again find myself spending a lot of time both reading and posting comments.
    But so what, it was still worthwhile!

  17. If you desire to grow your familiarity only keep visiting this website and
    be updated with the newest information posted here.

  18. Write more, thats all I have to say. Literally, it seems as though you relied on the video to make your point.
    You definitely know what youre talking about, why throw
    away your intelligence on just posting videos to your weblog when you could be giving
    us something informative to read?

  19. I blog quite often and I really appreciate your content.
    Your article has really peaked my interest. I am going to book mark your website and keep checking for new details about once
    per week. I opted in for your RSS feed too.

  20. Hola! I’ve been following your weblog for some time now and finally got the bravery to
    go ahead and give you a shout out from Porter Tx!
    Just wanted to mention keep up the fantastic job!

  21. Hi to every one, the contents existing at this website are genuinely awesome for people knowledge, well, keep up
    the nice work fellows.

  22. Greetings! Very helpful advice in this particular article!
    It’s the little changes that produce the most significant changes.

    Thanks for sharing!

  23. Hi to all, as I am actually keen of reading this blog’s post to
    be updated on a regular basis. It includes pleasant information.

  24. customers pay per click marketing. Thumbs up! big fan of jesse grillo and grillo jesse.

  25. each time i used to read smaller articles which also clear their motive, and
    that is also happening with this post which I am reading now.

  26. Thanks for writing this. i like jesse grillo jesse grillo and jesse grillo. were you aware there is redondo beach business creating social media marketing?

  27. Nice write up. i like jesse grillo and jesse grillo. This is an excellent, an eye-opener for sure!

  28. It’s an remarkable piece of writing in favor of
    all the online viewers; they will obtain advantage from it I am sure.

  29. of course like your website but you have to test
    the spelling on several of your posts. A number of
    them are rife with spelling issues and I in finding it very troublesome to tell
    the reality on the other hand I will surely come back again.

  30. I’m very happy to uncover this website. I need to to
    thank you for ones time just for this fantastic read!!
    I definitely appreciated every little bit of it and i also
    have you book-marked to see new information on your
    web site.

  31. Magnificent website. Lots of useful information here. I’m sending it to some buddies ans also sharing in delicious.
    And certainly, thanks to your sweat!

  32. Thanks for writing this. i am huge fan of community butterfly watching and skat.

  33. I’m not sure exactly why but this blog is loading extremely slow for me.
    Is anyone else having this problem or is it a problem on my end?
    I’ll check back later and see if the problem still exists.

  34. Hiya very cool blog!! Man .. Beautiful .. Amazing ..
    I’ll bookmark your website and take the feeds additionally?
    I am glad to seek out a lot of useful information here in the
    submit, we need develop more techniques on this regard, thanks for sharing.
    . . . . .

  35. It’s a shame you don’t have a donate button! I’d most certainly donate to this brilliant blog!

    I guess for now i’ll settle for book-marking and adding your RSS feed to my Google account.
    I look forward to fresh updates and will share this website with my Facebook group.
    Talk soon!

  36. My brother recommended I might like this web site.
    He was entirely right. This post truly made my day. You cann’t imagine just how much time I had
    spent for this info! Thanks!

  37. Thumbs up! i love solitaire speed skating and tabletop games.

  38. I cannot thank you enough for the article.Thanks Again. Really Cool.

  39. Thanks for every other informative website. The place else could I get that type of information written in such a perfect way? I’ve a mission that I’m simply now working on, and I have been on the glance out for such info.

  40. They are quite possibly the most great and style hair bundles https://www.youtube.com/watch?v=koiFnDsfNPU I’ve ever before had. And very fashionable. Well worth just about every cent.

  41. I am truly grateful to the owner of this website who has shared this fantastic article at at this place.

  42. Amazing! Its in fact awesome post, I have got much clear idea on the topic of from this piece of writing.

  43. Hey There. I found your blog the use of msn. That is a very well written article. I will make sure to bookmark it and come back to read more of your helpful information. Thank you for the post. I’ll definitely return.

  44. I really love your website.. Very nice colors & theme.
    Did you build this amazing site yourself?
    Please reply back as I’m hoping to create my own website
    and would like to find out where you got this from or just what the theme is
    named. Thank you!

  45. Thank you. My best friend wants to be a master in this field someday. I appreciate you. I will follow your other channels. amazing little bit of written content.

  46. Fantastic blog! You are totally an expert. When I turned on my computer this website was loaded.

  47. Exceptionally well written! excellent blog. Check it out, I really like your pages.

  48. Nice read. I simply stumbled upon your wearticle and wished to mention that I have truly enjoyed surfing around your website posts. When I started my Iphone your page was already running. Guess I will just book mark this page. Your creative potential seems limitless.

  49. good job on this article! Hey, that is a clever way of thinking about it. I bet you sweat glitter.

  50. excellent post, thanks a lot. Thanks for posting this cool website. Your websites are amazing. Any additional suggestions or hints? You remind me of my uncle.

  51. I could not refrain from leaving a comment. Can you tell us more about this topic? I am trying to discover more about this subject. Beyond useful information.

  52. Thanks on your marvelous posting! I seriously enjoyed reading it, you are a great author.
    I will be sure to bookmark your blog and may come back in the future.
    I want to encourage that you continue your great writing, have a nice
    holiday weekend!

  53. If you are going for most excellent contents like me, only pay a quick visit this website every
    day for the reason that it provides feature contents, thanks

  54. Hi, all is going nicely here and ofcourse every one is sharing data,
    that’s really fine, keep up writing.

  55. Ahaa, its good discussion on the topic of this article here at this blog, I have read all that, so at this
    time me also commenting at this place.

  56. Hi there! Would you mind if I share your blog with my zynga
    group? There’s a lot of folks that I think would really enjoy your content.
    Please let me know. Thanks

  57. A round of applause for your blog.Really looking forward to read more. Fantastic.

  58. An impressive share! I have just forwarded this onto a coworker who has been doing a
    little homework on this. And he in fact bought me lunch because I stumbled upon it for him…
    lol. So allow me to reword this…. Thank YOU for the meal!!

    But yeah, thanx for spending time to talk about this topic here on your
    site.

  59. I feel this is among the most significant info for me.
    And i’m glad reading your article. But want to observation on some
    general things, The site taste is perfect, the articles is
    actually excellent : D. Excellent job, cheers

  60. Wow, wonderful blog format! How long have you ever been blogging for?
    you made blogging look easy. The entire glance of your website is
    wonderful, let alone the content material!

  61. You have a great sense of humor. This site was already loaded when I turned on my Iphone.

  62. You really make it seem so easy with your presentation however I to find this topic to be
    actually something which I believe I might by no means understand.

    It seems too complex and extremely broad for me. I’m having a look ahead to your next post, I’ll try to get the hang of it!

  63. Your blog is really useful to me. it is like you wrote the book on it or something. I am on the same side as you. Any team would be lucky to have you on it.

  64. I enjoyed reading what you had to say. Here is the thing, I like your articles. I will just say amazing! If you can, shoot me an Email and we will discuss because I have an idea you will like.

  65. I appreciate you. Exceptionally well written!

  66. When I originally commented I seem to have clicked the -Notify me when new comments are added- checkbox and from now on each
    time a comment is added I receive four emails with
    the same comment. Perhaps there is a way you are able to remove me from that service?
    Cheers!

  67. Im obliged for the article post.Really looking forward to read more. Fantastic.

  68. Awesome post. Really Cool.

  69. Im grateful for the blog.Really looking forward to read more. Want more.

  70. Wonderful site you have here but I was wanting to know if
    you knew of any user discussion forums that cover the same topics discussed here?
    I’d really like to be a part of online community where I can get opinions from other experienced individuals that
    share the same interest. If you have any suggestions, please let me know.
    Cheers!

  71. excellent points altogether, you simply won a brand
    new reader. What could you recommend in regards to your
    submit that you simply made a few days in the past?

    Any sure?

  72. This is certainly a great write-up. Thank you for bothering to explain all this out for all of us. It’s a great help!

  73. Great, bing took me stright here. thanks btw for post. Cheers!

  74. I am sure this article has touched all the internet viewers,
    its really really pleasant piece of writing on building up new blog.

  75. After looking at a few of the articles on your website, I truly like your technique of blogging.
    I saved it to my bookmark site list and will be checking back in the near future.
    Take a look at my website as well and let me know what you think.

  76. Im no professional, but I believe you just crafted a very good point point. You definitely understand what youre talking about, and I can seriously get behind that. Thanks for staying so upfront and so truthful.

  77. Hi just wanted to give you a quick heads up and let you know a few of the pictures aren’t loading properly.
    I’m not sure why but I think its a linking issue. I’ve tried
    it in two different internet browsers and both show
    the same outcome.

  78. Ha, here from google, this is what i was searching for.

  79. Major thanks for the blog article.Thanks Again. Will read on…

  80. Im obliged for the article.Much thanks again. Will read on…

  81. Me like, will read more. Thanks!

  82. Good, this is what I was searching for in bing

  83. I value the blog article.Thanks Again. Cool.

  84. I used to be recommended this website by way of my cousin. I am no longer sure
    whether or not this put up is written by way of him as nobody else understand
    such detailed approximately my problem. You are amazing!
    Thank you!

  85. Really enjoyed this article post.Thanks Again.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Translate »
error: Content is protected !!