مسکن / رومانی / عید تجھے مبارک ۔۔۔ از ۔۔۔ سیدہ گل بانو

عید تجھے مبارک ۔۔۔ از ۔۔۔ سیدہ گل بانو

عید تجھے مبارک 

سیدہ گل بانو

”نظام خان‘ دادا جان کی حفاظت اچھے طریقے سے کرے گا ناں؟ علی کو بلوالیا جاتا تو…. یہ اچھا طریقہ کون سا طریقہ ہوتا ہے حفاظت کا؟“ اسفند نے اس کی بات کاٹی۔
”میرا….میرا مطلب تھا کہ….“
”علی کو بلوانا بہتر نہیں تھا۔ علی ابھی تو خود اپنی حفاظت بھی کرنے کے قابل نہیں‘ وہ بھلا دادا جی کی حفاظت کیسے کر سکتا ہے یار۔ ابھی تو وہ خود بہت چھوٹا ہے۔“
”آپ میری بات سمجھے نہیں اسفند ۔ میری دونوں باتوں کا الگ مطلب ہے۔ علی کو بلوانے والی بات تو میں اس لئے کہہ رہی ہوں کہ دادا جی کے پاس نظام خان کے علاوہ بھی تو کسی کو ہونا چاہئے۔ کوئی بہت ہی اپنا جو ان کی تنہائی کے احساس کو کم کرنے اور ان کا دل بہلانے کے لئے لمحہ لمحہ ان کے ساتھ رہے۔ ان کے پاس رہے ہر وقت ان کے قریب رہے اسفند۔“
”اوہ…. میں واقعی جلدی میں کچھ غلط سوچ کر بے تکی بات بول گیا۔“
”اور نظام خان کی طرف سے میں مطمئن اس لئے نہیں کہ بالآخر وہ ملازم ہے پتہ نہیں وہ اس ذمہ داری کو خلوص نیت کے ساتھ….“
”بھئی اس شک کی کوئی ٹوس وجہ بھی تو ہو۔ آخر نظام خان ملک صاحب کی حفاظت سے کیونکر غفلت برت سکتا ہے۔“
”اس لئے کہ اس کے ملک صاحب اس وقت سخت بے بسی اور محتاجی کے عالم میں اس کے رحم و کرم پر ہیں۔ نہ چل پھر سکتے ہیں‘ نہ کوئی بات کر سکتے ہیں اور….“ وہ مزید بھی کچھ کہنا چاہتی تھی مگر اس کا لہجہ بھرا گیا۔
اسفند کے قدم رک گئے اس نے سر اٹھا کر آسمان کی طرف دےکھنے کے بعد ایک ٹھنڈی آہ بھر کے دوبارہ اسے دےکھا جو خوفزدگی کی کیفیت میں ہراساں نظروں سے اسی کو دےکھ رہی تھی۔
”کہتی تو تم بھی سچ ہو کنول پر میرا نہیں خیال کہ نظام خان پر غداری کوتاہی کا کوئی احساس غالب آسکتا ہے۔ آخر دادا جی کی حفاظت کی ذمہ داری کے ساتھ ہی اس کا روزگار منسلک ہے۔ دادا جی کی ذات یا زندگی کو وہ اس لئے بھی مکمل تحفظ دینا چاہے گا کہ دادا جی کہ زندگی کی حفاظت کے صلے میں اسے ماہانہ سولہ ہزار اجرت دی جاتی ہے۔“
”ہاں ایک یہی بس پےسے کی کشش ہے جو اس کے قدموں کو روکے ہوئے ہے ورنہ تو وہ شاید کب کا حویلی چھوڑ کر جا چکا ہوتا۔“
”وہ دادا جی کا پرانا وفادار ملازم ہے اور تم فکر کیوں کرتی ہو اس کے ساتھ مزید چار ملازم اور بھی تو ہیں حویلی میں۔“ اسفند نے اسے مطمئن کرنے کی غرض سے ملائمت بھرے انداز میں سمجھایا۔
”ملازم تو بک بھی سکتے ہیں ناں اسفند۔“ وہ بے بسی سے بولی۔
”نہیں وہ ایک غریب عورت ہے۔“ اسفند نے کہا تو کنول کے چہرے پر اس عورت کے ذکر پر ایک سایہ سا گزر گیا۔
وہ پریشان تھی‘ بے حد پریشان بلکہ پریشان سے بھی کہیں زیادہ خوفزدہ تھی۔ اس نے کبھی بھی اپنی زندگی میں اتنی خطرناک صورت حال کو بے رحمی سے اپنی برداشت اپنے حوصلوں کو یوں پاش پاش کرتے نہ دےکھا تھا۔
وہ زندگی کی رونقوں سے محروم ہو کر رہ گئی تھی۔ اس کا دل‘ اس کی روح اور وہ خود خوشیوں کی چمک دمک‘ سکھ اور طمانیت کی کھنک غرض کہ زندگی کی تمام ترتازگی‘ شادمانی‘ اعتماد و بے فکری کی روشنیوں سے کٹ کر رہ گئی تھی۔ وہ عورت اسے عورت کم اور کوئی خون آشام چڑیل زیادہ لگنے لگی تھی۔ وہ بحیثیت عورت خود اپنے آپ پر نظر کرتی تو اسے اپنے اندر دل کی گہرائیوں روح کی کشادگی تک نرمی و حلاوت‘ لچک اور مھبت ہی محبت محسوس ہوتی۔ گداز ہی گداز لہریں پھیلاتا محسوس ہوتا مگر وہ عورت؟
وہ عورت کیسی تھی؟
جس کی سرشت میں وحشتیں ہی وحشتیں چنگھاڑتی تھیں۔ درندگی جس کا شعار بن چکی تھی اور سفاکی نے جس کی فطرت کو زہر آلود کر ڈالا تھا۔
کنول کی اس عورت سے نفرت محسوس ہوتی۔ شدید نفرت جس نے ان کی زندگیوں میں خوف وہراس پھیلاکے رکھ دیا تھا کنول دل ہی دل میں کڑھتی اس عورت کو کوس رہی تھی جس کی اسفند چند لمحاتی خاموشی کے ساتھ کچھ سوچنے کے بعد کہہ رہا تھا۔
”وہ ایک بالکل غریب سی عورت ہے وہ کسی کو کیا خریدے گی؟“
”شاید قدرت نے اسی لئے اسے غریب رکھا ہے اگر اس کے پاس دولت ہوتی ناں اسفند تو پتہ نہیں وہ پےسے کی طاقت کے ساتھ مزید ہم پر کیا کیا ستم نہ ڈھاتی۔“ کنول نے نفرت انگیز انداز میں کہا۔
اسفند نے بے خیالی کے عالم میں اثبات میں سر ہلا کے جیسے اس ک کہے کی تائےد کی تھی اور ساتھ ہی قدم بڑھادئےے۔ کنول بھی اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگی۔ اسفند احتیاطاً چار اطراف میں اور اردگرد کے گھیتوں میں نگاہ ڈال لیتا تھا۔ نہ چاہتے ہوئے بھی وہ عورت اسفند کے اعصاب پر بھی مصیبت کی طرح سوار تھی۔ کہنے کو وہ ایک معمولی‘ بے بس‘ تن تنہا غریب سی عورت تھی مگر اس تن تنہا زندگی گزارنے والی بے بس‘ عورت نے حویلی کے مکینوں کی نیندیں اڑا کر رکھ دی تھیں۔
حویلی کے مکین اس قدر بے بس و لاچار ہو چکے تھے کہ نہ اس عورت کے ساتھ باقاعدہ بات چیت کے بعد مفاہمت کی کوئی راہ نکال سکتے تھے اور نہ پولیس کی مدد لے سکتے تھے۔ دو ہفتے قبل جس حویلی میں سکون و اطمینان کا راج اور کسی نہ کسی طور خوشیوں کی جو چہل پہل تھی وہ اب مفقود تھی۔ اس حویلی میں سناٹے پھیل چکے تھے ار حویلی کے مکین بے سکون اور ہراساں تھے۔
”تمہیں اس عورت سے ڈر لگ رہا ہے۔“ اسفند نے اپنے ساتھ چلتی کنول سے پوچھا تو اس نے پوری سچائی کے ساتھ سراثبات یں ہلایا اور بولی۔
”کیا مجھے اس عورت سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہئے؟“ کنول کے سوال میں معصوم سی بے چارگی تھی۔ اسفند کے تھکے تھکے چہرے پر پل بھر کو مسکراہٹ چمکی۔
”چاہنے نہ چاہنے کا تو اس عورت نے ہمارے لئے سوال بھی نہیں چھوڑا۔ ہمیں نہ چاہتے ہوئے بھی اس سے ڈرنا تو پڑے گا وہ کسی بھی لمحے‘ کچھ بھی کر سکتی ہے۔ انسانیت سے سفاکیت تک…. کوئی بھی حد پار کر سکتی ہے۔ مفاہمت یا مصالحت کی بھی یا پھر وحشت و بربریت کی تھی۔“
”اس جیسی بدخصلت عورتوں سے بھلا انسانیت و شرافت کی کیا توقع رکھی جا سکتی ہے۔ مفاہمت یا مصالحت تو بہت دور کی بات ہے اسفند۔“
”ہاں…. تمہاری بات میں وزن ہے۔ پھر بھی ہمیں دعا تو کرنی چاہئے ناں۔“ اسفند بولا تو کنول سخت بے بسی کے عالم میں گڑگڑائی۔
”وہ تو ہم کر ہی رہے ہیں اسفند مگر ہماری دعا آخر کب قبول ہو گی۔“
”ہوگی ضرور قبول ہو گی۔“ اسفند نے کنولکی بات کے جواب میں مضبوط لب و لہجے کے ساتھ کہتے ہوئے کنول کے ساتھ ساتھ جیسے اپنے دل کو بھی حوصلہ اور امید کے جذبوں سے ہم آہنگ کیا۔
’’اور جو یہ بات دادا جی کو پتہ چل جائے کہ….“ کنول نے کہنا چاہا اسفند نے ہاتھ اٹھا کے اسے بولنے سے روک دیا۔
”ایک وہ ہی عورت ہے جو یہ چاہے گی کہ دادا جی کو بھی خوفزدہ کرے کیا تم چاہو گی کہ دادا جی تک اس عورت کا ذکر پہنچے؟“
”نہیں“ کنول نے جلدی سے سر نفی میں ہلایا اور بولی۔
”ہم میں سے کوئی بھی یہ نہیں چاہے گا۔“
”تو بس پھر دعا کرو کہ داد اجی کی ذات پر اس منحوس عورت کا سایہ بھی نہ پڑے۔ حالانکہ اس عورت کا تو پہلا تقاضہ ہی یہ ہے کہ دادا جی کو اس کے روبرو لایا جائے‘ پتہ نہین ہماری دعا اور اس عورت کے اس تقاضے کے بیچ میں فاصلہ کتنا ہے‘ پر کنول مجھے لگتا ہے دادا جی اسے دےکھ کر اس سے مل کر ایک بار پھر جیتے جی مرنے کے عذات کا شکار ہو جائیں گے۔ ان کی حالت ایسی نہیں ہے کنول کہ مزید اذیت پہنچائی جائے۔ ان کو مزید تکلیف سے دو چار کیا جائے۔ مگر وہ عورت سمجھتی ہی نہیں اس کے حواسوں پر تو انتقال کا بھوت سوار ہے۔“
”کیا وہ ہمیں معاف نہیں کر سکتی۔ ہمارا تو کوئی قصور بھی نہیں اسفند۔ پھر وہ ہمیں کس بات کی سزا دے رہی ہے؟“
”وہ ہمیں معاف کر سکتی ہے لیکن معاف کرنا نہیں چاہتی۔ شیطان نے اس کے ضمیر پر قبضہ جما کے اس کو بالکل اندھی‘ گونگی‘ بہری کر ڈالا ہے۔ وہ دےکھے گی تو بس وہی جو اس کے اندر چھپا شیطان دےکھنا چاہتا ہے‘ وہ بولے گی تو صرف وہی جو شیطان اس سے کہلوانا چاہے گا‘ وہ سنے گی تو بس وہی جو سننے کی اسے وہ شیطان اجازت دے گا۔ جو اس کے اندر کے انسانیت کے جذبات کو مار کر اپنی ململ شیطانیت کے ساتھ اس کے دل و دماغ پر قابو پا کر اس کے ضمیر اس کی روح پر حاوی ہو چکا ہے۔“ کنول کی بات کے جواب میں اسفند کہتا چلا گیا۔ اس کے الفاظ اور لب و لہجے میں بھی اس عورت کے لئے ناپسندیدگی و نفرت تھی۔
”جب ہم باقی سب کو یہ صورت حال جا کر بتائیں گے تو پریشان ہو جائیں گے۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا کہ ہمارے اور دادا جی کے ساتھ۔ زندگی میں کچھ ایسا بھی ہو سکتا ہے جسے نہ دماغ قبول کرے نہ دل برداشت کرنا چاہے۔ پھر بھی سب کچھ کہنا پڑے وہ سب کچھ جسے بیان کرنے کے لئے بھی حوصلہ چاہئے۔ جب ہم یہاں آئے تھے تو سب کتنا بھلا لگ رہا تھا۔ دادا جی کی طبیعت ان کی جسمانی حالت پہلے سے کافی بہتر ہوتی دےکھ کر سکون سا ملا تھا ناں دل کو اسفند۔“ کنول ایک جگہ رکی تو اسفند کے قدم بھی تھم گئے۔
”ہاں میرے دل کو بھی برا سہارا ملا تھا دادا جی کو پہلے سے بہتر حالت میں دےکھ کر۔ ان کو کافی پرسکون اور قدرے خوش بھی دےکھ کر۔“ اسفند نے کنول کی بات کی تائےد میں کہا۔
”کیا ایسا نہیں ہو سکتا اسفند‘ ہم ایک کوشش اور کر دےکھیں۔ یہیں سے واپس حویلی چلیں اور دادا جی کو اپنے ساتھ ہی چلنے کے لئے راضی کر لیں پلیز اسفند۔“ کنول نے مچل کر اسفند کی کلائی تھام کر اصرار کیا۔ اسفند نے ایک گہری سانس بھر کے نیم تاریکی میں اس کے چہرے کو دےکھنے کے ساتھ ہی اس کے شانوں پر بازو دراز کیا اور سر نفی میں ہلا کے کمزور لہجے میں گویا ہوا۔
”نہیں مانیں گے وہ کنول کتنی بار تم نے ان کو سمجھانے کی کوشش کی اور میں نے بھی کتنا اصرار کیا مگر وہ انکاری ہے۔ اس وقت ہمارا واپس جا کر ان کو نئے سرے سے سمجھانا‘ مجبور کرنا فضول ثابت ہوگا خوامخواہ ان کے سامنے جا کر ضد کرنے سے وہ پریشان ہی ہوں گے۔ زندگی کے اس موڑ پر لاکھ مجبور یا محتاج سہی پر آج بھی فیصلے تو ان کے اٹل ہی ہوتے ہیں جو بات ان کے دل میں سمائی ہوتی ہو اس کو نظر انداز کرنا شاید ان کے مزاج ‘ فطرت کے برعکس ہے۔ وہ اس سے ہٹ کر اب بھی کوئی فیصلہ کرنے کے عادی ہی نہیں۔ ہاں مگر بابا جانی شاید ان کو راضی کر لین‘ اس بات کے لئے کہ وہ حویلی چھوڑ کر ہمارے ساتھ رہنے لگیں۔“
”کیا آپ کو لگتا ہے کہ وہ حویلی چھوڑنے کے لئے آسانی سے مان جائیں گے۔“
”آسانی سے تو نہیں شاید بابا جان اس مرحلے سے ان کو اور ہم سب کو آسانی سے گزار کر پھر سے بے فکر ی اور سکھ کے کسی میدان میں لے ہی آئیں۔
”کچھ عرصے کا مطلب؟“
”بھئی کچھ عرصے کا مطلب کچھ عرصہ یا پھر صاف لفظوں میں یہ کہ اس وقت تک جب تک ہم اس جنونی عورت سے چھٹکارا حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو جائیں۔“
”مجھے تو نہیں لگتا اسفند کہ اس چڑیل سے جلد ہماری جان چھوڑ جائے گی۔“ کنول کا انداز خاصا مایوس کن تھا۔
”ہاں! اب تک کے حالات سے تو یہی آثار ظاہر ہو رہے ہیں“ اسفند بولا۔
”مجھے…. مجھے ڈر لگ رہا ہے اسفند۔“ کنول منمنائی۔
”ارے“ اسفند بے ساختہ مسکرایا۔ ساتھ ہی مدھر بھرے لہجے میں ڈپٹا۔
”میرے ہوئے ہوئے خبردار جو تم کسی سے بھی ڈریں۔“
”مت بھولیں کہ آپ کے سینے میں آپ کا دل ہے اور میرے سینے میں میرا دل۔“ کنول برا مان گئی اسے واقعی خوف محسوس ہو رہا تھا۔ وہ سچ مچ اس عورت سے بے حد خوفزدہ تھی۔
”یہ تو تمہاری بڑی غلط سوچ ہے۔ حالانکہ سچ تو یہ ہے کہ میرے سینے میں تمہارا دل ہے اور تمہارے سینے میں میرا دل۔“ وہ اسے پر سکون کرنے کی غرض سے ہلکے پھلکے انداز میں مسکراتے ہوئے بول رہا تھا۔
”یہ کس قسم کا فلسفہ ہے؟“ کنول نے اسے گھورا۔
”یہ میرا فلسفہ ہے۔ یہ بے سروپا فلسفہ ہے۔“ اسفند نے کہا۔
”پھر بھی کتنے فخر سے بیان کر رہے ہیں۔“ کنول کو بے اختیار مسکرانا پڑا۔ وہ اسفند کو ہمیشہ کی طرح بہت انمول ‘ بہت قیمتی لگ رہی تھی۔
”کیا ہوا اسفند؟“ کنول نے اسے پکارا تو وہ اسے محویت سے دےکھتا یکدم کسی خیال سے چونک پڑا۔
”ہوں؟“
”ایسے کیا دےکھ رہے ہیں‘ یوں میری طرف؟“
”میں سوچ رہا تھا تم….مجھے…. نہ ملتیں تو….؟“
”تو….؟“ کنول نے پوچھا اسفند اپنے بالوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے ایک گہری سانس کے ساتھ کشادہ شانے اچکا گیا۔
”تو….تو اسفند یار خان آج….کچھ بھی نہ ہوتا۔“
”اوہو“ کنول ہر غم بھلا کر پل بھر کے لئے بے اختیار ہنسی تھی۔
”تو یہ بات ہے۔“ وہ ہنستے ہنستے بولی۔
”ہاں یہ بات ہے۔ بلکہ باتیں تو بہت ساری ہیں کبھی بتانے کا موقع تو دیا جائے مابدولت کو۔“
”تو صاحب ہمارے دل پہ اپنی باتوں کے جھنڈے گاڑنا چاہتے ہیں؟ “ کنول نے شوخی سے اس کا مذاق اڑانا چاہا۔
”تو کیا پہلے نہیں گاڑے؟“ اسفند نے اس کی روشن روشن آنکھوں میں جھانک کر پوچھا تو کنول کو جلد ہی ہتھیار ڈالنا پڑے۔
”ضرور….ضرور اس میں تو کوئی شک نہیں۔“ کنول کا مسکراتا لہجہ حیا آلود ہوا۔ اسفند نے سرشار مسکراہٹ کے ساتھ پھر سے اس کا ہاتھ تھام کر قدم بڑھائے۔ کنول بھی مسرور مسکراہٹ کے سنگ اس کے ساتھ ساتھ قدم بڑھانے لگی۔ کنول کی خواہش پر اسفند نے حویلی سے سڑک تک جانے کے لئے گاڑی کی بجائے کھیتوں کے راستے پیدل چلنے کا فیصلہ کیا تھا۔ وہ دونوں جب کھیتوں کے بیچ والے مختلف راستوں سے چل کر سڑک تک پہنچے تو دادا جی کا ڈرائیور ان کی گاڑی کے ساتھ وہاں موجود ان کا ہی منتظر تھا۔ اسفند کو اور کنول کو سڑک پر آتے دےکھ کر وہ اسفند کے قریب آگیا۔ اس نے گاڑی کی چابی اس کے حوالے کی۔ تیز تیز قدموں سے کھیتوں کی طرف اسی راستے کی جانب چل پڑا جہاں سے وہ دونوں ابھی تھوڑی دیر پہلے پیدل چل کر سڑک تک پہنچے تھے۔

٭٭٭

اگر دن پر رات چھا جاتی تو کنول کو اتنی حیرت نہ ہوتی جتنی کہ اس وقت اسفند یار خان کو دےکھ کر ہو رہی تھی۔ شہر جب پہنچے تو گھر کی دہلیز پار کرتے ہی اسفند یار خان غم و غصے کی شدت سے پھٹ پڑا۔ تمام صورت حال اس نے بڑوں سے بیان کی تو ان سب کو بھی سانپہ سونگھ گیا۔ اسفند یار خان کا انداز اس عورت کے لئے نفرت سے پر اور اشتعال سے بھرپور تھا۔
”میں اس کا حشر بگاڑ دوں گا و حویلی یا دادا کہ لو ذرا سا بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کرے گا۔“
”تم اس عورت سے ملتے تو سہی۔ خود بات تو کر کے دےکھتے کہ آخر وہ چاہتی کیا ہے؟“ اسفند کے منجھلے چچا وقار خان نے کہا۔
”وہ دادا جی کے علاوہ نہ کسی سے ملاقات کرنے پر راضی ہے اور نہ کسی اور کی بات سننا چاہتی ہے۔“ اسفند بدستور برہم تھا۔
”مگر تم کہتے ہو کہ ملک صاحب کا اس عورت کے سامنے جانا بھی بہتر نہیں تو پھر بھلا یہ معاملے سلجھے گا کیونکر۔“ اسفند کے والد رہبر خان نے تفکر کا اظہار کیا۔
”دادا جی اور کنول کا ہمارے سوا اس دنیا میں اور ہے بھی کون جو بھی حکمت عملی اختیار کرنے کی ضرورت درپیش ہوگی ظاہر ہے ہم سب کو ہی اس کے لئے آگے آنا پڑے گا۔ کنول کو تو اس عورت کے روبرو نہیں بھیجا جا سکتا۔“
اسفند کے بڑے بھائی مبین خان نے اپنی رائے ظاہر کی۔ کنول نے ان کو ازحد ممنون نظروں سے دےکھا پھر اسفند کو دےکھن لگی جو اسی طرح بے چینی سے ٹہلتا ہاتھ مل رہا تھا۔
”میں نے نظام خان سے کہہ دیا ہے کہ کسی بھی صورت‘ کسی بھی طور دادا جی تک اس منحوس عورت کا ذکر نہ پہنچے‘ وہ تو پہلے ہی بے بسی و مصیبت کی زندگی گزار رہے ہیں‘ مزید اس عورت کی افتاد….“
”اچھا تم بیٹھ تو جاﺅ‘ آتے ہی اپنا خون جلانا شروع کر دیا ہے۔ سب کے ساتھ مل بیٹھ کر بات ہوگی۔ پھر سوچتے ہیں کہ کیا کرنا ہے۔ یہ کیا کہ تم نے آتے ہی اندھیرے میں تیر چلانے کے منصوبے بنانا شروع کر دئےے ہیں۔“ اسفند کی والدہ ارجمند بی بی کو بیٹے کا طیش ہولا رہا تھا۔ تبھی انہوں نے اس کے غصے کو دور کرنے کے لئے سختی سے جھڑک دیا۔
”اماں جان‘ کتنی ذلت والی بات ہے یہ کہ ایک عورت…. “ اسفند نے کڑھ کے کچھ کہنا چاہا مگر رہبر خان نے ہاتھ کے اشارے سے روکا۔
”بیٹھ جاﺅ اسفند‘ ابھی غصہ کرنے کا نہیں تحمل اور بردباری سے مل بیٹھ کر مسئلے کا حال سوچنے کا وقت ہے۔ وہ کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتی حویلی کا یا حویلی والوں کا۔ مت بھولو کہ وہ ایک عورت ہے۔“ رہبر خان نے نرمی سے سمجھایا تو اسفند کو اپنے غصے پر قبو پانا پڑا۔
”میں…. میں آرام کرنا چاہتی ہوں۔“ کنول کو گھبراہٹ ہونے لگی تھی۔ اسفند کا چیختا چنگھاڑتا روپ اس کے لئے ناقابل یقین اور پریشان کن تھا۔
”ہاں بیٹی جب تک کھانا تیار ہوتا ہے تم اپنے کمرے میں چل کر آرام کرو۔“ ارجمند نے کنول کو ملائمت سے مخاطب کیا تو۔ وہ اپنی دونوں نندوں کی ہمراہی میں اپنے میں چلی گئی تو ارجمند نے اسفند کو سرزنش کی۔
”تم ہمارے ساتھ ساتھ کنول کو بھی پریشان کر رہے ہو۔ جانتے بھی ہو کہ اسے اس حالت میں آرام ‘ سکون اور خوشی کی ضرورت ہے۔ رات بھی اس نے کھانا ٹھیک سے نہیں کھایا۔ صبح سے اس نے کچھ نہیں کھایا ہے۔ رات بھی تم نے آتے ہی چیخ وپکار مچا دی اور اب دوبارہ ہم اس مسئلے کا حل نکالنے کے لئے مل بیٹھ کر کچھ سوچا چاہتے ہیں تو اب پھر وہی حالت ہے تمہاری۔ سنبھالو اپنے آپ کو‘ کنول کی ہر امید تم سے وابستہ ہے۔ وہ اب بھی اس مصیبت کے وقت تمہاری طرف دےکھ رہی ہے۔ ہم سب اسے جتنا بھی حوصلہ دیں پھر بھی اس کی تسلی نہیں ہوگی۔
”وہ اسفند یار خان کی بیوی ہے امی۔ ہر قسم کے حالات مشکلات کو فیس کرنے کی اس میں جرا¿ت ہونی چاہئے۔“ اسفند نے ماں کی بات کا جواب مضبوط انداز میں دیا اور پھر اپنے کمرے میں چلا آیا۔
اس نے کمرے میں کنول کو بیڈ پر کروٹ کے بل نیم دراز دےکھا وہ بے دھیانی کے عالم میں سر بیڈ کراﺅن سے ٹکائے سوچوں میں گم تھی۔ اسفند کے قدموں کی آہٹ پر اس نے چہرہ پھیر کے لمحے بھر کو دےکھا اور پھر فوراً سابقہ انداز میں چہرہ پھیر لیا۔ اسفند کے قدم آہستگی سے تھمے۔ اس نے کنول کی آنکھوں میں دور سے ہی آنسوﺅں کی نمی کی چمک دےکھی تھی۔ بیڈ کے قریب پہنچ کر وہ رکا۔ اک اچٹتی نگاہ کنول پر ڈالی۔
”رونے کی وجہ پوچھ سکتا ہوں؟“
”کیا مجھے آپ کو اپنے رونے کی وجہ بتانے کی ضرورت ہے؟“ کنول نے اسفند کی سمت دےکھے بغیر بھرائے لہجے میں کہا۔
”ضرورت ہے جبھی تو پوچھ رہا ہوں۔“ اسفند نے جواب دیا۔ وہ اب شرٹ کے گریبان کے بٹن کھولتے ہوئے بیڈ پر براجمان ہو رہا تھا۔
”باوجود اس کے کہ آپ کو وجہ معلوم ہے؟“ کنول کا لہجہ تیکھا تھا۔
”ہاں“
”کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اتنی پریشان کن صورت حال میں گھر جانے کے بعد بھی آنسو نہ گراﺅں۔“ کنول نے چبھتے لہجے میں کہا۔
”یہ میں نے کب کہا؟“
”شاید آپ کہنا چاہتے ہیں۔“
”چلو ٹھیک ہے یہی سمجھ لو خوامخواہ اتنا پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ سب ٹھیک ہو جائے گا…. ہم سب مل کر حالات کا رخ بدلیں گے بھی۔“
”واہ آپ نے تو چند لفظوں میں بات ختم کر دی اسفند میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتی ہوں کہ کیا واقعی اتنے ہی سہل انداز میں آپ ان حالات کا رخ بدلنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔“
”کیوں نہیں؟“ اسفند کا جواب مختصر مگر اٹل تھا۔ کنول نے اس تمام عرصے میں پہلی بار سنبھل کر بیٹھے ہوئے اس کی جانب دےکھا۔ اسفند کو اس کا دناز معنی خیز اور الجھا دینے والا لگا۔
”نہیں“کنول نے اس ایک لفظ کو جس طرح چبا کر سختی سے بیان کیا۔
”کیا مطلب ہے تمہارا اس نہیں سے۔“ اسفند کو اب پوری طرح کنول کی جانب متوجہ ہونا پڑا۔
”میں اس نہیںسے مطلب آپ کا غصہ ہے اور ضرورت سے زیادہ اشتعال ہے۔“ کنول نے اب بھی تیز لہجہ اپنایا۔
”تم کہنا کیا چاہتی ہو؟“ اسفند سمجھ کر بھی انجان بنا۔
”یہی کہ آپ نے مجھ سے جھوٹ بولا ہے؟“
”کیا؟ جھوٹ….؟“ اسفند کے چہرے کے تاثرات میں حیرانگی اور آنکھوں میں الجھن تھی۔
”آپ نے جھوٹ بولا ہے کہ آپ سب ٹھیک کر لیں گے۔ آپ کا اشتعال اور جذباتیت اس مسئلے کو مزید الجھا کر بگاڑ سکتی ہے۔“
”کون سی زبان بول رہی ہو تم یہ آج؟“ اسفندزچ ہوا۔ کنول نے اس کو بغور دےکھا اور دل میں دعا کی۔
”کاش ان کا ارادہ بدل گیا ہو؟“ وہ سوچتی آنکھوں سے اسے تک رہی تھی۔
”کھل کر بات کرو۔“ اسفند کی پےشانی شکن آلود ہو رہی تھی۔
”میں مزید اس موضوع پر کوئی بات کرنا نہیں چاہتی۔ مجھے نیند آرہی ہے۔“ وہ دراز ہونے لگی۔
”یہ کون سا وقت ہے سونے کا؟“ اسفند نے اعتراض کیا پھر بولا۔
”چلو پہلے کچھ کھا لو۔ امی پریشان ہیں کہ تم نے ناشتے میں کچھ بھی نہیں کھایا تھا۔ رزق سے منہ موڑنا اچھی بات نہیں۔“
”لنچ ٹائم ہوگا تو کچھ لے لوں گی۔“ کنول نے کروٹ لی۔
”لنچ ٹائم میں تو ابھی پورا گھنٹہ پڑا ہے۔“
”ٹھیک ہے میں اسی وقت کھانا کھالوں گی۔“ کنول کے لہجے میں طنز کی آمیزش تھی۔ اسفند لب بھینچ کر اگلے کئی لمحوں تک اسے تکتا ایک انجانی الجھن کا شکار ہوتا رہا۔ پھر وہ اسی شش و پیج میں بیڈ چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا۔ اب وہ شاور لینے کی غرض سے باتھ روم کی سمت جا رہا تھا۔
اگلے روز اسفند یار خان نے شام کو گھر میں قدم رکھا تو اسے کچھ پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ کنول کی طبیعت خراب تھی۔ سب اس کے کمرے میں موجود تھے۔
”امی آپ نے مجھے بتایا کیوں نہیں کال کر کے۔“ وہ یکدم متفکر ہوا۔
”تمہارے بابا جان نے منع کر دیا تھا کہ تو تم دوسرے شہر میں خوامخواہ پریشان ہو جاﺅ گے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ تم ساراکام ادھورا چھوڑ کر ادھر بھاگے چلے آﺅ۔“
”افوہ امی…. پھر بھی مجھے بتا تو دیتے۔“
”بیٹا ہم سب ہیں ناں اس کے پاس۔“ ارجمند بی بی نے کہا۔
”امی ! اب آپ کو میں کیا بتاﺅں۔ میں اسے بتائے بغیر یہاں سے گیا‘ مجھے افسوس ہے کہ اسے بتا کر جانا چاہئے تھا۔“ اسفند نے بتایا۔
”یہ تو تم نے بہت غلط حرکت کی۔“ ارجمند بی بی نے بیٹے کو کوتاہی کا احساس دلانا چاہا۔
”مجھے افسوس ہے امی‘ وہ بس غصے میں….“ وہ کہتے کہتے رکا۔
”غصے میں….؟“ ارجمند بی بی نے بیٹے کو بغور دےکھا۔
”وہ دراصل کل ہمارے درمیان کچھ تلخی ہو گئی تھی۔ بس امی میں کیا کروں۔ مجھ سے اس کی پریشانی دےکھی نہیں جاتی۔ یہ سمجھتی ہی نہیں۔ ضرورت سے زیادہ بحث‘ بے وجہ کی تلخ کلامی ‘ کبھی کبھی دلوں میں دھڑکتے ضبط کی دیواروں میں دراڑ ڈال دیا کرتی ہے۔ جانتی ہے میں اسے پریشان نہیں دےکھ سکتا۔ پھر بھی یہ…. بس جب…. یہ پریشان ہوتی ہے ناں تو میں بھی پریشان ہو جاتا ہوں۔“ اسفند دھیمے الجھے انداز میں بات کر رہا تھا۔
”اور یہ تب پریشان ہوتی ہے جب یہ تمہیں پریشان دےکھتی ہے۔“
”سوری امی…. میں آئندہ خیال رکھوں گا۔“ اسفند نے غلطی تسلیم کی۔
”تم ہی کو اس کا خیال رکھنا ہے کیونکہ ہم سے زیادہ یہ تمہاری ذمہ داری ہے۔“ اب تک خاموش بیٹھے رہبر خان مصالحانہ انداز میں کہتے اسے تنبیہہ اٹھ کھڑے ہوئے۔ ان کے ساتھ ہی وقار خان بھی اٹھے۔
”سوری بابا جان ‘ میں واقعی نادم ہوں‘ آئندہ آپ لوگوں کو شکایت کا موقع نہیں دوں گا۔“ اسفند ندامت سے چور لہجے میں بولا۔
”کوئی مصیبت جب بھی انسان پر ٹوٹتی ہے۔ بچے تو یہ مت بھولو کہ اس کا حل بھی موجود ہوتا ہے۔“ چچا وقار خان پر عزم مسکراہٹ کے ساتھ اس کا شانہ تھپک کر گویا ہوئے۔
”تم اپنے آپ کو پر سکون کرلو۔ فریش ہو جاﺅ کھانے کے بعد سب مل بیٹھ کر طے کریں گے کہ ہمیں کیسے حالات کا سامنا کرنا ہے۔ تمہارا کوئی منصوبہ ہے تو ہمیں بتا دینا ہم بھی بتائیں گے کہ تمہاری غیر موجودگی میں ہم نے کیا فیصلہ کیا ہے۔“ رہبر خان نرم لہجے میں بولے۔
”تمہاری بھابھی نے کچھ کھایا یا ابھی تک فاقے کی حالت میں ہیں۔“ اسفند نے کنول کے قریب بیڈ پر براجمان علیزہ اور عائزہ کو مدھم مسکراہٹ کے ساتھ دےکھا۔
”شاباش بیٹا 36گھنٹوں کے بعد تم نے گھر میں قدم رکھا ہے اور پوچھتے ہو کہ یہ فاقے کی حالت میں تو نہیں‘ کال تو تم بھی کر سکتے تھے‘ اس کا حال احوال دریافت کرنے کے لئے“ کنول کے سرہانے بیٹھی ارجمند اس کی خبر لے رہی تھیں۔
”امی! معاف کر دیں۔“ اسفند بے ساختہ ان کے قدموں کے پاس بیٹھا۔
”کھانا تیار ہے جلدی سے فریش ہو کر دونوں آجاﺅ۔“ ارجمند اس کا گال تھپک کر کہا۔
”کیا میں کنول کو جگا دوں؟“ ارجمند بی بی کے لفظ ”دونوں آجاﺅ“ کے جواب میں اسفند نے پوچھا تو ارجمند بی بی بولیں۔
”کنول بیٹی جاگ رہی ہے۔“ ارجمند دروازے کی سمت جاتے جاتے پلٹ کر مسکرائیں۔
”اور اب آپ کی خیر نہیں۔“ اسفند سے چھوٹی عائزہ نے اسے ہولایا۔
”میں نے کیا کیا ہے؟“ وہ بے چارگی سے مسکرایا۔
”یہ تو آپ کو اب بھابھی ہی بتائیں گی۔“ علیزہ بولی پھر دونوں ساتھ ساتھ مسکراتی وہاں سے چلی گئیں۔
”کیا اب تک مجھ سے ناراض ہو؟“ کنول کے قریب بیٹھ کر اسفند نے بازو کو نرمی سے اس کی آنکھوں سے ہٹایا۔
”آپ مجھے بتا کر کیوں نہیں گئے؟“ سوال کے جواب میں سوال کیا تھا کنول نے۔ اسفند کو قدرے طمانیت محسوس ہوئی اس کے چہرے یا لہجے میں گزشتہ روز کی تلخی کی ہلکی سی پرچھائیں بھی نہ تھی۔
”میں آئندہ خیال رکھوں گا۔“ اسفند نے مختصراً کہا۔
”اور میں جو اتنی پریشان رہی کہ پتہ نہیں آپ مجھ سے روٹھ کر کہاں چلے گئے ہیں۔“ کنول نے اس کے گھٹنے پر سررکھا۔
”یار تم یہاں کسی سے بھی پوچھ تو لیتی۔ سب کو معلوم تھا کہ مجھے اچانک کہاں جانا پڑا اور میری واپسی کب تک ممکن ہوگی۔“ اسفند نے اس کی ریشی زلفوں کو سہلایا۔
”علیزہ نے مجھے بتا تو دیا تھا پر….“
”پھر بھی تم خوامخواہ پریشان ہوتی رہیں۔“ اسفند نے اس کے بال سمیٹے۔
”مجھے ڈر لگ رہا تھا اسفند کہ آپ غصے میں….“
”ہاں تمہیں ڈر لگ رہا تھا۔ میں غصے میں جھوٹ بولکر کہیں کا کہیں نہ نکل پڑا ہوں۔ کسی پاگل خانے نہ پہچ گیا ہوں۔ گاڑی تیزی ڈرائیو نہ کر رہا ہوں یا پھر کسی دیوار سے سرنہ پٹخ رہا ہوں‘ کسی کھمبے میں گاڑی نہ دے ماروں۔“ اسفند نے مذاق اڑایا۔
”آپ کو مذاق سوجھ رہا ہے اسفند او رمیرا مارے گھبراہٹ کے براحال تھا مگر آپ مردوں کو اپنی ہٹ دھرمی میں کسی کی کیا پرواہ۔ آپ کو بلا سے وئی کسی بھی حال میں جیے یا مرے۔“
”مریں تمہارے دشمن آئندہ یہ فضول بات کی تو میں واقعی اپنا سر کسی دیوار سے یا گاڑی کسی کھمبے سے دے ماروں گا۔“ اسفند نے دھمکایا۔
”اور اگر آپ کو کچھ ہوا تو میں….“
”تو تم مجھے جان سے مارڈالوں گی۔“
”اسفند….“یکدم دہل کر کنول نے اس کے لبوں پر ہاتھ رکھ دیا۔ اسفند نے کھلکھلاتے ہوئے اس کی دونوں کلائیاں تھام کر مقابل بٹھایا۔ کنول کے انداز میں پھر خفگی در آئی تھی۔
”چھوڑیں مجھے….“ کنول ہلکی سی مزاحمت کے ساتھ مچلی۔
”نہ…. سنا نہیں تم نے امی نے کیا فرمایا تھا ابھی کہ پورے چھتیس گھنٹوں کے بعد میں نے گھر میں قدم رکھا ہے۔“ وہ ماں کے الفاظ دہراتا مسکرا رہا تھا۔ اس کا لہجہ مخمور تھا۔ آنکھوں میں مدھ بھرے جذبات کی جگمگاہٹ تھی۔
”اور اب ایسے بے تابی کا مظاہرہ کر رہے ہیں جیسے میرے بڑی فکر رہتی ہے۔“ کنول نے شکوہ کناں نظروں سے اسفند کو دےکھا۔
”تو پھر اور کس کی فکر رہتی ہے؟“
”میں کیا جانوں“ کنول کلائیاں چھڑا کر اس سے دور ہوتی پل میں بستر سے اتری تھی اور نکل گئی کمرے سے باہر۔ اسفند ایک گہری سانس سینے میں بھر کے سر پر ہاتھ پھیرتا کمرے سے نکلا تھا۔

٭٭٭

”اسفند کو گاﺅں جا کر اس عورت سے ملاقات کا راستہ نکالنا چاہئے اس سے بات کر کے دےکھنا چاہئے کہ وہ آخر یہ سب کیوں کر رہی ہے؟“ رہبر خان نے کھانے کے بعد سب کو اپنے کمرے میں طلب کیا تھا۔
”مگر اسفند کو گاﺅں نہیں جانا چاہئے۔“
سب نے اس کی طرف دےکھا۔ وہ اسفند کو دےکھ رہی تھی جو شاید والد کے سامنے کنول کے احتجاج کو برا سمجھ رہا تھا۔ وہ خاموش تھا مگر اس کی آنکھوں میں کنول کے لئے متاسفانہ سرزنش کی واضح رمق ہلکورے لے رہی تھی مگر کنول کو اپنی بات کا کچھ افسوس نہ تھا۔
”تو پھر کسے جانا چاہئے؟ کیا تمہیں؟“ اسفند بولا۔
”اسفند“ وقار خان نے اسفند کے لہجے کی سختی کو محسوس کر کے اسے بیچ میں ہی ٹوکا مگر اسفند یہ کہنے سے باز نہ آیا۔
”مجھے لگ رہا ہے اس کا دماغ پھر خراب ہو رہا ہے۔“
”میرا دماغ خراب نہیں ہو رہا ہے دماغ تو….“ کنول نے جھنجھلا کر کہنے کے درمیان ہی ہونٹ بھینچ کر بات ادھوری چھوڑ دی۔
”دماغ تو میرا خراب ہو رہا ہے بلکہ ہو چکا ہے۔ یہ ہی کہنا چاہتی ہو ناں تم؟“ اسفند نے طنز کیا۔ کنول جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی۔
”میں آپ کی بات نہیں کر رہی اسفند…. میں تو اس منحوس عورت کی بات کر رہی ہوں۔ آپ خوامخواہ اس کے منہ لگنا چاہتے ہیں اس قسم کی عورتوں کو تو پولیس کے حوالے کرنا چاہئے۔“
”اسفند! بیٹھ جاﺅ تم‘ سکون سے بات کرو۔“ ارجمند بی بی نے بیٹے کو مخاطب کیا۔
”میں گاﺅں جانا چاہتا ہوں بابا جان‘ میں اس عورت….“
”آپ کسی صورت گاﺅں نہیں جائیں گے کیونکہ میں یہ نہیں چاہتی۔“ کنول نے پھر مداخلت کی اسفند زچ ہو اٹھا۔
”تم مجھے کیسے روک سکتی ہو؟“ اسفند کے تیور بگڑ چکے تھے۔
”حق ہے میرا آپ پر اسفند۔“ کنول اس کے مقابل کھڑی ہو کر دوبدو بولی۔
”کنول بیٹی تمہاری کواہش کا احترام کیا جائے گا۔“ رہبر خان بولے۔
”پر بابا جان؟“ اسفند گڑگڑایا۔
”تم چپ رہو نالائق“ رہبر خان نے اسے گھورا۔ وہ ہاتھ ملتا دوبارہ اپنی جگہ پر جا بیٹھا۔ کنول احتجاجاً وہاں سے اپنے کمرے کی جانب چلی گئی۔
آدھے گھنٹے کے بعد اسفند اپنے کمرے میں آیا تو پر سکون تھا۔ ماں کی ہدایت پر اس نے شاور کے بعد کنول کو لانگ ڈرائیو پر لے جانے کا پروگرام بنا لیا تھا۔ وہ شاور لے کر نکلا تو کنول بے نیازی سے کروٹ لئے سو چکی تھی۔ وہ اسے پر سوچ انداز میں الجھی نظروں سے دےکھتا رہا اور پھر‘ وہ غیر ارادی طور پر بیڈ پر براجمان ہوا۔
”آخر اسے ہوا کیا ہے؟“ اسفند نے سوچا پھر اس نے ایک بوجھل سانس کے ساتھ بستر چھوڑا۔
اگلی رات ڈنر پر بڑے چچا اور چھوٹے چچا بھی اپنی اپنی فیملیز کے ساتھ آگئے تھے۔ رہبر خان ہی نے اس مسئلے پر بات کرنے کے لئے خصوصی طور پر ان کو بلوا بھیجا تھا۔
رمضان کی آمد آمد تھی۔ رہبر خان اور باقی سب بھی اس مسئلے کو ساتھ خیریت سے سلجھانا چاہتے تھے۔ اس پریشانی نے واقعتا ان کا سکون اجیرن کر ڈالا تھا۔ وہ سب کنول کے دادا جی کو حویلی سے یہاں لانا چاہتے تھے۔ ان سب کو اس اجنبی عورت سے نفرت تھی شدید نفرت تھی۔ ایک طرف وہ اس عورت کو کڑی سزا دینا چاہتا تھا اور دوسری طرف اس کی مدد بھی کرنا چاہتا تھا۔ اسے نہیں لگتا تھا کہ وہ عورت جو بھی کر رہی تھی ‘ اس میں اس کا کوئی قصور تھا۔
”میں گاﺅں جانا چاہتا ہوں۔“ اسفند نے شفقت خان اور عظمت کے سامنے ایک بار پھر اپنا فیصلہ سنایا۔
”میں بھی گاﺅں جاﺅں گی۔“ کنول کی بات نے اسفند کی پےشانی پر الجھن کی سلوٹیں ابھار دیں۔ رہبر خان نے سوالیہ نظروں سے اس کو دےکھا۔ اسفند نے کڑے تیوروں کے ساتھ کنول کی جانب نگاہ کی۔
”تمہارا جانا ضروری نہیں کنول“ وہ ضبط سے کام لے کر بولا۔
”میرا جانا ضروری ہے۔“ کنول کا انداز ضدی تھا۔ اسفند نے ایک گہری سانس کے ساتھ ماں کو بے بسی سے دےکھا۔
”میں اسفند کے ساتھ گاﺅں جانا چاہتی ہوں بابا جان۔ میں اسے تنہا وہاں جانے نہیں دینا چاہتی۔ میں ان پر بھروسہ نہیں کر سکتی‘ اس بات کے لئے کہ یہ مسئلے کو آسانی سے اور بغیر کسی نقصان کے حل کر یں گے۔“
”غصہ ایک فطری عمل ہے۔ غصہ میری کمزوری نہیں ہے۔“ اسفند نے تحمل سے کہا۔
”غصہ آپ کی کمزوری ہی بنتا جا رہا ہے اسفند اس معاملے میں۔“
”تم بے وجہ بحث کر رہی ہو کنول اور مجھے تمہارے بھروسے کی ضرورت نہیں‘ میں اپنا بھلا خوب سمجھتا ہوں۔“ اسفند آنکھوں میں شکوہ لئے کنول کو ناراضگی سے دےکھ رہا تھا۔
”آپ کی زندگی صرف آپ کی نہیں ہے اسفند میرا بھی…. ہم سب کا بھی آپ پر‘ آپ کی زندگی پر کچھ حق ہے۔“
”تم گاﺅں نہیں جا سکتیں۔“ زچ ہو کر اسفند نے بالآخر اٹل لہجے میں اپنا فیصلہ سنایا۔
”تو پھر آپ بھی گاﺅں نہیں جا سکتے۔“ کنول کا انداز بھی اٹل تھا۔
”تم دونوں….گاﺅں جاﺅگے۔“ ان دونوں کی بحث طویل ہو کر کسی بدمزگی میں ڈھلنے سے بچانے کے لئے رہبر خان نے فوری اور غیر متوقع فیصلہ سنایا۔ کنول کا چہرہ دمک اٹھا۔
”مگر بابا جان….“ اسفند احتجاج کو مچلا۔
”تم چپ رہو نالائق۔“ رہبر خان نے حسب عادت اسفند کو جھڑک دیا۔
یا تو تم اپنی بیوی کو خود قائم کرو یا پھر تم مان لو کہ تم نالائق ہو۔“ رہبر خان نے اسے سنجیدگی سے ڈانٹنے کا عمل جاری رکھا اسفند کو ان کی اس ڈپٹ نے بے اختیار کھسیا کر گردن کھجانے پر مجبور کر دیا۔
”شکر یہ بابا جان۔“ کنول نے اٹھ کر رہبر خان کے شانے پر سر رکھتے ہوئے ممنونیت سے ان کو دےکھا اور پھر اسفند کو جو آنکھوں میں ناراضگی کی چمک لئے اسے ہی دےکھ رہا تھا۔ رہبر خان کنول کا سر تھپک کر مسکرا دئےے۔
وہ دونوں سب سے ملنے کے بعد گاﺅں بھی پہنچ گئے۔ صبح سے دوپہر‘ پھر شام اور پھر شام سے رات بھی ہو گئی مگر اسفند کا موڈ بدستور خراب تھا۔ کنول کو اس بات کا بخوبی احساس تھا کہ اس نے اسفند کے ساتھ سب کے سامنے بار بار بدتمیزی کا مظاہرہ بھی کیا اور پھر اس کی حکم عدولی بھی کی۔ وہ اپنے دل کے ہاتھوں مجبور تھی۔
”اسفند!“ وہ رات کمرے میں آیا تو کنول نے اس کی راہ روکی۔
”میرے راستے سے ہٹو۔“ اسفند نے اسے دےکھتے ہی منہ پھیر لیا تھا۔ کنول کے دل پر چوٹ پڑی مگر وہ اسفند کے کسی شدید ردعمل کے لئے خود کو تیار کر چکی تھی۔
”سوری اسفند۔“ کنول نے اس کے گال پر ہاتھ رکھ کر چہرے کو اپنی نظروں کے سامنے کیا۔ اسفند نے بے رخی سے اس کا ہاتھ جھٹکا اور بولا۔
”تم اپنی ضد پوری کر چکی ہو۔“ اسفند نے پلٹنا چاہا مگر کنول نے اس کا بازو تھام لیا۔
”تو کیا ہوا‘ کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ میں مزید اپنی کوئی بات نہیں منوا سکتی آپ سے؟“
کنول کی بات پر اسفند نے لب بھینچتے ہوئے پھر سے چہرہ پھیرنا چاہا مگر اس سے پلے کنول اس کا بازو چھوڑ کر پےچھے ہٹنے لگی۔ پھر کچھ سوچ کر اسفند کے قریب آئی۔
”تو ٹھیک ہے آپ کو اپنا جان کر حق جتاتی ہوں۔ یہ بات آپ کو نہیں منظور تو چلئے جیسی آپ کی مرضی۔ جائےے میں بھی آپ سے بات نہیں کروں گی۔ میں صبح ہی واپس چلی جاتی ہوں۔ اب تو خوش ہو جائےے۔“ وہ الٹے قدموں سے ایک مرتبہ پھر اسفند سے دور ہٹتی ‘ اسفند کو بے چین کر گئی تھی۔ اس کا پاس آنا‘ دور ہٹنا‘ پھر قریب آنا اور قریب آکر پھر سے دور ہونا اسفند کی دھڑکنوں کو یوں بے ترتیب کر گیا جیسے کوئی کھلتے گلاب کے نازک پھول کو پتی پتی نوچ کر بکھیر کے رکھ ڈالے۔ خاموشی بڑھنے لگی تو اسفند نے ایک محتاط نظر سامنے ڈالی۔ کنول بستر پر بیٹھ رہی تھی۔ اس کے ہر ہر انداز میں بے نیازی تھی۔ اسفند خاموشی سے پلٹ کر دروازے کی جانب بڑھنا چاہتا تھا کہ مدھ بھری پکارنے مکمل استحقاق و قدرے لجاجت سے اس کے قدم روک لئے۔ اسفند نے پگھلتے من کی مچلتی دھڑکنوں کے سنگ پلٹے بغیر کنول کی سمت نظر کی اور اس کا رہا سہا ضبط بھی پتی پتی ہو کے بکھرنے لگا۔
وہ ستم گر اپنی شبنی ہونٹوں پر دل کھینچ لینے والی مسکان کی چاشنی سجائے چپ چاپ اسے منانے کو تیار بیٹھی تھی۔ وہ پلک جھپکتے میں اس کے قریب ہوا دھڑکنوں میں جذب کر لیا۔
”کیا ہوا؟“ کنول کی نقرئی ہنسی کی جھنکار میں شرارت تھی۔
”کیا تم نہیں چاہتیں؟“ اسفند کا لہجہ گھمبیر ہو چلا تھا۔ خود وہ پگھل رہا تھا۔
”آپ تو مجھ سے روٹھ کر کہیں جا رہے تھے۔“ کنول نے شرارت سے کہا۔
”میں تم سے روٹھ کر بھی تمہارے ہی پاس آنا چاہتا ہوں اور بھلا کہاں جا سکتا ہوں۔ اچھی بیوی نصیب والوں کو ملتی ہے۔“ وہ شرارت سے مسکرایا۔
”آپ مجھ سے وٹھ کر دور جا بھی نہیں سکتے۔“
”میں تو اپنی محبت کی قربت بھی برداشت نہیں کر سکتا تو دوری کیسے برداشت کر سکتا ہوں۔“ اسفند کا تمام تر ضبط فنا ہو چکا تھا۔ وہ سچ مچ اپنی محبت کی دوری برداشت کرنے کی خود میں ذرا سی بھی سکت نہ رکھتا تھا۔ کنول کی محبت تو اس کی نس نس میں لہو بن کے رواں دواں تھی۔
”اسفند سوری۔“

٭٭٭

”آپ کہاں جا رہے ہیں اسفند؟“ میں بھی آپ کے ساتھ چلوں گی۔“
”یار کیا مصیبت ہے جب سے ہم گاﺅں آئے ہیں تم نے ہر جگہ میرے ساتھ جانے کی رٹ لگا رکھی ہے۔“ اسفند ہیئربرش سے بال سنوارتا جھنجھلایا۔
”تو اس میں پرابلم کیا ہے؟“ کنول مصر تھی۔
”پرابلم….پرابلم یہ ہے کہ اب میں ہر جگہ تو تم کو ساتھ نہیں لے جا سکتا۔“ اسفند نے دوٹوک کہا۔
”تو نہ جایا کریںایسی کسی جگہ جہاں مجھے ساتھ لے جانا ممکن نہ ہو آپ کے لئے اسفند۔“
”یہ کیا بچوں والی بات کی تم نے؟“
”بس یہیں بیٹھیں سکون سے حویلی میں‘ ضرورت ہی کیا ہے گھنٹوں گھر سے باہر رہنے کی۔“
”کنول…. کنول مرد ہوں میں‘ عورت نہیں ہوں کہ گھر کی چاردیواری تک خود کو محدود رکھنا میرے لئے لئے ضروری ہو‘ آج کل تو عورتیں بھی یوں گھنٹوں گھر میں بند ہیں رہنا چاہتیں اور تم مجھ پر پابندیاں لگا رہی ہو۔“
”بس پھر میں بھی آپ کے ساتھ چلوں گی۔“ کنول پر اس کی جھنجھلاہٹ نے کچھ اثر نہ کیا تھا۔
”آخر یہ کب تک چلے گا کنول۔“ اسفند نے دنوں ہاتھ اپنے پہلوﺅں پر ٹکا کے ضبط کی گہرا سانس لی۔
”جب تک آپ یہاں میرے ساتھ گاﺅں میں ہیں۔“ کنول اس کے پہلو کا حصہ بنی۔
”چچ….یار کیا مصیبت ہے میری زندگی عذاب بنا کر رکھ دی ہے تم نے۔“ وہ تمام ضبط کھو کر تپ اٹھا تھا۔ اسی جھنجھلاہٹ کے عالم میں اسے خود سے دور کیا۔
”آخر تم دن بدن یہ اس طرح ناقابل برداشت کیوں ہوتی جا رہی ہو میرے لئے کنول۔“
”مجھے ڈر لگتا ہے اسفند۔“ کنول نے سادگی سے سچ بیان کیا۔
”میں نہیں مان سکتا تمہارے اس بے ڈھنگے جواز کو آخر کس بات کا ڈر‘ موت اور زندگی تو اسی کے اختیار میں ہے جس نے ہمیں پیدا کیا ہے۔ کوئی اس دنیا میں اگر جی رہا ہے تو لازمی سی بات ہے کہ اسے ایک نہ ایک دن مرنا بھی ہے‘ کیا تم مجھے مرنے سے بچا سکتی ہو۔“
”ایسی منحوس باتیں مت کریں اسفند۔ مجھے تو آپ کے غصے سے ڈر لگتا ہے۔“
”یہ تمہارا ایک اور بے ڈھنگا جواز ہے‘ ہٹوپےچھے۔“
”اسفند آپ کو میرے خوف کا کچھ احساس نہیں۔“
”کس بات کا خوف یار تم مجھے بتاﺅ تو سہی میرے سمجھ سے باہر ہے تمہارا خوف۔ یار میں کوئی ڈریکولا تو ہوں نہیں کہ غصے میں اٹھ دس بندوں کا بیک وقت خون پی جاﺅں گا جس کا تمہیں خوف رہے۔“ اسفند ر شدید جھنجھلاہٹ سوار تھی۔
”کیا آپ نے نظام خان سے نہیں کہا کہ وہ کسی بھی قیمت پر اس عورت کو آپ کے سامنے لائے تاکہ آپ اسے عبرت ناک سزا دیں۔“ کنول کہے بغیر نہ رہ سکی۔
کنول کے منہ سے اصل بات سن کر اسفند نے ٹھٹک کے اسے دےکھااور پھر وہ یکدم نظریں چرا گیا۔
”اوہ تو…. تم نے میری جاسوسی کی ہے۔“
”میں نے آپ کی جاسوسی نہیں کی۔ میں نے اچانک آپ کی نظام سے ہونے والی باتیں سن لی تھیں۔ جب سے اب تک میرا خوف سے براحال ہے۔“
”وہ عورت اسی لائق ہے کہ اسے کڑی سزا دی جائے اس کے کئے کی۔“
”مگر آپ ایسا کچھ نہیں کریں گے اسفند‘ جس سے آپ کی ذات کو کسی مشکل سے دوچار ہونا پڑے۔ ہم….ہم پولیس کی مدد بھی تو لے سکتے ہیں۔“
”ہم پولیس کی مدد نہیں لے سکتے کیوں کہ اس عورت نے نظام خان کے ہاتھ صاف صاف کہلوا بھیجا ہے وہ پولیس سے بھی نہیں ڈرتی۔ بلکہ ہو سکتا ہے کہ ہم پولیس کی مدد لینے کی کوشش کریں تو وہ ہم سے کسی بھی قسم کی رعایت نہ کرے۔ اس نے تو یہ بھی پیغام بھیج دیا ہے ہم تک کہ کسی بھی نتیجے کی پروا وہ لوگ کرتے ہیں جن کا کوئی اپنا دنیا میں موجود ہو۔ اس دنیا میں تنہا زندگی گزارنے والے مظلوم کو کسی کی حفاظت کا کھٹکا نہیں لگا رہتا۔ وہ اپنی ذات میںتنہا اور بے خوف ہو جاتا ہے۔“
”اونہہ مظلوم…. مظلوم کہتی ہے خود کو منحوس‘ بے حس عورت۔“ کنول نے نفرت سے کوسا۔
”میں اس عورت سے اچھی طرح نمٹ لوں گا۔ تم بار بار میرے راستے کی دیوار بننے کی کوشش نہ کرو۔ اس سے وقت ضائع ہوگا۔ پہلے ہی ہماری تاخیر نے اس عورت کو بہت ڈھیل دے دی ہے۔ اس کا پےسوں کا تقاضہ دن بہ دن بڑھتا جا رہا ہے۔ یہ نظا م خان بھی عجیب کاہل آدمی ہے۔ ایک عورت کے ٹھکانے کا سراغ نہیں لگا سکا ابھی تک۔“
”آپ اس معاملے کو چھوڑیں اسفند۔ خود ہی بابا جان اور انکل لوگ اس مسئلے کو حل کر لیں گے۔ ہم…. ہم…. واپس شہر چلتے ہیں اسفند میں دادا جان کو شہر چلنے پر راضی کرنے کی کوشش کرتی ہوں۔“ کنول کو اسفندکے تیوروں نے مزید بوکھلا دیا۔
”میں یہاں سے وں اس طرح ناکام واپس جانے کے لئے نہیں آیا۔ تم جانا چاہتی ہو تو شوق سے جاﺅ۔“ اسفند اپنے فیصلے کو بدلنے کے لئے کسی طورتیار نہ تھا۔
”آپ کو بھی میرے ساتھ چلنا ہوگا اسفند۔“
”مجھے تمہاری اجازت کی ضرورت ہے نہ اعتراض کی۔ میں تمہاری بیوی نہیں ہوں‘ تم بھی یوں مجھ پر اکھڑ شوہروں والے حکم صادر کرنے کی مضحکہ خیز کوششیں مت کیا کرو۔ کتنی بار میں تم کو یہ بات سمجھا چکا ہوں۔“
”اسفند! میرا دل بہت گھبرا رہا ہے۔ میرا یہاں دم گھٹ جائے گا۔“
”یہاں آنے کی بھی تم کو جلدی تھی اور یہاں سے جانے کی بھی میں تمہارا غلام نہیں ہوں جو تمہارے اشاروں پر چلوں۔“ اسفند یکدم ہی بلاسٹ ہوا تا۔ پھر وہ کمرے سے باہر چلا گیا۔ کنول گھبرا کے اس کے پےچھے لپکنا چاہتی تھی مگر کچھ سوچ کر اپنی جگہ پر ہی تھم سی گئی۔ اس کا ذہن یکدم ہی ماﺅف ہونے کو تھا اورچند ہی سیکنڈز مین اس نے اسفند کو تیزی قدموں سے کمرے میں آتے دےکھا۔ اسفند کے چہرے کے تاثرات اتنے خطرناک تھے کہ وہ اپنی رہی سہی سدھ بدھ بھی گنوا کے اپنی جگہ گم صم کھڑی رہی تھی اور پھر اسے جھٹکا لگا اسفند نے اسے کلائی سے دبوچا تھا وہ خائف ہو کر سہمی۔
”اسفند….“کنول نے گھبرا کے اسے دےکھا۔ اسفند پر اس کی گھبراہٹ نے کچھ اثر نہ کیا تھا۔ وہ اسے بے دردی سے کھینچتے ہوئے باہر لان تک لے آیا۔ اسفند نے اس کی کسی بات پر کان نہ دھرے۔ ڈرائیور کو گاڑی پورچ سے نکالتے اسفند نے قدرے تحمل سے کام لیا۔ ڈرائیور گاڑی ان کے قریب لایا تو اسفند نے کہا۔
”بی بی کو شہر پہنچا کر فورا حویلی واپس آجانا۔“ ڈرائیور کو سختی سے حکم صادر کیا۔ کنول نے تڑپ کے اسفند کودےکھا۔
”یہ آپ کیا کر رہے ہیں۔“ کنول نے خود کو سنبھال کر اس کی گرفت سے ہاتھ چھڑانا چاہا مگر وہ تو جیسے اندھیا بہرہ بن چکا تھا۔ گاڑی کا پچھلا دروازہ کھول کے اسفند نے اس کو سیٹ پر دھکیلا پھر دروازے لاک کر کے قدموں سے حویلی کے اندرونی حصے کی جانب بڑھتا چلا گیا۔ پےچھے کنول اسے بے بسی سے پکارتی رہ گئی تھی۔ اسے یقین نہ آرہا تھا کہ اسفند اس کی یوں بھی تذلیل کر سکتا ہے۔
”گاڑی روکو نظام خان…. سنا نہیں تم نے…. دروازہ کھولو۔ مجھے شہر نہیں جانا۔“ وہ ڈرائیور پر چلائی۔
”آپ کا حکم سر آنکھوں پر چھوٹی بی بی مگر مجھے معاف کر دیں میں صاحب کی حکم عدولی نہیں کر سکتا۔“ نظام خان نے مختصراً کہہ کر گاڑی کی اسپیڈ بڑھا دی۔ وہ غم و غصے کی شدت کے ساتھ بھیگتی آنکھوں میں بے بسی کی تپش لئے ڈرائیور پر غصہ نکالتی ہوئی چلائی۔ ڈرائیور نظام خان پر کچھ اثر نہ ہوا تھا وہ اس کی طرف سے آنکھیں اور کان بند کئے تیزی سے گاڑی کو شہر جانے والے مختلف راستوں پر بھگاتا رہا اور شدید اہانت کے احساس سے زخمی کنول سسکتی چلاتی رہی۔

٭٭٭

رمضان کا پہلا عشرہ ختم ہونے کو تھا۔ سب کنول کی اداسی کو محسوس کر رہے تھے۔ اسفند کے شہر آنے کی دیر تھی اس کی اداسی لمحوں میں دور ہو جاتی۔
اسفند گاﺅں میں کیا کرتا پھر رہا تھا کنول تک خبریں پہنچ رہی تھیں۔ اسفند سے سب ہی بذریعہ فون پر بات کر لیتے تھے۔ اسفند نے بار ہا کنول سے بات کرانے کو بھی کہا۔ کنول کے موبائل کے ذرےعے بھی کئی بار بات کرنے کی کوشش کی مگر مکمل خاموشی اور سناٹا پایا جاتا۔
ملک ارمان(دادا جی) کی صحت دن بدن بہتر ہو رہی تھی۔ وہ اپنے دائیں بازو اور ٹانگ کو تھوڑی بہت حرکت کے لئے استعمال کرنے کے قابل تو ہو ہی چکے تھے۔ پچھلے دو تین روز سے اسفند نے ڈاکٹر کو یہ خوشخبری سنائی تھی کہ دادا جی اب پچھلے اپنے جسم کے بائیں حصے پر بھی کسی حد تک اختیار پانے کی پوزیشن میں آرہے تھے۔ اسفند نے پروردگار کا دل سے شکرادا کیا تھا۔
”مجھے یقین ہے ملک صاحبت بہت جلد اور بھی بہتر ہو جائیں گے۔ خود چلنے پھرنے لگیں گے۔ وہ بولنے کے قابل بھی ہونے لگیں گے۔ بس ہمیں اب ان کے علاج پر اور زیادہ توجہ دینی ہوگی۔ ذرا سی بھی کوتاہی ان کی اچھی ہوتی حالت پر برے اثرات ڈال سکتی ہے۔“ یہ ڈاکٹر کے الفاظ تھے۔ حویلی کے تمام ملازمین بھی بہت خوش اور پرجوش تھے کہ ان کی دن رات کی تھکا دینے والی خدمت رائےگاں نہیں جا رہی تھی۔
”کنول کی طبیعت ان دنوں نازک ہے تمہیں تو پتہ ہے بیٹا سفر اس کے لئے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ میں نے تو ابھی اس کو ملک صاحب کے بارے میں کچھ بھی نہیں بتایا وہ پہلے ہی کتنی خود سر اور چڑچڑی ہو رہی ہے ہمیں تو بہرحال اس کا خیال رکھنا ہے۔ ملک صاحب کی ذات کے حوالے سے یہ خوش خبری سن کر وہ تو بالکل بے قابو ہو جائے گی۔ خوامخواہ اس پر ضد سوار ہو جائے گی گاﺅں پہنچنے کی خیر سے اٹھ ‘ دس دنوں میں وہ فارغ ہو جائے گی تو اسے ملک صاحب کے بارے میں بتا دوں گی۔“
”آٹھ دس دنوں میں….“ اسفند کی رگوں میں لہو کی گردش تیز ہوئی۔
”مجھے تو خیال ہی نہیں رہا۔ آپ کنول کا بہت خیال رکھئے گا امی۔“ وہ بے تابی سے مچلا تو ارجمند بی بی ہنس دیں۔
”پگلے یہ بھی کہنے کی بات ہے اور ہاں سنو تو تم آنے کی کوشش کرو‘ تمہارا اس کے پاس ہونا بھی ضروری ہے بیٹا۔“
”ٹھیک ہے امی آپ لوگ بہتر سمجھتے ہیں۔ بس آپ سے میری ایک گزارش ہے اس ضدی لڑکی کا بہت خیال رکھئے گا۔ میں آنے کی کوشش کروں گا۔“
”کوشش نہیں تمہیں ہر صورت یہاں آنا چاہئے۔ تمہارے بغیر اس بے وقوف نے اپنی جو حالت بنا رکھی ہے اسے دےکھ دےکھ کر تو میرا تو کلیجہ منہ کو آتا ہے۔“ ارجمند بی بی کے غصے میں بھی کنول کے لئے بے پایاں محبت بول رہی تھی۔
”میں…. آﺅں گا۔ بس آپ دعا کریں مجھے یہاں سے نکلنے کا وقت میسر آجائے۔“
”تمہیں وقت نکالنا چاہئے‘ آخر تم اس کے ہونے والے بچے کے باپ ہو بیٹا۔“
”جو آپ کا حکم امی“ اسفند نے ان کو مطمئن کیا مگر خود کا اطمینان خاک ہو چکا تھا۔ جانتا تھا وہ کوشش اور خواہش کے باوجود وقت پر گاﺅں سے شہر نہ جا سکے گا۔ حالات نے رخ ہی کچھ اس طرح پلٹا تھا کہ وہ تو اپنی ذات کو بھی وقت نہ دے سکتا تھا۔ کہاں یہ کہ آٹھ دس دنوں کے لئے شہر چلا جاتا۔ یہ بڑی ناممکن سی بات تھی۔
”مجھے ایک دو دن کے لئے تو شہر ضرور جانا چاہئے۔ کنول کو میری ضرورت ہے….“ اسفند نے بے اختیار سوچا تھا اور اپنے بچے کے بارے میں سوچ کر اس کے لہو کی گردش میں ایک بار پھر ارتعاش پیدا ہوا۔
”میرا بچہ….“ اس کے لب آپ ہی آپ مسکرا اٹھے۔ دل ایک عجب گداز جذبے سے لپٹ کر پر جوش ہوا۔ اس کے احساسات پر ایک خمار آلود سا نشہ چھانے لگا ہواﺅں میں اڑتا محسوس کر رہا تھا۔ اس کا من بے چین ہو اٹھا۔ دل میں عجیب سی خواہش نے انگڑائی لی کہ اس کے پرلگ جائیں اور وہ اڑ کر کنول کے پاس پہنچ جائے۔ کتنے دن ہو گئے تھے اس نے نہ دےکھا تھا نہ اس کی آواز سنی تھی۔ کتنی بے دردی سے روٹھی تھی وہ اس سے اس بار۔ اسفند کو لگ رہا تھا جیسے کنول کی آواز سنے‘ کنول کو دےکھے‘ اسے چھوئے کئی صدیاں گزر گئی ہوں۔ ایک رات پھر اس نے کنول سے رابطہ کرنے کی بار بار کوشش کی۔ مگر وہ ظالم ستم گر بنی خاموش رہی تھی۔ کنول نے اس کی کال ریسیو بھی کی خاموشی سے خود کو بار بار پکارتے بھی سنا اور پھر بے حسی کے مظاہرے کے ساتھ رابطہ منقطع کر ڈالا۔ اسفند بے بسی سے تڑپ اٹھا۔
”یہ….یہ….یہ مجھ سے بات کیوں نہیں کر رہی۔ اسے احساس کیوں نہیں۔ میری بے چینی کا….“ اسفند نے بے قرار ‘ اضطراری کے عالم میں ایک اور کوشش کی۔ رابطہ ہوا‘ اسفند نے اس کے بولنے کا انتظار کیا۔ خاموشی نے طوالت پکڑی تو وہ تڑپ کر مچلا۔ وہ جانتا تھا صبح کنول کو ہسپتال لے جایا جانا تھا اور اس وقت اس سے بات کرنے کی روادار نہ تھی۔
”کنول…. تم مجھ سے بات کیوں نہیں کر رہی…. کتنے دن ہو گئے میں نے تمہیں دےکھا نہیں۔ تمہاری آواز تک نہیں سنی…. میں جلد آنے کی کوشش کر تو رہا ہوں مگر وہ عورت….“ اسفند کی بات ابھی مکمل نہ ہوئی تھی کہ کنول نے دوبارہ بے دردی سے رابطہ توڑا۔ اسفند کا دل بے بسی سے کراہ اٹھا۔ اس کا ضبط برداشت و تحمل کی آخری حدوں پر تھا۔
”میں جو بھی کر رہا ہوں اس کے لئے کر رہا ہوں‘ اس کے دادا جی کے لئے کر رہا ہوں‘ پھر یہ مجھے سزا کس بات کی دے رہی ہے؟“ کنول کے روئےے‘ اور بے رخی نے اس کے دل کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے تھے۔ وہ سخت مایوسی‘ غم و غصے کے عالم میں کمرے کے دروازے کو ٹھوکر سے دھکیل کر حویلی کے وسیع و عریض لان میں چلا آیا اور ابھی اس کے قدم کسی جگہ تھمے بھی نہ تھے کہ ایک آواز نے اسے پتھرا دیا۔
”بکواس بند کرو۔“ وہ اس آواز کو بالکل آسانی سے شناخت کر سکتا تھا۔ اسفند نے آواز کی لہروں کا تعاقب کیا۔ اس کے تمام خدشے ‘ شک ‘ اندیشے اس سمے سچ کی دہلیز کے کتنے قریب آتے دکھائی دے رہے تھے۔
”وہ بڈھا آسانی سے کہاں جان چھوڑنے والا ہے۔ اب تو اس میں ایک بار پھر نئے سرے سے جان آرہی ہے۔ پھر سے اس کے اندر طاقت جاگ رہی ہے۔ محتاجی کے دور سے نکلنے کو بڑا بے چین ہے۔“ بولنے والا بہت حقیر انداز میں ذکر کر رہا تھا۔ کس کا؟ اسفند چونکا۔ دل سمجھنے سے انکاری تھا پر اس کا دماغ بنا سمجھائے سمجھنے کو تیار تھا کہ نظام خان حقیر انداز میں کس بڈھے مردود کا ذکر کر رہا تھا اور کس سے ذکر کر رہا تھا؟ کیوں ذکر کر رہا تھا؟ کئی سوال تھے اسفند کو ایک لمحے میں سب سوالوں کے جواب مل رہے تھے۔
”اوئے میں تنگ آگیا ہوں۔ اب تو اس عورت والے ناٹک میں بھی جو دم تھا اسے اپنے اختیار میں رکھنا قابو سے باہر ہو رہا ہے۔ اب جو عورت اس دنیا میں کوئی حقیقت کوئی وجود ہی نہیں رکھتی تو پھر بھلا میں کیسے اس کا ان لوگوں سے آمنا سامنا کراﺅں‘ بس اب اس گیم کا فائنل کرنا پڑے گا۔“ نظام کی زبان قینچی کی طرح چل رہی تھی اور اس کے قریب پہنچتے اسفند کا ہاتھ تیزی سے اپنے ہاتھ میں موجود موبائل کے مختلف بٹن پش کر رہا تھا اس کی انگلیوں کی حرکت محتاط اور مخصوص تھی اور دل کی دھڑکن اشتعال کے دباﺅ سے بے ترتیب مگر اس نے خود کو فوراً سنبھال لیا تھا۔
”پولیس کی مدد لینے کا تو میں نے ان لوگوں کے دل سے خیال بھی نکال دیا ہے اور یہ کمینہ اسفند یار خان اس کی بتی بھی جلد ہی گل کرنی ہوگی۔ اب تو پےسے بھی سونگھ سونگھ کر میری ہتھیلی پر رکھتا ہے۔ اس کو بھی اچھی طرح رگیدنا پڑے گا۔
نظام خان کی زبان مسلسل زہر اگل رہی تھی اور اس کی زبان سے نکلے والے زہریلے الفاظ انتہائی روانی اور سہولت کے ساتھ اسفند یار خان کی ہتھیلی پر موجود موبائل میں منتقل ہو رہے تھے۔

٭٭٭

نظام خان کو پولیس کے حوالے کر دیا گیا تھا۔ وہ اپنی تمام تر خباثت اور گھٹیا پن سمیت ذلت و خواری کے گڑھے میں پھینک دیا گیا تھا۔
یہ سب ملک ارمان سے چھپانا درست نہ تھا مگر اسفند کو ان سے یہ بات چھپانی پڑی کہ ڈاکٹر کی سختی سے ہدایت تھی کہ ان کو ہر قسم کی پریشانی‘ مسئلے ‘ الجھن‘ دکھ ‘ صدمے سے بچائے رکھنے ہی میں ان کی صحت اور زندگی کی ضمانت ہے‘ پہلے ہی وہ جوان بیٹے اور بیٹی جیسی بہو کو بیک وقت اور اچانک حادثاتی موت کے صدمے سے یوں محتاجی کی زندگی سے دو چار ہوئے تھے۔ وہ نو سال کی اس محتاجی کی زندگی سے اب آہستہ آہستہ بھرپور اور صحت مند زندگی کی جانب محو سفر تھے۔ اسفند ان کے اس سفر میں کوئی رکاوٹ نہ ڈال کر ان کے سفر کو کامیاب بنانا چاہتا تھا۔ رہبر خان کا دوبارہ گاﺅں آنے کا ارادہ تھا۔ اسفند کو یقین تھا اگر رہبر خان کو یوں ہی ملک ارمان کی طرف پےش قدمی کا سلسلہ برقرار رہا تو یقیناً ملک ارمان کو حویلی سے شہر جانے پر راضی کر لیں گے۔
رہبر خان گاﺅں پہنچے تو ان کا ساتھ پا کر اسفند کا حوصلہ بھی مزید بلند ہوا اور شام تک وقار خان نے رہبر خان کے موبائل پر اسفند تک یہ خوشخبری پہنچائی۔ اسفند کا چہرہ پھول کی طرح کھل اٹھا۔
”ہمیں جلد شہر جانا چاہئے۔“ وہ جوش مسرت میں باپ سے لپٹ کر بے قراری سے بولا۔ قریبی بستر پر موجود ملک صاحب کی خوشی بھی دیدنی تھی۔
”ہمیں اور ملک صاحب کو بھی۔“ رہبر خان نے اسفند کا شانہ تھپک کر اسے خود سے الگ کرنے کے بعد ملک صاحب سے گلے مل کر مبارک باد دی۔ ملک صاحب کی آنکھوں میں آنسوﺅں کی چمک تھی اور چہرے پر خوشی سے بھرپور مسکراہٹ کا اجالا۔
”کیا دادا جی بھی ہمارے ساتھ چلیں گے؟“ اسفند نے آنکھوں میں گہری امید لئے ملک ارمان کو دےکھا۔
”یہ اگر اب بھی انکار کریں گے تو ہم ان کو اٹھا کر یہاں سے لے جائیں گے۔“ رہبر خان نے ملک ارمان کو دھمکایا۔ ملک ارمان نے نم آنکھوں سے مسکراتے چہرے کے ساتھ سر کو زور زور سے اثبات میں ہلا کر گویا اپنے شہر جانے کی رضا مندی دی۔
”واہ ملک صاحب واہ دل خوش کر دیا آپ نے۔“ رہبر خان نے آگے بڑھ کر ایک بار پھر ان کو گلے لگایا۔
”تھینک یو دادا جان۔“ اسفند نے عقیدت سے ان کے ہاتھوں کو بوسہ دیا۔ ملک ارمان کی آنکھوںمیں نئے جذبوں کی نئی امنگ تھی۔
ان تینوں کی شہر آمد نے سب کو حیران کیا تھا کیونکہ پرسوں عید متوقع تھی۔ آج رات چاند نظر نہ آیا تھا اس لئے کل بھی روزہ تھا۔
”ہم نے تو ملک صاحب کو انجانے میں قصور وار سمجھ لیا تھا۔ کتنی صفائی سے اس غلیظ فطرت انسان نے ملک صاحب کا امیج خراب کرنے کی زبردست کوشش کی۔ ہمارا دل تو نہ مانتا تھا کہ ملک صاحب کسی عورت کے جوان بیٹے کو قتل کرا سکتے ہیں مگر پھر بھی اس نے ہمیں یقین کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔“ ارجمند بی بی نے تمام حقیقت سے آگاہی کے بعد حیرت کا اظہار کیا۔
”بس آئندہ اس گھر میں اس منحوس کا ذکر بھی نہیں ہونا چاہئے۔ کیا خیال ہے وقار‘ تراویح کے لئے چلنا چاہئے اسفند تم بھی باقی سب کے ساتھ آجاﺅ۔“ رہبر خان مسجد جانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے۔
”وہ کیسی ہے اور یہ دروازہ کب کھولے گی مجھے اپنی بیٹی کو دےکھنا ہے۔“
”اپنے دادا جان اور اپنے بابا جان کے ساتھ ہی کمرے میں کیوں نہ گئے۔“ ارجمند نے بیٹے کو پیار سے دےکھا۔ اسفند نے جھینپ کے گال کھجایا پھر ملتجی ہوا۔
”دروازہ تو کھلوائیں۔“
”آجاﺅ“ انہوں نے اسے اندر جانے کا اشارہ دیا۔ اسفند نے جھیپنی مسکراہٹ کے ساتھ کمرے میں قدم رکھا۔ ارجمند بی بی بھی اس کے ساتھ تھیں۔ قدموں کی آہٹ پر کنول نے آنکھوں سے بازو ہٹایا۔ ان دونوں پر نظر پڑی تو اس کے بجھے بجھے چہرے پر سوگواری میں اضافہ ہونے لگا۔ پھر کنول نے اٹھنے کی کوشش کی۔ ارجمند نے آگے بڑھ کے اسے روکا۔
”ارے لیٹی رہو۔“ ارجمند بی بی نے محبت سے اس کا ماتھا چوما۔
”تم نے دادا جی کو دےکھا‘ کتنے خوش تھے۔“ ارجمند بی بی نے کنول سے ہمکلامی کے ساتھ ہی اس کے پہلو میں موجود ننھے سے وجود کو احتیاط سے اپنی بانہوں میں اٹھا کر قریب آتے اسفند کی طرف بڑھایا۔ کنول نے دےکھا۔ اسفند خاموش تھا مگر اس کے چہرے کا ایک ایک نقش بول رہا تھا۔ کنول نے اسے بے چینی سے ماں کی طرف ہاتھ بڑھاتے دےکھا۔ پھر اس نے اسے بہت احتیاط سے اس ننھے منے وجود کو ہتھیلیوں میں بھر کے سینے سے لگاتے دےکھا۔ پرجوش مسکراہٹ کے ساتھ اب وہ بے تابانہ بچی کو سینے سے لگائے چوم رہا تھا۔ بچی کسمسائی اور ساتھ ہی سہم کے رونا شروع کیا۔ اسفند گھبرا گیا ماں کو مدد طلب نظروں سے دےکھا۔
”امی دےکھیں اس کو کیا ہوا؟“ گول مٹول گلابی گڑیا سی بیٹی کو پریشانی سے دےکھا۔
”تمہاری شیو بڑھی ہوئی ہے‘ چبھ رہی ہے اسے اتنی بدحواسی کے ساتھ پیار نہ کرو اور اتنی زور سے نہ بھینچو۔“ ارجمند نے اسے بچوں کی طرح سمجھایا۔
”اسفند آجاﺅ یار تراویح کے لئے دیر ہو رہی ہے۔“ وقار خان نے جاتے جاتے اس کے کمرے میں جھانک کر پکارا۔ اسفند بچی کو ماں کے سپرد کر کے کنول کو دےکھے بنا کمرے سے نکل گیا۔ ارجمند بی بی کو یہ بات بہت محسوس ہوئی۔
”ارے…. دو گھڑی کنول کے پاس تو بیٹھتے۔“ ارجمند بی بی نے بے اختیار پکارا مگر وہ کمرے سے جا چکا تھا۔
”ایک تو اس لڑکے کی کوئی کل سیدھی نہیں۔ چلو خیر ابھی تھوڑی دیر میں آجاتا ہے تم جی برا نہ کرنا۔ یہ لو شاید اسے بھوک لگ رہی ہے۔“ منہ بسورتی ہچکیوں سے روتی بچی کو اس کے پہلو میں رکھا اور پھر کنول کو اٹھنے میں سہارا دیا۔
”اسفند یہ کیا پاگل پن ہے۔ بچی کو اٹھا کر کمرے سے باہر لے آتے ہو اور یہ کنول سے بات چیت کیوں بند کئے بیٹھے ہو تم دونوں کے ساتھ مسئلہ کیا ہے آخر۔“
”میں تم سے کچھ پوچھ رہی ہوں۔ رات بھی تم کمرے میں نہیں سوئے۔ تمہارے بابا جان اور جس جس نے بھی تم کو سحری کے وقت لاﺅنج میں سوتے دےکھا سب ہی نے مجھے احساس دلایا کہ جیسے سارا قصور میرا ہے اسی لئے میں نے تمہیں سب سے الگ سحری کرائی۔
”وہ…. میں تھوڑی دیر کے لئے یہاں لیٹا تھا تو نیند آگئی امی۔“
”اور اب کیا ہے سارا دن گزر گیا ہے۔ شام ہونے کو آئی علی سے کہہ کر بچی کو یہاں منگوالیا خود کیوں نہیں گئے چل کر اپنے کمرے میں۔ اسفند صبح عید ہے بیٹا چاند نظر آگیا ہے۔“
”تو پھر امی….“ وہ بے دھیانی میں کہتا ان کو دےکھنے لگا۔
”تو پھر یہ کہ اپنے کمرے میں جاﺅ۔ بھراپُرا گھر ہے تمہارے چچا اپنی اپنی فیملیز کے ساتھ یہاں موجود ہیں بیٹا۔ تمہاری بھابی ہے اس گھر میں‘ بہنیں ہیں۔ کیا سوچیں گے یہ سب لوگ۔ چلو اٹھو جاﺅ اپنے کمرے میں اور ہاں علیزہ ‘ عائزہ سے کہہ کر کنول کو بھی مہندی لگاﺅ مجھے صبح اس کے ہاتھوں اور پیروں پر مہندی رچی نظر آنی چاہئے‘ سمجھے۔“
”جی امی…. آپ بے فکر ہو جائےے۔“ اسفند فرماں برداری سے کہتا بچی کو آغوش میں سنبھالتا صوفے سے اٹھا۔
”اسے زینہ چڑھنے سے ڈاکٹر نے منع کیا ہے تم اسے باہر لان میں لے آنا‘ باقی سب ٹیرس پر ہیں۔ کنول کو تو عید کا چاند دےکھنے کی بڑی چاہت رہتی ہے۔“ ارجمند بی بی اس کی اچھی طرح کلاس لے کر رہبر خان کی آواز پر ٹیرس کی طرف بڑھ گئیں۔ اسفند بچی کو آغوش میں بھرے بے چینی اور الجھن کی سی کیفیت میں یہاں وہاں ٹہلتا رہا۔
”اس بار ہم دونوں ساتھ عید کا چاند دےکھیں گے ناں اسفند۔“ کنول کی سرگوشی نے اس کی یادداشت پر دستک دے کر دل کو بے چین کیا اس کے قدم کمرے کی جانب بڑھے مگر کمرے میں آکر اسفند کو مایوسی ہوئی۔ کنول سکون کی میٹھی نیند سو رہی تھی۔ اسفند کے دل میں پھر سے بدگمانی جاگی۔ کنول کے پہلو میں بچی کو لٹا کر وہ جتنی خاموشی سے کمرے میں آیا تھا اسی خاموشی سے نکل گیا۔
”میری عیدی….؟“ یہ عید جس قدر خوبصورت رکھائی دے رہی تھی اس کی گہرائی میں اسفند کے لئے اس سے کہیں زیادہ اداسی اور مایوسی تھی۔ سب ہی بہت خوش اور پرجوش تھے خوبصورت لباس میں خوبصورت تیاری کے ساتھ سب کے چہرے دمک رہے تھے۔ ارجمند بی بی کی ہدایت کے مطابق اسفند رات کنول کی طرف کسی طرح پےش قدمی نہ کر پایا تھا۔ صبح وہ لاﺅنج سے اٹھ کر باہر نکل گیا تھا۔ گھر آیا تو ناشتے میں عید کے مخصوص لوازمات سے سجی ٹیبل پر اپنی نشست پر وہ سب کے ساتھ چوروں کی طرح شامل ہوا تھا۔ ہر کوئی چہک رہا تھا‘ بچوں کا بس نہ چلتا تھا ناشتہ چھوڑ کر عید کی تیاری پہلے کر لیں۔ سائرہ(مبین کی بیوی) علیزہ‘ عائزہ تینوں چچیاں اور ارجمند بی بی سمیت تمام خواتین کا کچن سے ڈائننگ ٹیبل تک جیسے تانتا بندھا ہوا تھا۔ کنول کی طبیعت کچھ سست تھی اسے ناشتہ کمرے میں پہنچا دیا گیا تھا۔ اسفند نے دادا جی کے ساتھ ڈائننگ ٹیبل پر ہی ناشتے کا بہانہ گھڑا تھا۔ ارجمند بی بی اسے دانستہ نظر انداز کرنے پر مجبور تھیں یا مصروفیت نے ان کو اسفند کی دوبارہ کلاس لینے کا موقع نہ دیا تھا۔
اور اب عید کی نماز سے فارغ ہو کر سب مرد حضرات گھر لوٹے‘ عید ملے اور سب کو عید مبارک کہنے کے ساتھ ہی عیدی لینے دینے کا مرحلہ زور و شور سے جاری تھا کہ اپنے چھ عدد چھوٹے کزنز اور دو بھتیجوں ایک بھتیجی سمیت دونوں بہنوں کو عیدی دیتے اسفند کے کانوں میں شہد آگیں آواز جادو بن کر اتری ۔
”میری عیدی“ وہ قاتل ادا بنی ٹھنی اس کے سامنے دست سوال پھیلائے دل کی دنیا نیست ونابود کرنے کھڑی تھی۔
”گنجائش نہیں ہے۔“ اسفند نے شاہانہ انداز میں ٹالا۔
”ارے واہ…. گنجائش کیوں نہیں؟“ کنول نے پھرتی سے اس کی جیب سے جھانکتے والٹ کو اچک کر اپنی تحویل میں لیا۔
”یہ کیا….“ اسفند نے اسے بازو سے دبوچا۔ باقی سب کنول کو داد دے رہے تھے۔
”واہ بھابی کیا لمبا ہاتھ مارا ہے۔“ یہ عائزہ تھی۔ اسفند نے عائزہ کو گھورا اور ساتھ ہی علیزہ کو جو کنول کو شاباش دے رہی تھی اس قیمتی مشورے کے ساتھ۔
”بھابی اب والٹ سارے کا سارا آپ کا ہوا۔“
”میرے ساتھ غداری۔“ اسفند مسکراہٹ نہ روک پایا۔ مصنوعی خفگی سے بہنوں کو گھور رہا تھا‘ پھر علیزہ ‘ عائزہ اور بچہ لوگ بزرگوں کی تلاش میںعیدی لینے لان میں جا پہنچے۔ لاﺅنج میں اب وہ دونوں تنہا تھے۔ اسفند کی آنکھیں کنول کے سجے سنورے روپ میں الجھ گئی تھیں جذبات میں اس کی خوشبو بھر گئی۔
”مجھے منایا کیوں نہیں؟“ کنول نے دلکش لباس میں خوبصورت کشادہ سراپے کی سج دھج کو استحقاق بھرے انداز میں خفگی سے گھورا۔ اسفند نے مسکان لبوں میں دبائی۔
”کیا تم ناراض تھیں۔ تم نے تو مجھے بتایا ہی نہیں کہ تم مجھ سے ناراض تھیں۔“
”اسفند“ کنول کی غزالی آنکھیں خفگی سے کچھ اور بھی پھیلیں اور پھر سے خفا ہو کر بیڈ روم کی طرف لپکی۔
”ارے….“ اسفند ہنستا ہوا اس کے پےچھے کھینچا چلا آیا۔
”کوئی ضرورت نہیں مجھ سے بات کرنے کی۔“ وہ سنجیدگی سے روٹھ چکی تھی۔ اسفند نے عقب سے اس کو بازوﺅں سے تھام کر خود سے قریب کیا اور پھر اس کو شانوں سے تھام کر اپنی سمیت گھمایا۔
”ایک بات تو مجھے تم کو بتانی ہے بہر صورت“ وہ یوں سسپنس سے بولا کہ کنول نے بے اختیار پلکیں اٹھا کر اسے دےکھا جس کی غلافی گہری کالی آنکھوں میں شوخی چمک رہی تھی۔ پھر وہ سنجیدگی سے اس سے مخاطب ہوا۔
”کنول…. مجھے تو پتہ ہی نہیںتھا کہ تم مجھ سے اتنی زیادہ محبت کرتی ہو یہ مجھے تب معلوم ہوا جب نظام خان کی اصلیت سامنے آئی۔ تم میرے لئے فکر مند تھیں تو بالکل درست تھیں جو تمہارا دل میرے لئے خدشات سے الجھ کر تڑپ رہا تھا اور وہ تمہاری بے چینی بے قراری‘ تڑپ کتنی سچی تھی میرے اردگرد کتنے خطرات تھے یہ تم نے محسوس کر لیا مگر مجھے احساس تک نہ ہوا کہ موت میرے پہلو میں گھات لگائے بیٹھی تھی۔ نظام خان مجھے راستے سے ہٹا کر دادا جی کو مکمل طور پر اپنے اختیار میں کر کے ان کی ساری دولت جاگیر کا خود مالک بننا چاہتا تھا۔ میں مان گیا۔ کنول…. میں مان گیا تمہاری محبت کو۔ آئندہ مجھ سے یہ نہ ہوگا کہ میں تمہاری الجھن‘ کسی معمولی سی بھی ٹینشن تڑپ اور بے قراری کو یوں بے حسی سے مذاق اڑا کر نظر انداز کرنے کے بارے میں سوچ بھی سکوں۔“ اسفند خاموش ہوا تو کنول اس کے پہلو کا حصہ بنی۔
”سوری اسفند…. میں نے آپ کو ضرورت سے زیادہ پریشان کر دیا تھا۔“
”پریشانی تو پریشانی ہوتی ہے کنول پریشانی کسی کی مجبوری یا ضرورت کبھی نہیں دےکھتی۔“ اسفند نے اسے دل سے قریب کیا۔
”ہماری بیٹی کہاں ہے۔“ اسفند نے پوچھا۔ دادا جی کی خواہش پر بچی کا نام قندیل رکھا گیا تھا۔
”دادا جی کے پاس…. اسفند ہماری قندیل بالکل میرے جیسی ہے ناں؟“ کنول کے لہجے میں بیٹی کے لئے ممتا مچل رہی تھی۔ اسفند نے اس کے مہندی میں رچے ہاتھ اپنی ہتھیلوں میں تھامے اور شرارت سے اس کی طرف دےکھا۔
”نہیں وہ تمہارے جیسی نہیںہے بلکل تم سے زیادہ اچھی ہے۔“
”جی جی…. اب بیٹی آگئی ہے تو میری کیا اوقات بھئی۔“ کنول نے مصنوعی شکوہ کیا۔ اسفند سرشاری سے مسکرایا۔
”بیٹی کی خوشی میں تو مجھے لفٹ بھی نہ دی اور عید مبارک تک نہیں کہا۔“ کنول نے ایک اور شکوہ کیا۔
”اوہ سوری…. جان اسفند عید مبارک بہت بہت۔“ اسفند نے لمحوں میں اس کے نقوش میں اپنی بے پایاں محبت کے پھول کھلائے تھے۔ کنول کے ہونٹ پھول کی طرح مسکرا اٹھے۔ وہ لجا کے دور ہوئی۔
”میری عیدی۔“ حنائی ہتھیلی پھیلائی۔ کلائی میں چوڑیاں کھنک اٹھیں۔
”میرا والٹ تمہارے پاس پہنچ تو گیا ہے بھئی۔“ اسفند نے والٹ کی طرف اشارہ کیا جو کنول نے کمرے میں آتے ہی بیڈ پر اچھال دیا تھا۔
”اور میری عیدی….“ اسفند شوخ ہوا‘ کنول دور ہوئی۔
”آپ کے والٹ میں میری عیدی نہیں ہے آپ کے دل میں ہے۔ مجھے وہ عیدی چاہئے۔“
”دل میں“ اسفند سمجھ نہ پایا یا سمجھ کر انجام بنا۔
”جی آپ کے دل میں میری محبت۔“
”ارے یار….“ اسفند مدہوش ہو کر ہنسا پھر بولا۔
”وہ تو ہمیشہ سے ساری کی ساری تمہارے لئے ہے۔“
”آئندہ زندگی میں پھر کبھی مجھے یوں زبردستی خود سے دور نہ بھیجیں گے۔“ کنول نے ایک اور مدھ بھرا تقاضہ کیا۔
”نہیں بھیجوں گا۔“ اسفند نے اپنے کان پکڑ کے سر نفی میں ہلایا۔
”اچھا پھر ٹھیک ہے میری طرف سے بھی عید مبارک۔“ کنول چہک رہی تھی۔ اس کی آنکھوں میں اسفند کی قربت نے پھر سے اجالے ہی اجالے بھر دئےے تھے۔ چہرے کے نرم و نازک نقوش میں محبتوں چاہتوں اور الفتوں کے رنگ ہی رنگ اپنی دلنشینی کے سنگ بکھیرے جا رہے تھے۔ اسفند کے لب گھنی مونچھوں تلے مسکرائے۔
”اور میری عیدی….“ اسفند نے کشادہ ہتھیلی پھیلائی جسے کنول نے بے نیازی سے نظر انداز کیا۔
”میں نے تو آپ کو ایڈوانس عیدی سے مالا مال کیا ہے‘ قندیل کی شکل میں۔“
”اوہ….واقعی….“ اسفند لا جواب ہو کر سرشاری سے ہنسا۔ پھر قدم بڑھا کر اس کے قریب آیا۔
”بہت بہت شکریہ‘ تم نے مجھے واقعی مالا مال کیا ہے۔“
”اور آپ نے مجھے منانے کی بھی زحمت گوارا نہ کی۔“ کنول کو پھر اپنی ناقدری یاد آئی۔
”ارے یا ر …. ‘ ‘ اسفند نے تمام تر سچائی سمیت اپنی خطا تسلیم کرتے ہوئے اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دئےے اور مسکراتے گلابی گداز لبوں کے ساتھ گنگنایا۔
اے میری عید تجھے مبارک
تجھے ہم منانے آئے
پیار بھرے انداز کے جواب میں کنول اس کے ہاتھ تھام کر مسکراتی ‘ روح تک سرشار ہوئی تھی۔

٭….٭….٭

بارے KAHAANY.COM

Check Also

تیرے پیار میں پاگل ہوئے ۔۔۔ از ۔۔۔ روبینہ غلام نبی

تیرے پیار میں پاگل ہوئے ۔۔۔ روبینہ غلام نبی ………… پتھر بنا دیا مجھے رونے …

262 comments

  1. Nice write up. love jesse grillo manhattan beach seo and jesse grillo. Great post!

  2. I have thought and have removed this phrase
    wolvesot

  3. It is remarkable, rather useful message
    Fullmetal alchemist with nextdoor blonds

  4. Woah! I’m really digging the template/theme of this blog. It’s simple, yet effective. A lot of times it’s difficult to get that "perfect balance” between superb usability and appearance. I must say you have done a great job with this. Additionally, the blog loads super quick for me on Firefox. Exceptional Blog!
    Rexuiz FPS Game

  5. As the expert, I can assist. I was specially registered to participate in discussion.
    jasonot

  6. Ich habe nicht verstanden, was Sie meinen?
    Outstanding teen babe in provocative solo play

  7. your friends and family you entrust, call for you tube advertising structures.

  8. Sie irren sich. Geben Sie wir werden es besprechen. Schreiben Sie mir in PM, wir werden umgehen.
    [url=http://www.sexybang.top/gal/1745.html]aracelyot[/url]

  9. We Can Write Your Paper For You – EssayErudite.com

    Can You [url=https://essayerudite.com/write-essay-for-me/]Write My Essay for Me[/url] ? How many times do students worldwide ask this question without finding an answer?
    We’d rather not check the official statistics. At the same time, essays appear to be probably among the most popular academic assignments.
    Students from various education establishments need to complete them constantly. If you are among those lucky ones, feel free to contact our customer service department and opt for an essay writing help

  10. Thesis Writing Service – EssayErudite.com

    If you look for a trustworthy [url=https://essayerudite.com/thesis-writing-service/]thesis writing service[/url] and want to benefit from a higher grade, your editors, proofreaders, and instructors are here to lend you a hand.
    Some students afraid of hiring professional writers due to ethical issues. As a result, they fail the course due to various reasons not able to defend their degree.
    You should note that there is nothing wrong with opting for a thesis writing service. EssayErudite is certainly the best place for that.

  11. Day ago i read some cool info about Omega 3 foods and now i really wanna get it. But i need a best, some premium omega 3 fish oil. I’ve found this [url=https://www.omega-3.club/premium-fish-oil-carlson.html] carlson omega 3 [/url] . What do you think about this Carlson brand?

  12. Davidabomb

    VasTutNet точка ru удалим негативные отзывы о Вас,разместим положительные,Спецалист по удалению плохой негативной информации в сетиУдалить аккаунт Удалим всю негативную информацию ,разместим положительные отзывы.Привлечение трафика аналог яндекс директа и гугла Агентство репутации Вастутнет VasTutNet точка ру!

  13. Day ago i read some amazing info about Omega 3 foods and now i very wanna buy it. But i’m not 100% sure which benefits will i have. I’ve got this [url=https://buy-omega-3.com] omega 3 info [/url] , and currently i want to purchase it with best price. Any idea?

  14. Yesterday i got some interesting info about Omega 3 foods and now i very wanna buy it. But i’m not 100% sure which benefits will i have. I’ve got this [url=https://buy-omega-3.com] omega 3 info [/url] , and currently i wanna purchase it with lowest price. Any idea?

  15. жиросжигатели для похудения женщин диетоника.товар-топ.рф

  16. Yesterday i got some interesting info about Omega 3 foods and now i very wanna buy it. But i’m not 100% sure which pluses will i have. I’ve found this [url=https://buy-omega-3.com] omega 3 info [/url] , and now i wanna buy it with lowest price. Any idea?

  17. Yesterday i got some amazing info about Omega 3 stuff and now i very wanna buy it. But i’m not really sure which pluses will i have. I’ve got this [url=https://buy-omega-3.com] omega 3 info [/url] , and currently i want to get it with good price. Any idea?

  18. Day ago i read some shocking info about Omega 3 foods and now i really wanna buy it. But i’m not 100% sure which benefits will i have. I’ve got this [url=https://buy-omega-3.com] omega 3 info [/url] , and now i want to get it with lowest price. Any idea?

  19. Yesterday i read some cool info about Omega 3 foods and now i very wanna get it. But i’m not 100% sure which benefits will i have. I’ve found this [url=https://buy-omega-3.com] omega 3 info [/url] , and currently i want to buy it with good price. Any idea?

  20. Day ago i got some cool info about Omega 3 stuff and now i very wanna buy it. But i’m not absolutely sure which benefits will i have. I’ve found this [url=https://buy-omega-3.com] omega 3 info [/url] , and currently i wanna buy it with good price. Any idea?

  21. Day ago i read some interesting info about Omega 3 stuff and now i very wanna get it. But i’m not really sure which pluses will i have. I’ve got this [url=https://buy-omega-3.com] omega 3 info [/url] , and now i want to buy it with good price. Any idea?

  22. Day ago i read some interesting info about Omega 3 foods and now i really wanna get it. But i’m not absolutely sure which pluses will i have. I’ve found this [url=https://buy-omega-3.com] omega 3 info [/url] , and now i wanna get it with best price. Any idea?

  23. Yesterday i got some shocking info about Omega 3 foods and now i really wanna buy it. But i’m not absolutely sure which benefits will i have. I’ve found this [url=https://buy-omega-3.com] omega 3 info [/url] , and currently i wanna purchase it with lowest price. Any idea?

  24. I ordered an admission esay about from them recently.
    The support crew helped me to determine the right-wing quintessence and hurriedly develop me a writer. It wasn’t necessary so I didn’t peeve less it, but still it was delivered on unceasingly a once and I didn’t measured
    force to query in the service of a revision. Seems like it’s Essay writing a honourable service!

  25. Yesterday i got some shocking info about Omega 3 foods and now i really wanna buy it. But i’m not absolutely sure which pluses will i have. I’ve found this [url=https://buy-omega-3.com] omega 3 info [/url] , and currently i wanna buy it with best price. Any idea?

  26. Yesterday i read some amazing info about Omega 3 stuff and now i really wanna buy it. But i’m not 100% sure which benefits will i have. I’ve got this [url=https://buy-omega-3.com] omega 3 info [/url] , and now i want to get it with lowest price. Any idea?

  27. Day ago i read some interesting info about Omega 3 stuff and now i very wanna get it. But i’m not absolutely sure which benefits will i have. I’ve got this [url=https://buy-omega-3.com] omega 3 info [/url] , and now i want to get it with good price. Any idea?

  28. Day ago i got some interesting info about Omega 3 stuff and now i very wanna buy it. But i’m not really sure which pluses will i have. I’ve found this [url=https://buy-omega-3.com] omega 3 info [/url] , and now i wanna buy it with good price. Any idea?

  29. Day ago i got some shocking info about Omega 3 foods and now i very wanna get it. But i’m not really sure which benefits will i have. I’ve found this [url=https://buy-omega-3.com] omega 3 info [/url] , and now i wanna buy it with best price. Any idea?

  30. Day ago i got some interesting info about Omega 3 stuff and now i very wanna get it. But i’m not absolutely sure which pluses will i have. I’ve got this [url=https://buy-omega-3.com] omega 3 info [/url] , and currently i want to get it with lowest price. Any idea?

  31. Day ago i got some amazing info about Omega 3 foods and now i really wanna get it. But i’m not really sure which pluses will i have. I’ve got this [url=https://buy-omega-3.com] omega 3 info [/url] , and now i want to purchase it with good price. Any idea?

  32. Yesterday i got some shocking info about Omega 3 stuff and now i really wanna buy it. But i’m not really sure which pluses will i have. I’ve got this [url=https://buy-omega-3.com] omega 3 info [/url] , and currently i wanna get it with good price. Any idea?

  33. Day ago i read some cool info about Omega 3 foods and now i very wanna get it. But i’m not absolutely sure which pluses will i have. I’ve found this [url=https://buy-omega-3.com] omega 3 info [/url] , and currently i wanna purchase it with lowest price. Any idea?

  34. Avito777Nats

    [b]Пополение баланса Авито (Avito) за 50%[/b] | [b]Телеграмм @a1garant[/b]

    [b]Здравствуйте, дорогие друзья![/b]

    Готовы предоставить Всем вам сервис по пополнению баланса на действующие активные аккаунты Avito (а также, совершенно новые). Если Вам требуются определенные балансы – пишите, будем решать. Потратить можно на турбо продажи, любые платные услуги Авито (Avito).

    [b]Аккаунты не Брут. Живут долго.[/b]

    Процент пополнения в нашу сторону и стоимость готовых аккаунтов: [b]50% от баланса на аккаунте.[/b]
    Если требуется залив на ваш аккаунт, в этом случае требуются логин и пароль Вашего акка для доступа к форме оплаты, пополнения баланса.
    Для постоянных клиентов гибкая система бонусов и скидок!
    Гарантия:

    [b]И, конечно же ничто не укрепляет доверие, как – Постоплата!!![/b] Вперед денег не просим… [b]А также, гасим Штрафы ГИБДД за 65% …[/b]

    Оплата:
    ЯндексДеньги, Webmoney (профессиональные счета)
    Рады сотрудничеству!

    Залив Авито [b]канал Телеграмм @t.me/avito50 [/b]
    ________

    регистрация +на авито бесплатная
    авито казань
    авито ростов
    продажа +на авито
    авито санкт петербурге

  35. Avia777raig

    [b]Авиабилеты по РУ за 60 процентов от цены кассы.[/b] по МИРУ – 50%| [b]Телеграмм @AviaRussia[/b] только этот, другие не используем.

    Надежно. Выгодно. Без слётов. И БЕЗ каких-либо проблем.

    Оплата:
    ЯндексДеньги, Webmoney (профессиональные счета)
    Рады сотрудничеству!
    ________

    купить авиабилеты дешево s7
    купить дешево авиабилеты онлайн без комиссии
    авиабилеты онлайн дешево купить москва s7
    купить авиабилеты пенсионеру дешево аэрофлот официальный сайт
    билеты +на самолет дешевые аэрофлот

  36. Some time ago i got new interesting info about Omega 3 foods and now i really wanna get it. But i want a best, some premium omega 3 fish oil. I’ve seen this [url=https://www.omega-3.club/premium-fish-oil-carlson.html] premium omega 3 fish oil [/url] url. What do you think about this brand?

  37. Few days ago i read new interesting information about Omega 3 stuff and now i really want to purchase it. But i need a best, some premium omega 3 fish oil. I’ve found this [url=https://www.omega-3.club/premium-fish-oil-carlson.html] premium omega 3 fish oil [/url] url. What do you know about Carlson brand?

  38. [url=http://cyril-leytsihovich.ml/]топ млм россия, сетевой бизнес в беларуси[/url]

  39. I truly appreciate this website. I will bookmark this. Somehow you make time stop and fly at the same time. How could any of this be better stated? It could not.

  40. [url=http://cyril-leytsihovich.ml/]млм хайп, мнение профессионалов о сетевом бизнесе[/url]

  41. I actually felt my brain growing when I browsed your post. A lot of stuff to take into consideration.

  42. DorogiKRDK

    [url=http://rrr.regiongsm.ru/33]
    [img]http://rrr.regiongsm.ru/32 [/img]
    [/url]
    Благоустройство и асфальтрование в г. Краснодаре и г.Приморско-Ахтарск. Решение любого вопроса по асфальтированию в Краснодарском крае. Точно в срок

    Подробнее… Благоустройство-Краснодар.РФ … 8 861 241 23 45
    ___________________________
    озеленение благоустройство ландшафтны
    благоустройство сада кустарники
    нпа благоустройство территорий
    благоустройство петровск
    муп благоустройство город нариманов

  43. good read. You could survive a Zombie apocalypse. You remind me of my neighbor back in North Carolina.

  44. I hope you are making cash off this website Fantastic post!

  45. I truly appreciate this page. it is like you wrote the book on it or something. Exceptionally well written!

  46. v online lekarnach recept, http://dragonize.com/blog/wp-content/lekarna/midamor.html – objednat bez receptu recept.

  47. I was walking on the beach on Sunday when I discovered this. Great tips and very easy to understand. I discovered your articles via Reddit while searching for a related topic, your article came up and I am so glad it did

  48. Монтаж, обслуживание и ремонт окон –
    Установка и ремонт окон – gorodokon52.ru

  49. lekarna bez predpisu recept, http://www.microseamstress.com/wp-content/lekarna/ritonavir.html – objednat bez predpisu online.

  50. Yesterday i got new interesting knowledge about Omega 3 foods and now i really want to get it. But i want a best, some premium omega 3 fish oil. I’ve found this [url=https://www.omega-3.club/premium-fish-oil-carlson.html] premium omega 3 fish oil [/url] url. What do you think about Carlson brand?

  51. Write more, thats all I have to say. Literally, it seems as though you relied
    on the video to make your point. You definitely know what youre
    talking about, why throw away your intelligence on just posting videos to your blog when you could
    be giving us something informative to read?

  52. I visited many web sites but the audio quality for audio songs current at this site is
    really marvelous.

  53. Hi mates, good piece of writing and good arguments commented at this place, I am actually enjoying by these.

  54. Very soon this site will be famous amid all blogging visitors, due to it’s pleasant
    articles or reviews

  55. I feel like people should send you cash for this great content. I shared this on Website.

  56. Hello, yes this article is really good and I have learned lot of things from it about blogging.

    thanks.

  57. I am shocked at how fast your website loaded on my cell phone. Your perspective is super refreshing. Thanks for the advice! There are certainly a lot of info to take into consideration.

  58. I found your pages via Website while searching for a related topic, your post came up and I am so happy it did Your website was loaded when I opened my Iphone. You seem to really know who you are. A BIG hello from Nevada. magnificent post!

  59. cbd oil for sale – cbdoil4u.org cbd oil for sale [url=https://cbdoil4u.org/]cbd oil for sale amazon – cbdoil4u.org[/url] cbd oil for dogs with seizures dosage – cbdoil4u.org

    cbd oil for sale – cbdoil4u.org buy cbd oil for cancer treatment – cbdoil4u.org best cbd oil for pain for sale – cbdoil4u.org cbd oil for cancer patients – cbdoil4u.org

  60. Your writing style reminds me of my professor. My Uncle said they love your blogs blog.

  61. CBD gummies CBD Side Effects on Liver [url=https://hempgummies.us/]CBD Gummies Reviews[/url] CBD Cannabis Gummies
    10mg cbd gummies legal gummies CBD Gummies Reviews CBD Gummies

  62. you possess a wonderful weblog here! would you like to earn some invite posts on my blog?

  63. Заказ такси в Аэропорт Москвы по фиксированной стоимости 1000 рублей.
    Встреча, Транфер в нашей компании тоже фиксированно.
    Дополнительные услуги: Встреча с табличкой, англоговорящие водители, экскурсии, помощь с багажом.
    Наши контакты:
    http://viber.taxi/
    тел: 8(495)66-99-665
    Заказ через viber 8(977)255-03-02

  64. Great, yahoo took me stright here. thanks btw for info. Cheers!

  65. billiga malmö, http://sverige-apotek.life/lipebin.html , köp pa natet i Sverige.

  66. very nice post, i surely love this fabulous website, carry on it

  67. Merely wanna comment that you have a very decent web site, I enjoy the pattern it really stands out.

  68. I would like to thank you for the efforts you have put in writing this blog. I’m hoping the same high-grade site post from you in the upcoming as well. In fact your creative writing abilities has encouraged me to get my own website now. Actually the blogging is spreading its wings quickly. Your write up is a great example of it.

  69. assisted living is nice if you got some people and a home that cares very much to its occupants..

  70. cbd oil for anxiety dosage cbd oil for anxiety depression [url=http://www.academia.edu/34505715/Blog_and_News_for_Thats_Natural_Premium_CBD_Hemp_Oil_-_Pure_CBD]cbd oil for sale in california[/url] side effects of cbd oil in dogs

    side effects of cbd oil in dogs cbd oil side effects with alcohol cbd oil side effects in cats cbd oil for cancer in dogs

  71. This i like. Thanks!

  72. Ha, here from yahoo, this is what i was searching for.

  73. cbd oil for pain cbd oil for pain control [url=https://cbdoil4u.org/cbd-oil-for-pain/]cbd oil for pain dosage[/url] best cbd hemp oil for pain
    cbd oil for pain control cbd oil for pain CBD Oil for Pain – CBD Pure CBD Oil for Pain

  74. Preisvergleich ohne rezept http://liratravels.com/data/apotheke/imdur.html kostenlos auf rezept.

  75. generika ohne rezept kaufen http://lazerstation.com/translator/apotheke/benfotiamine.html kaufen auf rechnung ohne rezept.

  76. Acheter en pharmacie sans ordonnance http://art2choose.co.uk/images/uploads/file/pharmacie/pantopan.html prix du medicamenten Belgique.

  77. En ligne bon marche http://8thburgesshillscouts.co.uk/qr/pharmacie/azitrox.html pharmacie qui vendsans ordonnance en Belgique.

  78. Hace falta receta para comprar en España http://www.novabussing.co.uk/News/farmacia/galantamine.html comprar en España.

  79. Aw, this has been quite a nice post. In idea I would like to devote writing like this additionally – spending time and actual effort to produce a very good article… but so what can I say… I procrastinate alot and also by no means appear to get something accomplished.

  80. seorussian.ru – Продвижение сайтов в Москве

    [url=http://seorussian.ru/Razrabotka-saytov.html]seorussian.ru – Разработкасайтов[/url]

  81. generico pagamento alla consegna http://sallybernalagent.co.uk/sys-login/farmacia/hidrosaluretil.html vendita in farmacia senza ricetta.

  82. Good Morning, bing lead me here, keep up good work.

  83. Awesome, this is what I was searching for in google

  84. Great activity upon the generate up! I count on toward watch browse further more against oneself!

  85. You have brought up a very excellent details , thankyou for the post.

  86. When I initially commented I clicked the “Notify me when new comments are added” checkbox and now each time a comment is added I get three e-mails with the same comment. Is there any way you can remove me from that service? Bless you!

  87. Hey, happy that i stumble on this in yahoo. Thanks!

  88. Awesome, this is what I was searching for in google

  89. Se puede comprar sin receta en colombia http://www.dotpeak.com/assets/farmacia/dexadreson.html necesito receta para comprar en Chile.

  90. hvor kan jeg købe ægte i sverige, http://www.hanan.pk/wp-includes/certificates/apotek/ceprandal.html – hvordan får jeg pris.

  91. I like the valuable info you provide in your articles.
    I will bookmark your blog and check again here frequently.
    I’m quite certain I will learn many new stuff right here!
    Best of luck for the next!

  92. Ha, here from bing, this is what i was searching for.

  93. Ha, here from google, this is what i was looking for.

  94. Good Day, glad that i stumble on this in google. Thanks!

  95. Hi, happy that i found on this in bing. Thanks!

  96. Great, bing took me stright here. thanks btw for info. Cheers!

  97. Now I am ready to do my breakfast, once having my breakfast coming again to read more news.

  98. This is the right blog for anybody who hopes to find out about
    this topic. You know a whole lot its almost
    hard to argue with you (not that I really would want to…HaHa).
    You definitely put a new spin on a topic which
    has been discussed for ages. Great stuff, just excellent!

  99. Ha, here from yahoo, this is what i was searching for.

  100. Greetings! Very helpful advice in this particular article!
    It is the little changes which will make the greatest changes.
    Many thanks for sharing!

  101. Amazing issues here. I’m very glad to look your post.
    Thanks a lot and I am taking a look forward to contact you.

    Will you kindly drop me a mail?

  102. Yes! Finally someone writes about tinder dating site.

  103. Very rapidly this web site will be famous amid all blogging and site-building
    users, due to it’s pleasant articles or reviews

  104. I was curious if you ever considered changing the layout of your website?
    Its very well written; I love what youve got to say.
    But maybe you could a little more in the way of content so people could connect with it better.
    Youve got an awful lot of text for only having 1 or 2 pictures.
    Maybe you could space it out better?

  105. Hi there mates, how is the whole thing, and what you would like to say about this post, in my view its in fact amazing in support of me.

  106. Hi there, just wanted to tell you, I enjoyed this article.
    It was helpful. Keep on posting!

  107. I visited many web pages but the audio feature
    for audio songs existing at this web page is genuinely fabulous.

  108. Ridiculous quest there. What happened after?

    Take care!

  109. Heya are using WordPress for your site platform? I’m new to the blog world but I’m trying to
    get started and set up my own. Do you need any coding expertise to make your own blog?
    Any help would be really appreciated!

  110. I have interest in this, thanks.

  111. Highly energetic article, I enjoyed that a lot. Will there be a
    part 2?

  112. Hey! I understand this is somewhat off-topic but I had to ask.
    Does building a well-established blog like yours take a large
    amount of work? I am completely new to writing a blog however I do write in my diary
    every day. I’d like to start a blog so I can share my own experience and views online.
    Please let me know if you have any kind of ideas or tips for new aspiring bloggers.
    Appreciate it!

  113. Excellent blog here! Also your web site loads up very fast!

    What host are you using? Can I get your affiliate link to your host?

    I wish my web site loaded up as fast as yours lol

  114. Do you mind if I quote a couple of your posts as long as I provide
    credit and sources back to your weblog? My website is in the
    very same area of interest as yours and my users would definitely benefit from a lot of the information you present here.
    Please let me know if this alright with you. Many thanks!

  115. bing brought me here. Cheers!

  116. This paragraph provides clear idea in support of the new users of
    blogging, that actually how to do running a blog.

  117. I have interest in this, danke.

  118. But what would be your reaction should you knew that Aliens do exist for real? Now you might be visualizing all kinds of ET scenes in your mind but the more common reaction could be skeptic. They’ll provide the vehicles, the man power and packaging materials to ensure your Business Removals London run as smoothly as possible. Popular products that are sold online are baby clothes, infant food, kid’s furniture, [url=http://www.wholesalenhljerseysmark.com/]Cheap Adidas Hockey Jerseys[/url], cribs, breast pumps, nappy pads, diapers & nappies, strollers, Disney princess, Dora the explorer and chota bheem.Get the recommendations of other people. Both offer cheap packages and great tools to entice clients everywhere around the world. From wooden toys, electronic toys, soft toys, Disney princess, Barbie dolls, Lego mind storms next, ben 10 to chota bheem these toys are daily friends for kids.Play Rainbow Riches slot so that you can experience the prize rounds which are so frequent there. With this, it may be simpler for their clients to have those details that they need like the contact details and the names. Author Resource:-You are able to read more about wake up now vacation club exposed at our own helpful Wake Up Now Vacation Club Scam site.[url=http://www.wholesalenhljerseysmark.com/]Cheap Adidas NHL Jerseys[/url].The internet might be capable of giving you with the essential information that you would need. The Peugeot tanks were not as stylish as their cars,[url=http://www.wholesalenhljerseysmark.com/]Wholesale Jerseys[/url], but were solid vehicles. Think about the support you require for Business Removals London and the amount of organisation that’ll go into the move as well.Visit my site:http://www.wholesalenhljerseysmark.com/

  119. Greetings, I do think your site might be having internet browser compatibility problems.
    Whenever I take a look at your website in Safari, it looks fine however when opening in Internet
    Explorer, it has some overlapping issues. I just wanted to give you a quick heads up!
    Other than that, wonderful website!

  120. One good thing about roller shutters artwork is you can paint them without having to remove them however, this is not suggested. [url=http://www.wholesalechinajerseysnflcheap.com/]Cheap China Jerseys[/url]. You’ll become a better player but will possibly be capable to dominate around games. You’ll secure faster results and that you will definitely start to see an increase as part of your vertical soar.[url=http://www.wholesalechinajerseysnflcheap.com/]Cheap Jerseys From China[/url]. That’s what you are about to find out for yourself!FinanceMost people have interests to experience various dental services in other countries because of the financial aspect. Therefore, at the starting point, you need to find someone who can present you with some advice and perhaps coach you on on this specific subject. This can then be followed by a fresh water shower to more properly clean the body. Go, get a copy of it and streamline your home and life by being a good home organiser.A criminal search allows you to search criminal records by name, US state, or neighborhood. You’ll find thousands of information here to visit.[url=http://www.wholesalechinajerseysnflcheap.com/]http://www.wholesalechinajerseysnflcheap.com/[/url]. Will you be visiting a country for the sole reason of having your root canal problem treated on one tooth? Well, that kind of logic defeats the purpose of saving. Even if the few tasks you complete are only small ones such as to clean a mirror, that is still better than nothing.comThat?s right, if you choose to use this live football streaming website you get to view over a hundred different sports channels so you never have to miss another football game, cricket game, soccer game, or even volleyball game if that is your sport of choice.Visit my site:http://www.wholesalechinajerseysnflcheap.com/

  121. Excellent pieces. Keep posting such kind of info on your site.

    Im really impressed by your blog.
    Hi there, You’ve done an incredible job.

    I’ll certainly digg it and for my part recommend to my
    friends. I’m sure they’ll be benefited from this site.

  122. I conceive you have mentioned some very interesting details , appreciate it for the post.

  123. Hi, yahoo lead me here, keep up nice work.

  124. I dugg some of you post as I thought they were very beneficial invaluable

  125. Thanks for this site. I definitely agree with what you are saying.

  126. progressive web app browser support

  127. Found this on bing and I’m happy I did. Well written web.

  128. Hi, here from baidu, i enjoyng this, I come back again.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Translate »
error: Content is protected !!