مسکن / افسانہ

افسانہ

ضدی ۔۔۔ از ۔۔۔ ناہید طاہر

ضدی ۔۔۔۔ ناہید طاہر   چار سالہ پری کاجی پتہ نہیں کیوں آج اسکول جانے کے لئے قطعی تیار نہیں تھا۔ ” امی مجھے نہیں جانا ہے ۔۔۔!!! "وہ ماں سے لپٹ کرالتجا کرنے لگی۔ "اچھے بچے ضد نہیں کرتے۔۔۔!!!” "ممی پلیز۔۔۔۔! ” "اسکول نہیں جاؤگی تو لائق ڈاکٹر کیسے …

آگے پڑھیں

آدھے خدا ۔۔۔ از ۔۔۔ محمد زبیر مظہر پنوار

آدھے خدا آ گئی تم ودیا ” بہت دیر کر دی ؟ دیر کہاں ” پونے سے بنارس تک کا سفر تم تو جانتی ہی ہو ۔۔۔ بیٹھ جاؤ ” پانی دوں ؟ ۔۔ نہیں ” یہ بتاؤ کہ آخری دنوں میں ویر کیا کہا کرتا تھا (ودیا نے درد …

آگے پڑھیں

صفائی نصف ایمان ۔۔۔ محمد زبیر مظہر پنوار

صفائی نصف ایمان دن بھر محنت مزدوری کرنے کے بعد جیمس میونسپل کمیٹی سے اپنے گھر واپس آنے کی تیاری کر رہا تھا ۔۔ گندگی اور غلاظت سے لتھڑے اپنے ہاتھوں اور لباس کو دھونے کے واسطے وہ معمول کے مطابق میونسپل کمیٹی کی لیٹرین میں پہنچا ہی تھا کہ …

آگے پڑھیں

سستی زندگی …. ناہیدطاہر

سستی زندگی …. ناہیدطاہر   ظفراپنی گاڑی کی رفتارتیز کیےگاڑی کے ساتھ دوڑتے خوبصورت قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہوتا ہوا سیٹی پر کوئی دُھن گنگنانے لگا۔ وہ صحراءمیں سرابوں کے پیچھے دوڑتا اکثر ان دلکش نظاروں کو یاد کرتا ہوا اداس ہوجاتا تھا۔ ظفر جب بھی چھٹی پر ہندوستان آتا، …

آگے پڑھیں

شیطان ….. محمد نواز

شیطان ” یہ انسان نہیں شیطان ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اسے جتنا مار سکتے ہو مارو “ مجمع سے ایک گرج دار آواز ابھری ،پھر لاتوں ،مکوں ،ٹانگوں اور تھپڑوں کا آزادانہ استعمال ہونے لگا ۔” مجھے تو اس مولوی پر پہلے ہی شک تھا کہ یہ ملاں نہیں شیطان ہے “ …

آگے پڑھیں

بن بھاڑے کا ٹٹو ۔۔۔۔ محمد زبیر مظہر پنوار

’’کیوں مجھ سے اسقدر محبت کرتی ہو مسرت؟‘‘ ’’کیا محبت کرنے کی کوئی وجہ ہوتی ہے زبیر” مسرت نے زبیر کے سوال کا جواب سوال سے دیا ۔۔۔ ’’ہاہاہا  ۔۔۔میں جانتا تھا تمہارا جواب یہی ہوگا ۔۔ جانتی ہو مسرت تم جیسے لوگوں کا مسئلہ کیا ہے ؟ ۔۔۔۔تم لوگ  …

آگے پڑھیں

ادرک کا سواد ۔۔۔۔ میاں امجد جاوید

شہر بھر کی طوائفوں نے تلسیؔ کی واپسی پر ذرا سی بھی حیرت کا اظہار نہیں کیا۔ وہ چند ماہ پہلے ایک پنڈت کے بھاشن سے متاثر ہو کر اس نےسب کچھ چھوڑ دیا تھا۔ اس نے جوگ لے لیا تھا۔ تھوڑے ہی دنوں کے بعد پتہ چلا کہ وہ …

آگے پڑھیں

تنہائی ۔۔۔۔ باسط آزر

ہیلو پیاری زینا ۔ میں تمہارا زیناریو  ۔ پریشان مت ہونا ، میں وہی زیناریو جو پہلے سیمبو تھا ، وہی قبائلی جو وحشی تھا ، اب میں مہذب ہو گیا ہوں تو اپنا نام بدل لیا ہے تم سناؤ کیسی ہو ، ہمیشہ کی طرح تمہارا جواب اس بار …

آگے پڑھیں

حفاظت ۔۔۔ از ۔۔۔ محمد زبیر مظہر پنوار

اللہ توبہ تم کیسے اس تمبوں نما کپڑے میں خود کو بند کیۓ رھتی ھو” عمیرہ نے ھادیہ سے گلے ملنے کے بعد الگ ھوتے ھوۓ کہا.پھر  بلا تاخیر بولی اوپر سے ھاتھوں پہ دستانے پاؤں میں جرابیں  پہنے ھوتی ھو’ کیا تمھیں گرمی کا احساس نہیں ھوتا” اپنی حالت …

آگے پڑھیں

نیلی آنکھوں کے گلدستے ۔۔۔ ترجمہ ۔۔۔ غنی غیور

جب میں بستر سے اٹھا تو میرا بدن پسینے سے شرابور تھا تھوری دیر پہلے  میں نے  کمرے کے فرش پر پانی چھڑکا تھا  جس کی سرخ ٹائلوں سےآبی  بخارات اڑ ریے تھے ۔۔۔ایک پتنگا بجلی کے روشن بلب کے چومکھی چکر کاٹ رہاتھا۔روشنی  نے اسے چندھیا دیا تھا۔۔۔میں اپنے …

آگے پڑھیں
Translate »
error: Content is protected !!