مسکن / ادبی

ادبی

یزید —- سعادت حسن منٹو

یزید (سعادت حسن منٹو) سن سینتالیس کے ہنگامے آئے اور گزر گئے بالکل اسی طرح جس طرح موسم میں خلاف معمول چند دن خراب آئیں اور چلے جائیں۔ یہ نہیں کہ کریم داد مولا کی مرضی سمجھ کر خاموش بیٹھا رہا۔ اس نے اس طوفان کا مردانہ وار مقابلہ کیا …

آگے پڑھیں

جینی ۔۔۔۔ از ۔۔۔۔ شفیق الرحمٰن

ہوائی جہاز پر سوار ہوتے وقت مجھے کچھ شبہ ہوا۔ نیلے لباس والے لڑکی سے پوچھا تو اس نے بھی اثبات میں سر ہلایا، جب ہم جہاز سے اترے تو مجھے یقین ہو گیا اور میں نے پائپ پیتے آکسفورڈ لہجے میں انگریزی بولتے ہوئے پائیلٹ کو دبوچ لیا۔ ہم …

آگے پڑھیں

سومنگلی ۔۔۔۔ ترجمہ : اعجاز عبید ۔۔۔۔ تحریر : کاویری

’’آہ ! او ماں ! آہ‘‘ بخار سے سگیا بے چین ہے۔ بدن کے درد سے کہیں زیادہ درد اس کے دل میں ہے۔ کیوں کہ اپنے پن کے دو لفظ کسی سے نہیں ملے۔ اس بھری دنیا میں اس کا اپنا کہلانے والا ہے بھی کون؟ کوئی تو نہیں۔ …

آگے پڑھیں

 ٹوبہ ٹیک سنگھ ۔۔۔۔ از ۔۔۔۔ سعادت حسن منٹو

بٹوارے کے دو تین سال بعد پاکستان اور ہندوستان کی حکومتوں کو خیال آیا کہ اخلاقی قیدیوں کیطرح پاگلوں کا تبادلہ بھی ہونا چاہیے یعنی جو مسلمان پاگل، ہندوستان کے پاگل خانوں میں ہیں انہیں پاکستان پہنچا دیا جائے اور جو ہندو اور سکھ پاکستان کے پاگل خانوں میں ہیں۔ …

آگے پڑھیں

تین سوال ۔۔۔۔ از ۔۔۔۔ لیو ٹالسٹائی ۔۔۔۔۔ ترجمہ سعادت حسن منٹو

ایک دفعہ کسی بادشاہ کے دل میں خیال آیا کہ اگر اسے تین چیزیں معلوم ہو جائیں تو اسے کبھی بھی شکست کا منہ دیکھنا نہ پڑے گا اور جس کام میں ایک دفعہ ہاتھ ڈال دے حسب خواہش انجام پذیر ہو جائے۔ جن چیزوں نے اس پر رات کی …

آگے پڑھیں

کہانی کی تلاش ۔۔۔۔ از ۔۔۔۔ ممتاز مفتی

تلاش میں مارا مارا پھر رہا تھا۔ تھک کر چور ہو گیا تو میں رک گیا، وہ بھی رک گیا۔ سڑک کنارے ایک تھڑے پر بیٹھ گیا، وہ بھی بیٹھ گیا۔ مجھے اس کا ساتھ پسند نہیں ، بڑا نکتہ چین ہے، بات بات پر ٹوکتا ہے۔ لیکن وہ میری …

آگے پڑھیں

” گمشدہ جنگل "

کورا ایک ایسے شخص کا نام ہے جو کاشت کاری کرتا تھا۔ محنت و مشقت کرنے کے بعد جب اس نے خاصی رقم اکٹھی کر لی تو وہ ایک غلام خریدنے کی غرض سے ایک چھوٹے سے شہر پہنچ گیا۔ دلال نے اُسے کئی غلام دکھائے لیکن کسی پر بھی …

آگے پڑھیں

” اُترن "

’’نکو اللہ، میرے کو بہوت شرم لگتی۔‘‘ ’’ایو اس میں شرم کی کیا بات ہے؟ میں نئیں اتاری کیا اپنے کپڑے؟‘‘ ’’اوں …. چمکی شرمائی۔‘‘ ’’اب اتارتی کی بولوں انا بی کو؟‘‘ شہزادی پاشا جن کی رگ رگ میں حکم چلانے کی عادت رچی ہوئی تھی، چلا کر بولیں۔ چمکی …

آگے پڑھیں
Translate »
error: Content is protected !!