مسکن / قسط وار

قسط وار

اسے ٹوٹ کر چاہا ہم نے ۔۔۔ قسط 5

اسے ٹوٹ کر چاہا ہم نے ۔۔۔ قسط 5 ”تم؟“ زرگل نے حیرت سے اسے پرسکون انداز میں گاڑی کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑے دےکھا۔ اسکائی بلیو سوٹ پر اپنے مخصوص ہیئر اسٹال میں اسے ناگواری سے گھورتی وہ سیدھی دل میں اترتی محسوس ہوئی۔ ”بے شک مجھے دےکھ …

آگے پڑھیں

عکس ماورا ۔۔۔ از ۔۔۔ ناصر افتخار (قسط 5)

عکس ماورا رمضان سٹور پر اکیلا ہی بیٹھا مکھیاں مار رہا تھا ۔ اس نے اپنے مکان کے ساتھ ہی ایک دکان بنا کر اس میں سٹور کھول رکھا تھا۔ اسی دکان سے اس کے گھر کا خرچ چلتا تھا۔ ” او خیر آﺅ آﺅ عامر بھائی!۔کیا حال چال ہیں؟“ …

آگے پڑھیں

عکس ماورا۔۔۔ قسط 4

عکس ماورا "راجا !کچھ تو ترس کھا ۔مجھے اس سے پیار ہو گیا ہے ۔میں سب لڑکیوں کو بھول چکا ہوں ۔وہ مجھے اس روپ میں دیکھے گی تو اسے بے حد دکھ ہوگا ” میں نے دہائی دی۔ راجا فورًا بولا ” تو میں نے کب کہا کہ اسے …

آگے پڑھیں

اسے ٹوٹ کر چاہا ہم نے ۔۔۔ قسط 4

اسے ٹوٹ کر چاہا ہم نے ۔۔۔ قسط 4 "یہ بیوقوف ملا کہاں سے تمہیں؟” "میثم! مار ڈالوں گی تمہیں اگر تم نے ارسل کے متعلق ایک لفظ بھی غلط کہا۔” اس کی توقع کے عین مطابق رشنا بھڑک گئی تھی۔ "اوہو اب ہم غیر ہو گئے کہ اس اوہ …

آگے پڑھیں

” (عکس ماورا (قسط:3 "

"عامر ! خیر ہے نا تو کچھ کھویا کھویا ساہے ” عرفان بھائی نے متفکر نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے کہا ۔ "نہیں بھائی ! کوئی بات نہیں” بس آفس میں پنگا ہو گیا تھا "چل چھوڑ ۔ٹینشن نہ لیا کر ” انھوں نے کہا تومیں بھی سر جھٹک کر …

آگے پڑھیں

” 3 اسے ٹوٹ کر چاہا ہم نے قسط "

"بھلا میری حماقتوں کا اس کو کیا پتا، وہ تو مجھ سے ایک برس تین ماہ بڑی ہونے کے زعم میں مبتلا ہے۔”” اسے سامنے پا کر پژمردگی کا نام و نشان بھی نہ رہا تھا۔ وہ تیزی سے وارڈروب کی طرف بڑھا اور کیمرہ اٹھا کر پھر سے کھڑکی …

آگے پڑھیں

” عکس ماورا…..قسط 2 "

"جی مجھے ناہید کہتے ہیں ” اس نے خوش دلی سے جواب دیا۔ "اگر آپ بول سکتی ہیں تو یہ بھی بتا دیجیے کہ چائے پی سکتی ہیں یا نہیں” "نہیں شکریہ تصویروں کو بھوک نہیں لگتی ” اس نے قہقہہ لگایا ۔میں بھی ہنس دیا ۔ پھر میں چائے …

آگے پڑھیں

” اسے ٹوٹ کر چاہا ہم نے……قسط 2 "

زہیر چاچو کے ڈانٹنے کے باوجود اس نے گھر میں اپنی آمد کی اطلاع نہیں دی تھی۔ اسے پتا تھا بابا اسے بہت ڈانٹیں گے اس سرپرائز پر، لیکن وہ اپنی فطرت سے مجبور تھا اس کا دل چاہتا تھا کہ ہر لمحہ ہلچل مچاتا رہے۔ اور گھر تو وہ …

آگے پڑھیں

” عکس ماورا "

رات کے دو بج رہے تھے۔پچھلے چار گھنٹے سے میں کمپیوٹر پر کام کر رہا تھااور مزید بیٹھنے کا میرا کوئی ارادہ نہیں تھا۔کمپیوٹر آف کر کے میں نے چادر کی بکل ماری اور چھت پر چلا آیا۔میری چھت کی منڈیر سے سامنے کی سڑک نظر آتی ہے ۔اکثر میںیہاں …

آگے پڑھیں

” اسے ٹوٹ کر چاہا ہم نے "

خداحافظ تک نہیں کہا جاتے جاتے….” غصے کی چنگاریاں اس کے تن من کو جھلسا رہی تھیں۔ کھڑکی کے پٹ کو ناگواری سے دھکیلتے ہوئے اس نے نیچے جھانکا تو ہر سو رگ رگ میں اترتا ایک عجیب سناٹا اس کا منتظر تھا۔ بھلا اب ہر طرف یہ خاموشی کیوں …

آگے پڑھیں
Translate »
error: Content is protected !!