مسکن / کلاسیکی / باغ و بہار یعنی قصہ چہار درویش (قسط 4)

باغ و بہار یعنی قصہ چہار درویش (قسط 4)

بارے آفتاب تمام دن کا مسافر تھکا ہوا، گرتا پڑتا اپنے محل میں داخل ہوا اور ماہتاب دیوان خانے میں اپنے مصاحبوں کو ساتھ لے کر نکل بیٹھا، اس وقت دائی آئی اور مجھ سے کہنے لگی کہ چلو پادشاہ زادی نے یاد فرمایا ہے۔ میں اس کے ہمراہ ہو لیا خلوت خاص میں لے گئی۔ روشنی کا یہ عالم تھا کہ شب قدر کو وہاں قدر نہ تھی اور بادشاہی فرش پر مسند مغرق بچھی ہوئی مرصع کا تکیہ لگا ہوا اور اس پر ایک شمیانہ موتیوں کا جھالر کا جڑاؤ استادوں پر کھڑا ہوا۔ اور سامنے مسند کے جواہر کے درخت پھولوں پات لگے ہوئے، گویا عین قدرتی ہیں۔ سونے کی کیاریوں میں جمے ہوئے اور دونوں طرف دست چپ شاگرد پیتے اور مجرائی دست بستہ، با ادب آنکھیں نیچی کئے ہوئے حاضر تھے اور طوائفیں اور گائنیں سازوں کے سُر بنائے منتظر۔ یہ سماں اور یہ تیاری کروفر دیکھ کر عقل ٹھکانے نہ رہی۔ دائی سے پوچھا کہ دن کو وہ زیبائش اور رات کو یہ آرائش کہ دن عید اور رات شب برات کہا چاہیے۔بلکہ دنیا میں بادشاہت ہفت اقلیم کو یہ عیش میسر نہ ہو گا۔ کیا ہمیشہ یہی صورت رہتی ہے؟ دائی کہنے لگی کہ ہماری ملکہ کا جتنا کارخانہ تم نے دیکھا یہ سب اسی دستور سے جاری ہے۔ اس میں ہرگز خلل نہیں۔ بلکہ افزوں ہے۔ تم یہاں بیٹھوں دوسرے مکان میں تشریف رکھتی ہیں، جا کر خبر کروں۔ دائی یہ کہہ کر گئی اور انہی پاؤں پھر آئی کہ چلو حضور میں۔ یہ مجرد اس مکان میں جاتے ہی بھیچک رہ گیا۔ نہ معلوم ہوا کہ دروازہ کہاں اور دیوار کدھر ہے اور اس واسطے کہ آئینے قدم آدم چاروں طرف لگے اور ان کی پروازوں میں ہیرے موتی جڑے ہوئے تھے۔ ایک کا عکس ایک میں نظر آتا تو یہ معلوم ہوتا کہ جواہر کا سارا مکان ہے۔ ایک طرف پردہ پڑا تھا۔ اس کے پیچھے ملکہ بیٹھی تھیں۔ وہ دائی پردے سے لگ کر بیٹھی اور مجھے بھی بیٹھنے کو کہا۔ تب دائی ملکہ کے فرمانے سے اس طور پر بیان کرنے لگی کہ سن اے جوان! دانا! سلطان اس اقلیم کا بڑا بادشاہ تھا۔ اس کے گھر سات بیٹیاں پیدا ہوئیں ایک روز بادشاہ نے جشن منایا۔ یہ ساتوں لڑکیاں سولہ یہ ساتوں لڑکیاں سولہ سنگار، بارہ ابھرن بال بال گنج موتی پرو کر بادشاہ کے حضور کھڑی تھیں۔ سلطان کے کچھ جی آیا تو بیٹیوں کی طرف دیکھ کر فرمایا۔ اگر تمہارا باپ بادشاہ نہ ہوتا اور کسی غریب کے گھر تم پیدا ہوتیں، تو تمھیں بادشاہ زادی اور ملکہ کون کہتا؟ خدا کا شکر کرو کہ شہزادیاں کہلاتی ہو، تمہاری یہ ساری خوبی میرے دم سے ہے، چھے لڑکیاں ایک زبان ہو کر بولیں کہ جہاں پناہ جو فرماتے ہیں بجا ہے، اور آپ ہی کی سلامتی سے ہماری بھلائی ہے۔ لیکن یہ ملکہ پناہ سب بہنوں سے چھوٹی تھیں، پر عقل و شعور میں اس عمر میں بھی گویا سب سے بڑی تھیں۔ چپکی کھڑی رہیں۔ اس گفتگو میں بہنوں کی شریک نہ ہوئیں۔ اس واسطے کہ یہ کلمہ کفر کا ہے۔ بادشاہ نے نظرِ غضب سے ان کی طرف دیکھا اور کہا کیوں بی بی تم کچھ نہ بولیں اس کا کیا باعث ہے؟ تب ملکہ نے اپنے دونوں ہاتھ رومال سے باندھ کر عرض کی کہ اگر جان کی امان پاؤں اور تقصیر معاف ہو تو یہ لونڈی اپنے دل کی بات گزارش کرے۔ حکم ہوا کہ کیا کہتی ہے؟ تب ملکہ نے کہا کہ قبلہ عالم آپ نے سنا ہے کہ سچ بات کڑوی لگتی ہے سو اس وقت میں اپنی زندگی سے ہاتھ دھو کر عرض کرتی ہوں، اور جو کچھ میری قسمت میں لکھنے والے نے لکھا ہے اس کا مٹانے والا کوئی نہیں۔ کسو طرح نہیں ٹلنے کا۔ خواہ تم پاؤں گھسو یا کہ رکھو سر بسجود بات پیشانی کی جو کچھ ہے سو پیش آتی ہے جس بادشاہ علی الاطلاق نے آپ کو بادشاہ بنایا۔ انہیں نے مجھے بھی بادشاہ زادی کہلوایا۔ اس کی قدرت کے کارخانے میں کسو کا اختیار نہیں چلتا۔ آپ کی ذات ہماری ولی نعمت اور قبلہ و کعبہ ہے۔ حضرت کے قدم مبارک کی خاک کو سرمہ کروں تو بجا ہے۔ مگر نصیب ہر ایک کے ہر ایک کے ساتھ ہیں۔ بادشاہ سُن کر طیش میں آئے اور جواب دل پر سخت گراں معلوم ہوا۔ بیزار ہو کر فرمایا۔ چھوٹا منہ بڑی بات، اب اس کی یہی سزا ہے کہ گہنا پاتا جو کچھ اس کے ہاتھ گلے میں ہے، اُتار لو۔ اور ایک میانے میں چڑھا کر ایسے جنگل میں کہ جہاں نام و نشان آدمی آدم زاد کا نہ ہو، پھینک آؤ۔ دیکھیں اس کے نصیبوں میں کیا لکھا ہے۔ بموجب حکم بادشاہ کے اس آدھی رات میں کہ عین اندھیری تھی، ملکہ کو جو نرے بھونرے میں پلی تھیں اور سوائے اپنے محل کے دوسرے جگہ نہ دیکھی تھی، بھولی لے جا کر ایک میدان میں کہ وہاں پرندہ پر نہ مار سکتا، انسان کو تو کیا ذکر ہے، چھوڑ کر چلے آئے۔ ملکہ کے دل پر عجب حالت گزرتی تھی کہ ایک دم میں کیا تھا اور کیا ہو گیا؟ پھر اپنے خدا کی جناب میں شکر کرتیں اور کہتیں تو ایسا ہی بے نیاز ہے، جو چاہا سو ہو گیا۔ اور جو چاہتا ہے سو کرتا ہے اور جو چاہے گا سو کرے گا۔ جب تلک نتھنوں میں دم ہے، تجھ سے نا امید نہیں ہوتی۔ اسی اندیشے میں آنکھ لگ گئی۔ جس وقت صبح ہونے لگی ملکہ کی آنکھ کھُل گئی۔ پُکاریں کہ وضو کا پانی لانا۔ پھر ایک بارگی رات کی بات چیت یاد آئی کہ تو کہاں اور یہ بات کہاں؟ یہ کہہ کر اٹھ کر تیمّم کیا اور دوگانہ شکر کا پڑھا۔ اے عزیز، ملکہ کی اس حالت کے سننے سے چھاتی پھٹتی ہے۔ اس بھولے بھالے جی سے پوچھا چاہیے کہ کیا کہتا ہو گا۔ غرض اس میانے میں بیٹھی خدا سے لو لگائے رہتی تھیں۔ اور یہ کبت اس دم پڑھتی تھیں: جب دانت نہ تھے تب دودھ دیو، جب دانت دیے کاہے ان نہ دے ہے جو جل میں تھل میں پنچھی پس کی سدھ لیت، سو تیری بھی لے ہے کاہے کو سوچ کرے من مورکھ، سوچ کرے کچھ ہاتھ نہ آئے ہے جان کو دیت، ابا جان کو دیت، جہاں کو دیت سو تو کو بھی دے ہے سچ ہے جب کچھ بن نہیں آتا۔ تب خدا ہی یاد آتا ہے۔ نہیں تو اپنی اپنی تدبیر میں ہر ایک لقمان اور بو علی سینا ہے۔ اب خدا کے کارخانے کا تماشا سنو۔ اسی طرح تین دن رات صاف گزر گئے کہ ملکہ کے مُنہ میں ایک کھیل بھی اُڑ کر نہ گئ۔ وہ پھول سا بدن سوکھ کر کانٹا ہو گیا اور وہ رنگ جو کندن سا دمکتا تھا، ہلدی سا بن گیا۔ مُنہ میں پھپھڑی بندھ گئی، آنکھیں پتھرا گئیں، مگر ایک دم اٹک رہا تھا کہ وہ آتا جاتا تھا۔ جب تلک سانس تب تلک آس۔ چوتھے روز صبح کو ایک درویش، خضر کی سی صورت، نورانی چہرہ، روشن دل آ کر پیدا ہوا۔ ملکہ کو اس حالت میں دیکھ کر بولا اے بیٹی! اگرچہ تیرا باپ بادشاہ ہے لیکن تیری قسمت میں یہ بھی بدا تھا۔ اب اس فقیر بوڑھے کو اپنا خادم سمجھ اور اپنے پیدا کرنے والے کا رات دن دھیان رکھ۔ خدا خوب کرے گا۔ اور فقیر کے کشکول میں جو ٹکڑے بھیک کے موجود تھے، ملکہ کے روبرو رکھے اور پانی کی تلاش میں پھرنے لگا دیکھتے تو ایک کنواں تو ہے پر ڈول رسّی کہاں جس سے پانی بھرے؟ تھوڑے پتّے درخت سے توڑ کر دونا بنایا اور اپنی سیلی کھول کر اس میں باندھ کر نکالا اور ملکہ کو کچھ کھلایا پلایا۔ بارے ٹک ہوش آیا۔ اس مردِ خدا نے بےکس اور بےبس جان کو بہت سی تسلّی دی، خاطر جمع کی اور آپ بھی رونے لگا۔ ملکہ نے جب غم خواری اور دل داری اس کی بےحد دیکھی، تب ان کی رجا کو استقلال ہوا۔ اس روز اس پیر مرد نے یہ مقرّر کیا کہ صبح کو بھیک مانگنے نکل جاتا۔ جو ٹکرا پارچہ پاتا، ملکہ کے پاس لے آتا اور کھلاتا۔ اس طور سے تھوڑے روز گزرے۔ ایک روز ملکہ نے تیل سر میں ڈالنے اور کنگھی چوٹی کرنے کا قصد کیا۔ جوں ہی مباف کھولا، چٹلے میں سے ایک موتی کا دانہ گول آب دار نکل پڑا۔ ملکہ نے اس درویش کو دیا اور کہا کہ شہر میں اسے بیچ لاؤ۔ وہ فقیر اس گوہر کو بیچ کر اس کی قیمت بادشاہ زادی کے پاس لے آیا۔ تب ملکہ نے حکم کیا کہ ایک مکان موافق گزران کے اسی جگہ بنواؤ۔ فقیر نے کہا اے بیٹی! نیو دیوار کی کھود کر تھوڑی سی مٹی جمع کرو۔ ایک دم میں پانی لا کر گارا کر کر گھر کی بنیاد درست کر دوں گا۔ ملکہ نے اس کے کہنے سے مٹی کھودنی شروع کی۔ جب ایک گز عمیق گڑھا کھود گیا۔ زمین کے نیچے سے ایک دروازہ نمودار ہوا، ملکہ نے اس در کو صاف کیا۔ ایک بڑا گھر جواہر اور اشرفیوں سے معمور نظر آیا۔ ملکہ نے پانچ چار لب اشرفیوں کی لے کر پھر بند کر دیا، اور مٹی دے کر اوپر سے ہموار کر دیا۔ اتنے میں فقیر آیا، ملکہ نے فرمایا کہ راج اور معمار کاریگر اور اپنے کام کے استاد اور مزدور جلد بلاؤ جو اس مکان پر ایک عمارت بادشاہانہ کہ طاقِ کسریٰ کا جفت ہو، اور قصرِ نعمان سے سبقت لے جائے اور شہر پناہ اور قلعہ اور باغ اور باؤلی اور ایک مسافر خانہ کہ لاثانی ہو، جلد تیّار کریں، لیکن پہلے نقشہ ان کا ایک کاغذ پر دست کر کے حضور میں لاویں جو پسند کیا جائے۔ فقیر نے ایسے ہی کارکن، کارکردہ، ذی ہوش لا کر حاضر کیے، موافق فرمانے کے تعمیر عمارت کی ہونے لگی۔ اور نوکر چاکر ہر ایک کارخانہ جات کی خاطر چُن چُن کر فہمیدہ اور بادیانت ملازم ہونے لگے۔ اس عمارت عالیشان کی تیار کی خبر رفتہ رفتہ بادشاہ ظل سبحانی کو جو قبلہ ملکہ کے تھے، پہنچی۔ سن کر بہت متعجّب ہوئے اور ہر ایک سے پوچھا کہ یہ کون شخص ہے جس نے یہ محلات بنانے شروع کیے ہیں؟ اس کیفیت سے کوئی واقف نہ تھا جو عرض کرے۔ سبھوں نے کانوں پر ہاتھ رکھے کہ کوئی غلام نہیں جانتا کہ اس کا بانی کون ہے؟ تب بادشاہ نے ایک امیر کو بھیجا اور پیغام دیا کہ میں ان مکانوں کو دیکھنے آیا چاہتا ہوں۔ اور یہ بھی معلوم نہیں تم کہاں بادشاہ زادی ہو اور کس خاندان سے ہو؟ یہ سب کیفیّت دریافت کرنی اپنے تئیں منظور ہے۔ جوں ہی ملکہ نے یہ خوش خبری سنی، دل میں بہت شاد ہو کر عرضی لکھی کہ جہاں پناہ سلامت! حضور کے تشریف لانے کی خبر طرف غریب خانے کی سُن کر نہایت خوشی حاصل ہوئی۔ اور سبب حرمت اور عزّت اس کمترین کا ہوا۔ زہے طالع اس مکان کے! کہ جہاں قدم مبارک کا نشان پڑے، اور وہاں کے رہنے والوں پر دامن دولت سایہ کرے اور نظرِ توجّہ سے وہ دونوں سرفراز ہوویں۔ یہ لونڈی امیدوار ہے کہ کل روز پنج شنبہ مبارک ہے اور میرے نزدیک بہتر نو روز سے ہے۔ آپ کی ذات مشابہ آفتاب کے ہے، تشریف فرما کر اپنے نور سے اس ذرّہ بے مقدار کو قدر و منزلت بخشے۔ اور جو کچھ اس عاجزہ سے میسّر ہو سکے نوش جان فرمائیے۔ یہ عین ریب نوازی اور مسافر پروری ہے، زیادہ حد ادب، اور اس عمدہ کو بھی کچھ تواضع کر رخصت کیا۔ بادشاہ نے عرضی پڑھی اور کہلا بھیجا کہ ہم نے تمہاری دعوت قبول کی، البتّہ آویں گے۔ ملکہ نے نوکروں اور سب کاروباریوں کو حکم کیا کہ لوازمہ ضیافت کا ایسے سلیقے سے تیار ہو کہ بادشاہ دیکھ کر اور کھا کر بہتر محظوظ ہوں اور ادنیٰ اعلیٰ جو بادشاہ کے آویں سب کھا پی کر خوش ہو کر جاویں۔ ملکہ کے فرمانے اور تاکید کرنے سے سب قسم کے کھانے سلونے اور میٹھے ذائقے کے تیّار ہوئے کہ اگر برہمن کی بیٹی کھاتی تو کلمہ پڑھتی۔ جب شام ہوئی بادشاہ منڈے تخت پر سوار ہو کر ملکہ کے مکان کی طرف تشریف لائے۔ ملکہ اپنی جان خواص سہیلیوں کو لے کر استقبال کے واسطے چلیں۔ جوں بادشاہ کے تخت پر نظر پڑے اس آداب سے مجرا شاہانہ کیا کہ یہ قاعدہ دیکھ کر بادشاہ کو اور بھی حیرت نے لیا، اور اسی انداز سے جلوہ کر کر بادشاہ کو تخت مرصع پر لا بٹھایا۔ ملکہ نے سوا لاکھ روپے کا چبوترہ تیّار کروا رکھا تھا اور ایک سو ایک کشتی جواہر اور اشرفی اور پشمینہ اور نوبانی اور ریشمی طلابانی اور زردوزی کی لگا رکھی تھی، اور وہ زنجیر فیل اور دس راس اسپ عراق اور یمنی مرصع کے ساز سے تیّار کر رکھے تھے، نذر گزرانے اور آپ دونوں ہاتھ باندھے روبرو کھڑی رہیں۔ بادشاہ نے بہت مہربانی سے فرمایا کہ تم کس ملک کی شہزادی ہو اور یہاں کس صورت آنا ہوا؟ ملکہ نے آداب بجا کر التماس کیا کہ یہ لونڈی وہی گنہ گار ہے جو غضبِ سلطانی کے باعث جنگل میں پہنچی اور یہ سب تماشے خدا کے ہیں جو آپ دیکھتے ہیں۔ یہ سنتے ہی بادشاہ کے لہو نے جوش مارا۔ اُٹھ کر محبت سے گلے لگا لیا اور ہاتھ پکڑ کر اپنے تخت کے پاس کرسی بچھوا کر حکم بیٹھنے کا کیا، لیکن بادشاہ حیران اور متعجّب بیٹھے تھے، فرمایا کہ بادشاہ بیگم کو کہو کہ بادشاہ زادیوں کو اپنے ساتھ لے کر جلد آویں۔ جب وہ آئیں، ماں بہنوں نے پہچانا اور گلے مل کر روئیں اور شکر کیا۔ ملکہ نے اپنی والدہ اور چھیوں ہمشیروں کو روبرو اتنا کچھ نقد اور جواہر رکھا کہ خزانہ تمام عالم کا اس کے پاسنگ میں نہ چڑھے، پھر بادشاہ نے سب کو ساتھ بٹھا کر خاصہ نوش جان فرمایا۔ جب تلک جہاں پناہ جیتے رہے اسی طرح گزری۔ کبھو کبھو آپ آتے اور ملکہ کو بھی اپنے ساتھ محلوں میں لے جاتے۔ جب بادشاہ نے رحلت فرمائی اس اقلیم کی ملکہ کو پہنچی کہ ان کے سوا دوسرا کوئی لائق اس کے نہ تھا۔ اے عزیز سرگزشت یہ ہے جو تو نے سنی۔ دولت خداداد کو ہر گز زوال نہیں ہوتا، مگر آدمی کی نیّت درست چاہیے۔ بلکہ جتنی خرچ کرو، اس میں اتنی برکت ہوتی ہے۔ خدا کی قدرت میں تعجب کرنا کسی مذہب میں روا نہیں۔ دائی نے یہ بات کہہ کر آپ اگر قصد وہاں کے جانے کا اور اس خبر لانے کا دل میں مقرر رکھتے ہو تو جلد روانہ ہو۔ میں نے کہا اسی وقت میں جاتا ہوں اور خدا چاہے تو پھر آتا ہوں۔ آخر رخصت ہو کر اور فضل الٰہی پر نظر رکھ اس سمت کو چلا۔ برس دن کے عرصے میں ہرج مرج کھینچتا ہوا شہر نیمروز جا پہنچا۔ جتنے وہاں کے آدمی ہزاری اور بزاری نظر پڑے، سیاہ پوش تھے۔ جیسا احوال سنا تھا اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ کئی دن کی بعد چاند رات ہوئی۔ پہلی تاریخ، سارے لوگ اسی شہر کے چھوٹے بڑے لڑکے بالے، امرا، بادشاہ عورت مرد ایک میدان میں جمع ہوئے، میں بھی اپنی حالت میں حیران سرگردان اس کثرت کے ساتھ اپنے مال ملک سے جدا، فقیر کی صورت بنا ہوا کھڑا دیکھتا تھا کہ دیکھیئے پردہ غیب سے کیا ظاہر ہوتا ہے۔ اتنے میں ایک جوان گاؤ سوار منھ میں کف بھرے، جوش خروش کرتا ہوا جنگل میں سے باہر نکلا۔ یہ عاجز جو اتنی محنت کر کے اس کے احوال دریافت کرنے کی خاطر گیا تھا، دیکھتے ہی اسے حواس باختہ ہو کر حیران کھڑا رہ گیا۔ وہ جوان مرد قدیم قاعدے پر جو جو کام کرتا تھا، کر کر پھر گیا اور خلقت شہر کی طرف متوجہ ہوئی۔ جب مجھے ہوش آیا تب میں پچھتایا کہ یہ کیا تجھ سے حرکت ہوئی۔ اب مہینے بھر پھر راہ دیکھنی پڑی۔ لاچار سب کے ساتھ چلا آیا اور اس مہینے کو ماہ رمضان کی مانند ایک ایک دن گن کر کاٹا۔ بارے دوسری چاند رات آئی مجھے گویا عید ہوئی۔ غرے کو پھر بادشاہ خلقت سمیت وہیں آ کر اکٹھے ہوئے۔ تب میں نے دل میں مصمم ارادہ کیا کہ اب کے بار جو ہو سو ہو اپنے تئیں سنبھال کر اس ماجرائے عجیب کو معلوم کیا چاہیے۔ ناگاہ جوان بدستور زرد بیل پر زین باندھے سوار آ پہنچا، اور اتر کر دو زانو بیٹھا، ایک ہاتھ میں ننگی سیف اور ایک ہاتھ میں بیل ناتھ پکڑی اور مرتبان غلام کو دیا۔ غلام ہر ایک کو دکھا کر لے گیا۔ ایک آدمی دیکھ کر رونے لگا۔ اس جوان نے مرتبان پھوڑا، اور غلام کو ایک تلوار ایسی ماری کہ سر جدا ہو گیا اور آپ سوار ہو کر مڑا۔ میں اس کے پیچھے جلد قدم اٹھا کر چلنے لگا۔ شہر کے آدمیوں نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا یہ کیا کرتا ہے۔ کیوں جان بوجھ کر مرتا ہے؟ اگر ایسا ہی تیرا دم ناک میں آیا ہے تو بہتیری طرحیں مرنے کی ہیں۔ مر رہیو۔ ہر چند میں نے منت کی اور زور بھی کیا کہ کسو صورت سے ان کے ہاتھ سے چھوٹوں، چھٹکارا نہ ہوا۔ دو چار آدمی لپٹ گئے اور پکڑے ہوئے بستی کی طرف لے آئے۔ عجب طرح کا قلق پھر مہینے بھر گزرا۔ جب وہ بھی مہینہ تمام ہوا اور سلخ کا دن آیا۔ صبح کو اسی صورت سے عالم کا وہاں ازدحام ہوا۔ میں الگ سے نماز کے وقت اٹھ کر آگے ہی جنگل میں، جو عین اس طرح کی راہ پر تھا، گھس چھپ رہا کہ یہاں کوئی میرا مزاحم نہ ہو گا۔ وہ شخص اسی قاعدے سے آیا اور وہی حرکتیں کر کرا سوار ہوا اور چلا۔ میں نے اس کا پیچھا کیا اور دوڑتا دھوپتا ساتھ ہو لیا۔ اس عزیز نے آہٹ سے معلوم کیا کہ کوئی چلا آتا ہے۔ ایک بارگی باگ موڑ کر ایک نعرہ مارا اور گھڑکا۔ تلوار کھینچ کر میرے سر پر آ پہنچا۔ چاہتا تھا کہ حملہ کرے۔ میں نے نہایت ادب سے مہر کر سلام کیا اور دونوں ہاتھ باندھ کر کھڑا رہ گیا۔ وہ قاعدہ داں متکلم ہوا کہ اے فقیر تو ناحق مارا گیا ہوتا، پر بچ گیا۔ تیری حیات کچھ باقی ہے۔ جا کہاں آتا ہے؟ اور جڑاؤ خنجر موتیوں کا اور آویزہ لگا ہوا کمر سے نکال میرے آگے پھینکا اور کہا۔ اس وقت میرے پاس کچھ نقد موجود نہیں جو تھے دوں۔ اس کو بادشاہ کے پاس لے جا، جو تو مانگے گا ملے گا۔ ایسی ہیبت اور ایسا رعب اس کا مجھ پر غالب ہوا کہ نہ بولنے کی قدرت نہ چلنے کی طاقت۔ منہ میں گھگھی بندھ گئی پاؤں بھاری ہو گئے۔ اتنا کہہ کر وہ غازی جمرد نعرہ بھرتا ہوا چلا۔ میں نے دل میں کہا ہر چہ بادا باد۔ اب رہ جانا تیرے حق میں برا ہے۔ پھر ایسا وقت نہ ملے گا۔ اپنی جان سے ہاتھ دھو کر میں بھی روانہ ہوا۔ پھر وہ پھرا اور بڑے غصے سے ڈانٹا، اور مقرر ارادہ میرے قتل کا کیا، میں نے سر جھکا دیا اور سوگند دی کہ اے رستم وقت کے، ایسی ہی ایک سیف مار کے صاف دو ٹکڑے ہو جاؤں، ایک تسمہ باقی نہ رہے اور اس حیرانی اور تباہی سے چھوٹ جاؤں۔ میں نے اپنا خون معاف کیا؟ وہ بولا کہ اے شیطان کی صورت، کیوں اپنا خون ناحق میری گردن پر چڑھاتا ہے وہ مجھے گنہ گار بناتا ہے؟ جا اپنی راہ لے، کیا جان بھاری پڑی ہے؟ میں نے اس کا کہا نہ مانا اور قدم آگے دھرا پھر اس نے دیدہ و دانستہ آنا کانی دی اور میں پیچھے لگ لیا۔ جاتے جاتے دو کوس وہ جھاڑ جنگل طے کیا۔ ایک چار دیواری نظر آئی۔ وہ جوان دروازے پر گیا اور ایک نعرہ مہیب مارا۔ وہ در آپ سے آپ کھل گیا۔ وہ اندر بیٹھا۔ میں باہر کا باہر کھڑا رہ گیا۔ الٰہی اب کیا کروں، حیران تھا۔ بارے ایک دم کے بعد غلام آیا اور پیغام لایا کہ چل تجھے روبرو بلایا ہے۔ شاید تیرے سر پر اجل کا فرشتہ آیا ہے۔ کیا تجھے کم بختی لگی تھی۔ میں نے کہا زہے نصیب اور بے دھڑک اس کے ساتھ اندر باغ کے گیا۔ آخر مکان میں لے گیا جہاں وہ بیٹھا تھا۔ میں نے اسے دیکھ کر فراشی سلام کیا۔ اس نے اشارت بیٹھنے کی کی۔ میں ادب سے دو زانو بیٹھا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ وہ مرد اکیلا ایک مسند پر بیٹھا اور ہتھیار زر گری کے آگے دھرے ہیں۔ اور ایک جھاڑو مرد کا تیار کر چکا ہے۔ جب اس کے اٹھنے کا وقت آیا جتنے غلام اس شہ نشین کے گرد و پیش حاضر تھے، حجروں میں چھپ گئے۔ میں بھی مارے وسواس کے ایک کوٹھڑی میں جا گھسا، وہ جوان اٹھ کر سب مکان کی کنڈیاں چڑھا کر باغ کے کونے کی طرف چلا اور اپنی سواری کے بیل کو مارنے لگا۔ اس کے چلانے کی آواز میرے کانوں میں آئی۔ کلیجا کانپنے لگا لیکن ماجرے کی دریافت کرنے کی خاطر یہ سب آفتیں یہیں تھیں۔ ڈرتے ڈرتے دروازہ کھول کر ایک درخت کے تنے کی آڑ میں جا کر کھڑا ہوا اور دیکھنے لگا۔ جوان نے وہ سونٹا جس سے مارتا تھا۔ ہاتھ سے ڈال دیا اور ایک مکان کا قفل کنجی سے کھولا اور اندر گیا۔ پھر وونہیں باہر نکل کر نرگاؤ کی پیٹھ پر ہاتھ پھیرا اور منہ چوما اور دانہ گھاس کھلا کر ایدھر کو چلا۔ میں دیکھتے ہی جلد دوڑ کر پھر کوٹھڑی میں جا چھپا۔ اس جوان نے زنجیریں سب دروازوں کی کھول دیں۔ سارے غلام باہر نکلے۔ زیر انداز اور سپلچی، آفتابہ لے کر حاضر ہوئے۔ وہ وضو کر کر نماز کی خاطر کھڑا ہوا۔ جب نماز ادا کر چکا پکارا کہ وہ درویش کہاں ہے؟ اپنا نام سنتے ہی میں دوڑ کر روبرو جا کھڑا ہوا۔ فرمایا بیٹھ۔ میں تسلیم کر کر بیٹھا۔ خاصہ آیا اس نے تناول فرمایا مجھے بھی عنایت کیا۔ میں نے بھی کھایا۔ جب دسترخوان بڑھایا اور ہاتھ دھوائے، غلاموں کو رخصت دی کہ جا کر جو رہو۔ جب کوئی اس مکان میں نہ رہا، تب مجھ سے ہم کلام ہوا اور پوچھا کہ اے عزیز تجھ پر کیا ایسی آفت آئی ہے جو تو اپنی موت کو ڈھونڈھتا پھرتا ہے؟ میں نے اپنا احوال آغاز سے انجام تک جو کچھ گزرتا تھا، تفصیل وار بیان کیا اور کہا۔ آپ کی توجہ سے امید ہے کہ اپنی مراد کو پہنچوں۔ اس نے یہ سنتے ہی ایک ٹھنڈی سانس بھری اور بے ہوش ہوا اور کہنے لگا بار خدایا عشق کے درد سے تیرے سوا کون واقف ہے۔ جس کی نہ پھٹی ہو، بوائی کیا جانے پیر پرائی۔ اس درد کی قدر درد مند ہو سو جانے۔ آفتوں کو عشق کی عاشق سے پوچھا چاہیے کیا خبر فاسق کو ہے؟ صادق سے پوچھا چاہیے بعد ایک لمحے کے ہوش میں آ کر ایک آہ جگر سوز بھری، سارا مکان گونج گیا۔ تب مجھے یقین ہوا کہ یہ بھی اسی عشق کی بلا میں گرفتار اور اسی مرض کا بیمار ہے۔ تب تو میں نے دل چلا کر کہا میں نے اپنا احوال سب عرض کیا۔ آپ توجہ فرما کر اپنی سرگزشت سے بندے کو مطلع فرمائیے۔ توبہ مقدور اپنے پہلے تمہارے واسطے سعی کروں اور دل کا مطلب کوشش کر ہاتھ میں لاؤں۔ القصہ وہ عاشق صادق مجھ کو اپنا ہمراز اور ہمدرد جان کر اپنا ماجرا اور اس صورت سے بیان کرنے لگا کہ سن اے عزیز میں بادشاہ زاد جگر سوز اس اقلیم نیم روز کا ہوں۔ بادشاہ یعنی قبلہ گاہ نے میرے پیدا ہونے کے بعد بخوبی اور رمال اور پنڈت جمع کیئے اور فرمایا کہ احوال شہزادے کے طالعوں کا دیکھو اور جانچو، اور جنم پتری درست کرو اور جو جو کچھ ہونا ہے حقیقت پل پل گھڑی گھڑی اور پہر پہر، دن دن مہینے مہینے اور برس برس مفصل حضور میں عرض کرو۔ بموجب بادشاہ کے سب نے متفق ہو اپنے اپنے علم کی رو سے ٹھہرا اور سادھ کر التماس کیا۔ خدا کے فضل سے ایسی نیک ساعت اور شبھ لگن میں شہزادے کا تولد اور جنم ہوا ہے کہ چاہیے سکندر کی بادشاہت کرے اور نوشیرواں سا عادل ہو اور جتنے علم اور ہنر ہیں، ان میں کامل ہو اور جس کام کی طرف دل اس کا مائل ہو، وہ بخوبی حاصل ہو۔ سخاوت شجاعت میں ایسا نام پیدا کرے کہ حاتم اور رستم کو لوگ بھول جاویں، لیکن چودہ برس تلک سورج اور چاند کے دیکھنے سے ایک بڑا خطرہ نظر آتا ہے بلکہ یہ وسواس ہے کہ جنونی اور سودائی ہو کر بہت آدمیوں کا خون کرے اور بستی سے گھبراوے، جنگل میں جاوے اور چرند پرند کے ساتھ دل بہلاوے، اس کا قید رہے کہ رات دن آفتاب ماہتاب کو نہ دیکھے، بلکہ آسمان کی طرف بھی نگاہ نہ کرنے پاوے، جو اتنی مدت خیر و عافیت سے کٹے تو پھر سارے عمر سکھ اور چین سے سلطنت کرے۔ یہ سن کر بادشاہ نے اس لیے اس باغ کی بنا ڈالی، اور مکان متعدد ہر ایک نقشے کے بنوائے۔ میری تئیں تہ خانے میں پلنے کا حکم کیا اور اوپر ایک برج نمدے کا تیار کروا دیا تو دھوپ اور چاندی اس میں سے چھنے۔ میں دائی دودھ پلائی اور انگاچھو اور کئی خواص کے ساتھ اس محافظت سے اس مکان عالی میں پرورش پانے لگا، اور ایک استاد دانا، کار آزمودہ واسطے میری تربیت کی متعین کیا تو تعلیم ہر علم اور ہنر کی اور مشق ہفت قلم لکھنے کی کرے اور جہاں پناہ ہمیشہ میری خبر گیراں رہتے۔ دم بہ دم کی کیفیت روز مرہ حضور میں عرض ہوتی۔ میں اس مکان ہی کو عالم دنیا جان کر کھلونوں اور رنگ بہ رنگ پھولوں سے کھیلا کرتا اور تمام جہان کی نعمتیں کھانے کے واسطے موجود رہتیں۔ جو چاہتا سو کھاتا۔ دس برس کی عمر تک جتنی صنعتیں اور قابلیتیں تھیں، تحصیل کیں۔ ایک روز اس گنبد کے نیچے روشن دان سے ایک پھول اچنبھے کا نظر پڑا کی دیکھتے دیکھتے بڑا ہوتا جاتا تھا۔ میں نے چاہا کہ ہاتھ سے پکڑ لوں۔ جوں جوں میں ہاتھ لمبا کرتا تھا وہ اونچا ہوتا جاتا تھا۔ میں حیران ہو کر اسے جاتا تک رہا تھا۔ وونہیں ایک آواز قہقہے کی میرے کان میں آئی۔ میں نے اس کے دیکھنے کو گردن اٹھائی دیکھا کہ نمدا چیر کر ایک مکھڑا چاند کا سا نکل رہا ہے۔ دیکھتے ہی اس کے میرے عقل و ہوش بجا نہ رہے۔ پھر اپنے تئیں سنبھال کر دیکھا تو ایک مرصع کا تخت پری زادوں کا کاندھے پر معلق کھڑا ہے اور ایک تخت نشین تاج و جواہر کا سر پر اور خلعت جھلا بور بدن میں پہنے، ہاتھ میں یاقوت کا پیالہ لئے اور شراب پئے ہوئے بیٹھی ہے، وہ تخت بلندی سے آہستہ آہستہ نیچے اتر کر اس برج میں آیا۔ تب پری نے مجھے بلایا، اور اپنے نزدیک بٹھایا۔ باتیں پیار کی کرنے لگی اور منہ سے منہ لگا کر ایک جام شراب گل گلاب کا میرے تئیں پلایا اور کہا آدمی زاد بیوفا ہوتا ہے، لیکن دل ہمارا تجھے چاہتا ہے۔ ایک دم میں ایسی ایسی انداز و ناز کی باتیں کیں کہ دل محو ہو گیا اور ایسی خوشی حاصل ہوئی کہ زندگی کا مزا پایا، اور یہ سمجھا کہ آج تو دنیا میں آیا ہے۔ حاصل یہ ہے کہ میں تو کیا ہوں، کسو نے یہ عالم نہ دیکھا ہو گا۔ نہ سنا ہو گا اس مزے میں خاطر جمع سے ہم دونوں بیٹھے تھے کہ کریال غلیلا لگا۔ اب اس حادثہ کا ماجرا سن کر وہ نہیں چار پری زاد نے آسمان سے اتر کر کچھ اس معشوقہ کے کان میں کہا۔ سنتے ہی اس کا چہرہ تغیر ہو گیا اور مجھ سے بولی کہ اے پجاری دل تو یہ چاہتا تھا کہ کوئی دم تیرے ساتھ بیٹھ کر دل بہلاؤں اور اسی طرح ہمیشہ آؤں یا تجھے اپنے ساتھ لے جاؤں۔ پر یہ آسمان دو شخص کو ایک جگہ آرام سے اور خوشی سے رہنے نہیں دیتا۔ لے جاناں تیرا خدا نگہبان ہے۔ یہ سن کر میرے حواس جاتے رہے اور طوطے ہاتھ کے اڑ گئے۔ میں نے کہا کہ جی اب پھر کب ملاقات ہو گی؟ یہ کیا تم نے غضب کی بات سنائی؟ اگر جلد آؤ گی تو مجھے جیتا پاؤ گی، نہیں تو پچھتاؤ گی یا اپنا ٹھکانا اور نام و نشان بتاؤ کہ میں ہی اس پتے پر ڈھونڈھتے اپنے تئیں تمہارے پاس پہنچاؤں۔ یہ سن کر بولی دور پار شیطان کے کان بہرے، تمہاری صد و بیت سال کی عمر ہووے۔ اگر زندگی ہے تو پھر ملاقات ہو رہے گی۔ میں جنوں کے بادشاہ کی بیٹی ہوں اور کوہ قاف میں رہتی ہوں۔ یہ کہہ کر تخت اٹھایا اور جس طرح اترا تھا وونہیں بلند ہونے لگا۔ جب تلک سامنے تھا، میری اور اس کی چار آنکھیں ہو رہی تھیں، جب نظروں سے غائب ہوا یہ حالت ہو گئی جیسے پری کا سایہ ہوتا ہے۔ عجب طرح کی اداسی دل پر چھا گئی، عقل و ہوش رخصت ہوا، دنیا آنکھوں کے تلے اندھیری ہو گئی، حیران، پریشان اور سر پر خاک اڑانا، کپڑے پھاڑنا، نہ کھانا کھانے کی سدھ نہ بھلے برے کی بدھ اس عشق کی بدولت کیا کیا خرابیاں ہیں دل میں اداسیاں ہیں اور اضطرابیاں ہیں اس خرابی سے دائی اور معلم خبردار ہوئے۔ ڈرتے ڈرتے بادشاہ کے روبرو گئے اور عرض کی کہ بادشاہ زادہ عالمیان کا یہ حال ہے۔ معلوم نہیں خود بخود کیا غضب ٹوٹا جو ان کا آرام اور کھانا پینا سب چھوٹا۔ تب بادشاہ وزیر امرائے صاحب تدبیر اور حکیم حاذق، منجم صادق، ملا، سیانے، خوب درویش سالک اور مجذوب اپنے ساتھ لے کر اس باغ میں رونق افزا ہوئے۔

(جاری ہے) قصہ چہار درویش

*-**-**-*

بارے KAHAANY.COM

Check Also

فردوس بریں ۔۔۔۔ پہلی قسط ۔۔۔۔۔ پریوں کا غول

اب تو سنہ ٦٥٠ ہجری ہے، مگر اس سے ڈیڑھ سو سال پیشتر سے سیاحوں …

127 comments

  1. Simply a smiling visitant here to share the love (:, btw great design and style.

  2. It’s wonderful! That’s wonderful! She will get what she wants by hook or by crook.

  3. Surprise. He said a stupid thing and tried to save face by saying he misunderstood me.

  4. Thanks for the marvelous posting! I actually enjoyed
    reading it, you could be a great author.I will make sure to bookmark your blog
    and will eventually come back from now on. I want to encourage you continue your great job, have a nice day!

  5. Good article. I will be dealing with some of these issues as well..

  6. I loved as much as you will receive carried out right here.
    The sketch is tasteful, your authored material stylish.
    nonetheless, you command get got an impatience over that you wish be delivering the
    following. unwell unquestionably come further formerly again since
    exactly the same nearly very often inside case you shield this increase.

  7. Hello! I simply want to offer you a huge thumbs up for your great information you have right
    here on this post. I am returning to your blog for more soon.

  8. It’s a pity you don’t have a donate button! I’d without a
    doubt donate to this outstanding blog! I suppose for now i’ll settle for book-marking
    and adding your RSS feed to my Google account.
    I look forward to new updates and will share this site with my Facebook group.
    Chat soon!

  9. Someone necessarily assist to make critically articles I
    might state. This is the very first time I frequented your website page and up to
    now? I amazed with the analysis you made to create this actual publish extraordinary.
    Magnificent job!

  10. I’d like to find out more? I’d care to find out more
    details.

  11. My brother suggested I might like this website. He was entirely right.
    This post actually made my day. You cann’t imagine just how much time I had spent for this info!
    Thanks!

  12. Nice post. I was checking continuously this blog and I’m
    impressed! Very helpful information specially the last part :
    ) I care for such information a lot. I was looking for this certain info
    for a very long time. Thank you and good luck.

  13. I am really enjoying the theme/design of your weblog.
    Do you ever run into any browser compatibility issues?
    A number of my blog visitors have complained about my blog
    not working correctly in Explorer but looks great in Firefox.
    Do you have any solutions to help fix this problem?

  14. It’s a shame you don’t have a donate button! I’d without
    a doubt donate to this excellent blog! I guess for now i’ll settle for bookmarking
    and adding your RSS feed to my Google account. I look forward
    to new updates and will talk about this website with
    my Facebook group. Chat soon!

  15. I think everything said made a ton of sense. However,
    what about this? what if you added a little information? I ain’t suggesting your content is not good, but
    suppose you added a post title that grabbed folk’s attention? I mean باغ و بہار یعنی قصہ چہار درویش (قسط 4) – کہانی is a little vanilla.
    You might glance at Yahoo’s home page and see how they create
    post headlines to get viewers to click. You might add a video or a related pic or two to get people interested about what you’ve written.
    Just my opinion, it might make your blog a little bit
    more interesting.

  16. We stumbled over here coming from a different page and thought I
    might as well check things out. I like what I see so now i’m following you.
    Look forward to finding out about your web page for a second
    time.

  17. I’m really enjoying the design and layout of
    your website. It’s a very easy on the eyes which makes it much more enjoyable for me to come
    here and visit more often. Did you hire out a designer to create
    your theme? Fantastic work!

  18. Greetings, I believe your web site may be having internet browser compatibility problems.

    When I take a look at your site in Safari, it looks fine but when opening in IE, it has some overlapping issues.
    I merely wanted to give you a quick heads up!

    Besides that, excellent blog!

  19. Hello, Neat post. There is an issue together with your site in web explorer, may test this?
    IE nonetheless is the market chief and a good section of people will leave out your great writing due to this problem.

  20. He’s been on edge ever since she left.
    How disgusting!
    Just gone crazy or something. Her mother doesn’t like travelling by plane.

  21. Hi, i think that i noticed you visited my web site thus i got here to go back the choose?.I’m trying to find things
    to enhance my web site!I assume its good enough to make use of some of your ideas!!

  22. Howdy! This is my 1st comment here so I just wanted to give a
    quick shout out and tell you I genuinely enjoy reading your
    articles. Can you suggest any other blogs/websites/forums that cover
    the same subjects? Thank you so much!

  23. Hello, I read your blogs like every week.
    Your story-telling style is witty, keep up the good work!

  24. I’m no longer positive where you’re getting your info, however good topic.
    I needs to spend a while finding out more or understanding more.

    Thanks for wonderful info I was looking for this info for my mission.

  25. This is my first time pay a quick visit at here and i am actually happy to
    read all at single place.

  26. I’m really inspired together with your writing
    abilities and also with the structure to your blog.
    Is that this a paid topic or did you customize it yourself?
    Either way stay up the excellent high quality writing, it is uncommon to see a great weblog like this one today..

  27. Wow, this article is nice, my younger sister is
    analyzing these things, thus I am going to tell her.

  28. I like the helpful info you supply in your articles. I will bookmark your blog
    and test once more right here regularly. I’m fairly sure I’ll be
    told plenty of new stuff proper right here! Best of luck for the
    following!

  29. excellent publish, very informative. I wonder why the opposite specialists of this sector
    don’t notice this. You must proceed your writing.
    I am sure, you have a great readers’ base already!

  30. What’s up it’s me, I am also visiting this web page regularly,
    this website is really pleasant and the users are really sharing pleasant thoughts.

  31. Ahaa, its nice conversation concerning this paragraph here at this website, I have read all that, so now me also commenting here.

  32. Nice answers in return of this query with solid arguments and
    explaining the whole thing regarding that.

  33. Howdy I am so excited I found your web site, I really found
    you by error, while I was looking on Askjeeve for something else, Regardless I am here now and
    would just like to say many thanks for a incredible post and a all
    round entertaining blog (I also love the theme/design), I don’t have time to read it all
    at the minute but I have saved it and also added your RSS feeds, so when I have time I will be back to read a great deal more, Please do keep up the fantastic
    jo.

  34. I enjoy what you guys tend to be up too. This kind of
    clever work and reporting! Keep up the wonderful works guys I’ve included
    you guys to our blogroll.

  35. I love your blog.. very nice colors & theme. Did you create this website yourself or did you hire someone to
    do it for you? Plz reply as I’m looking to create my own blog and would like to know where u got this from.
    cheers

  36. I have been browsing on-line greater than three hours nowadays, but I never discovered any fascinating article like yours.
    It’s beautiful value enough for me. In my view, if all web owners and bloggers made just right content
    as you probably did, the internet might be a
    lot more useful than ever before.

  37. I read this paragraph fully about the difference of most up-to-date and previous technologies,
    it’s remarkable article.

  38. It’s hard to come by knowledgeable people about this topic,
    but you seem like you know what you’re talking about!
    Thanks

  39. My brother suggested I would possibly like
    this blog. He used to be totally right. This post truly
    made my day. You cann’t consider simply how much time I had spent for this info!

    Thanks!

  40. This design is wicked! You definitely know how to keep a reader entertained. Between your wit and your videos, I was almost moved to start my own blog (well, almost…HaHa!) Excellent job. I really enjoyed what you had to say, and more than that, how you presented it. Too cool!

  41. Thank you for the good writeup. It in fact was a amusement account it.
    Look advanced to more added agreeable from you!
    By the way, how could we communicate?

  42. You actually make it seem so easy with your
    presentation but I in finding this matter to be really one thing which I feel I might never
    understand. It kind of feels too complicated and extremely
    huge for me. I’m having a look ahead on your
    subsequent publish, I will attempt to get the grasp of it!

  43. I am genuinely glad to glance at this website posts which includes
    tons of useful facts, thanks for providing such information.

  44. This is one awesome blog. Cool.

  45. Looking forward to reading more. Great article post. Fantastic.

  46. It’s very trouble-free to find out any matter on web as compared to books, as I found this post at this web site.

  47. Neat blog! Is your theme custom made or did you download it from somewhere?
    A design like yours with a few simple tweeks
    would really make my blog jump out. Please let me know where you got your design. Appreciate it

  48. Magnificent beat ! I would like to apprentice while you amend your web site,
    how could i subscribe for a blog website? The account aided me a applicable
    deal. I have been a little bit acquainted of this your broadcast offered brilliant clear concept

  49. I got this website from my friend who told me on the topic of this
    web site and at the moment this time I am visiting this website and reading very informative articles
    here.

  50. Tremendous issues here. I am very satisfied to look your article.
    Thank you so much and I’m taking a look ahead
    to touch you. Will you please drop me a e-mail?

  51. An outstanding share! I have just forwarded this onto a co-worker
    who was conducting a little research on this. And he in fact bought me dinner
    simply because I discovered it for him… lol. So allow
    me to reword this…. Thank YOU for the meal!! But
    yeah, thanx for spending time to talk about this topic here on your website.

  52. It is appropriate time to make a few plans for the long run and it is time to be happy.
    I have learn this put up and if I may I wish to recommend you
    few interesting things or advice. Maybe you can write next articles referring to this article.
    I want to learn even more things about it!

  53. Hello to all, because I am truly keen of reading this webpage’s post to be updated daily.
    It includes fastidious information.

  54. Amazing blog! Is your theme custom made or did you download it from somewhere?
    A theme like yours with a few simple adjustements would really make my
    blog shine. Please let me know where you got your theme.
    Appreciate it

  55. We stumbled over here from a different website and thought I may as well check things out.
    I like what I see so now i am following you. Look forward to exploring your web page again.

  56. Thanks for any other informative blog. The place else may just I am getting that
    type of information written in such a perfect means?
    I have a project that I am just now working on, and I’ve been at the glance out for such
    information.

  57. you’re in reality a excellent webmaster. The web site loading velocity is incredible.

    It kind of feels that you are doing any unique trick. Moreover, The contents are masterpiece.
    you have done a great job in this topic!

  58. I was able to find good info from your blog
    posts.

  59. I feel that is one of the such a lot important info
    for me. And i’m glad studying your article. However wanna commentary on few normal things, The web site
    style is ideal, the articles is really great : D. Good process, cheers

  60. I enjoyed reading this. love jesse grillo and redondo beach seo. I enjoyed reading this.

  61. There’s certainly a lot to learn about this subject.

    I love all the points you made.

  62. whoah this weblog is magnificent i really like reading your
    posts. Keep up the good work! You know, a lot of persons are looking around for this info, you could aid
    them greatly.

  63. This piece of writing gives clear idea for the new people of blogging, that in fact how to do running a blog.

  64. Wow! This blog looks just like my old one! It’s on a
    totally different topic but it has pretty much the same layout and design. Outstanding choice of colors!

  65. Hi there it’s me, I am also visiting this web
    site on a regular basis, this web page is genuinely fastidious and the viewers are actually sharing fastidious thoughts.

  66. It’s in fact very complicated in this active life to listen news on TV,
    thus I just use world wide web for that purpose, and obtain the most up-to-date information.

  67. Appreciate this post. Will try it out.

  68. I am now not sure the place you are getting your info, but
    good topic. I must spend a while finding out much more or working
    out more. Thanks for excellent info I used to be looking for this information for my mission.

  69. I enjoyed reading this. love fishkeeping beatboxing and ice hockey.

  70. Provides seo advertising structures hair salon. Thumbs up! redondo marketing and hermosa marketing.

  71. Right here is the perfect web site for anybody who wants to understand this topic.

    You realize a whole lot its almost hard to argue with you (not that I
    really would want to…HaHa). You definitely put a fresh spin on a topic that has been written about for many years.
    Wonderful stuff, just excellent!

  72. Im grateful for the article post.Much thanks again. Really Great.

  73. Great post. I was checking constantly this blog and I am impressed!
    Very helpful info specially the last part 🙂 I care for such information a lot.
    I was seeking this particular info for a long time. Thank you and good luck.

  74. This is my first time go to see at here and i am
    truly happy to read everthing at single place.

  75. "There is visibly a lot to realize about this. I assume you made various good points in features also.”

  76. You need to take part in a contest for one of the finest sites on the
    web. I am going to recommend this blog!

  77. Do you have a spam issue on this site; I also am a blogger, and I
    was curious about your situation; many of us have created some nice
    procedures and we are looking to exchange strategies with others,
    please shoot me an e-mail if interested.

  78. You really make it seem so easy with your presentation but I find this
    matter to be really something that I think I would never understand.

    It seems too complicated and very broad for me.
    I’m looking forward for your next post, I will try to get the hang of it!

  79. Hello my friend! I wish to say that this post is awesome,
    great written and include almost all vital infos.

    I’d like to peer more posts like this .

  80. Hey I know this is off topic but I was wondering if you knew of any
    widgets I could add to my blog that automatically tweet my newest twitter updates.
    I’ve been looking for a plug-in like this for quite some time and was hoping maybe you would have some experience with something like this.
    Please let me know if you run into anything. I truly enjoy reading your blog and I
    look forward to your new updates.

  81. Truly no matter if someone doesn’t understand afterward its up to other viewers that they will assist,
    so here it happens.

  82. I go to see everyday a few websites and blogs to read articles, however this website gives feature
    based posts.

  83. My family members all the time say that I am wasting my time here at net, however I know I am
    getting experience everyday by reading such good content.

  84. An impressive share! I’ve just forwarded this onto a friend who had been doing a little homework on this.
    And he in fact ordered me breakfast because I found it for him…
    lol. So allow me to reword this…. Thanks for the meal!!
    But yeah, thanx for spending the time to talk about this matter here on your web site.

  85. "Thanks for the tips you have discussed here. Additionally, I believe there are numerous factors which really keep your auto insurance premium decrease. One is, to consider buying cars and trucks that are within the good report on car insurance businesses. Cars which are expensive are more at risk of being lost. Aside from that insurance is also using the value of your truck, so the costlier it is, then higher a premium you pay.”

  86. "Really enjoyed this blog.Really thank you! Cool.”

  87. "I appreciate you sharing this blog article. Great.”

  88. "It is really a great and useful piece of information. IВЎВ¦m satisfied that you simply shared this helpful info with us. Please keep us up to date like this. Thank you for sharing.”

  89. Nice post. I learn something new and challenging on blogs
    I stumbleupon on a daily basis. It will always be exciting to
    read articles from other writers and practice a little something from their web sites.

  90. I will bookmark this. I found your blog on my Website feed. You have a lot of knowledge on this topic. Please write more.

  91. Babies and small animals probably love you. I enjoy the details you provide here and can not wait to take a look when I get home.

  92. Any team would be lucky to have you on it. Some nice points there. I know old school WordPress pros would agree with you.

  93. Exceptionally well written! I needed this. The people you love are lucky to have you in their lives. awesome job on this article!

  94. amazing post. I am trying to discover more on this issue. My pleasure to being here on your article. I had to take a break from playing with my dog to write your write up. You have a great sense of humor.

  95. Thanks-a-mundo for the blog.Thanks Again. Really Cool.

  96. If you desire to improve your knowledge simply keep visiting this
    web page and be updated with the most up-to-date information posted here.

  97. If you would like to improve your experience only keep visiting this web page and be updated with the latest news update
    posted here.

  98. Very informative blog. Great.

  99. This web site definitely has all the information and facts I wanted concerning this
    subject and didn’t know who to ask. excel

  100. I’m really impressed with your writing skills as well as
    with the layout on your weblog. Is this a paid theme or did you
    customize it yourself? Anyway keep up the excellent quality writing, it
    is rare to see a great blog like this one nowadays.

  101. Spot on with this write-up, I really believe this web site needs far more attention. I’ll probably be returning
    to read through more, thanks for the advice! Naati Accredited Translator

  102. I couldn’t resist commenting. Exceptionally well written!

  103. Very neat blog.Really looking forward to read more. Really Cool.

  104. This is one awesome article post.Much thanks again. Really Great.

  105. You’ve made some really good points there. I looked on the net for more information about the issue
    and found most people will go along with your views on this
    web site.

  106. This web site certainly has all of the information I needed concerning this subject and didn’t know who to ask.

  107. I believe that may be a fascinating element, it made me assume a bit. Thanks for sparking my considering cap. Sometimes I get such a lot in a rut that I just feel like a record.

  108. I blog quite often and I really appreciate your information. This article has really peaked
    my interest. I will take a note of your blog and keep checking for new information about once a
    week. I subscribed to your Feed too.

  109. Hi there colleagues, good paragraph and fastidious arguments commented at this place, I am really
    enjoying by these.

  110. It’s difficult to find well-informed people in this particular subject, but
    you seem like you know what you’re talking about! Thanks

  111. Great, yahoo took me stright here. thanks btw for post. Cheers!

  112. Its like you read my mind! You seem to know so much about this, like you wrote
    the book in it or something. I think that you could do with some pics to drive the message home a bit, but instead of that, this
    is fantastic blog. An excellent read. I will certainly be back.

  113. This is a good tip particularly to those fresh to the blogosphere.
    Brief but very precise info… Appreciate your sharing this one.
    A must read post!

  114. Hey, just looking around some blogs, seems a pretty nice platform you are using and the theme as well. I’m currently using WordPress for a few of my sites but looking to change one of them over to a platform similar to yours as a trial run. Anything in particular you would recommend about it? Have a nice day!

  115. Very informative article post.Really looking forward to read more. Great.

  116. Fantastic blog.Much thanks again. Much obliged.

  117. I enjoying, will read more. Thanks!

  118. Good, this is what I was browsing for in google

  119. Wow, great blog post.Really thank you! Cool.

  120. whoah this blog is excellent i like studying your posts.

    Keep up the great work! You know, a lot of people are hunting around for this information, you can help them greatly.

  121. yahoo brought me here. Cheers!

  122. Fantastic article.Really looking forward to read more.

  123. Yesterday, while I was at work, my cousin stole my iPad and tested to see if it can survive a 40 foot drop,
    just so she can be a youtube sensation. My iPad is now destroyed and she has 83 views.
    I know this is totally off topic but I had to share it
    with someone!

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Translate »
error: Content is protected !!