مسکن / رومانی / تعاقب ۔۔۔ از ۔۔۔ جے ایم تیموری

تعاقب ۔۔۔ از ۔۔۔ جے ایم تیموری

تعاقب

جے ایم تیموری

 

جنوری کی خنک شام میں ساحل سمندر پر موجود لوگوں کے لیے ڈوبتے ہوئے سورج کا یہ منظر اتنا سحر انگیز تھا کہ وہ سب اپنے اردگرد سے بے نیا ز اس حسین لمحے میں کھو سے گئے تھے۔زیا دہ تعداد ینگ کپلز کی تھی جو اپنی زندگی کے ان لمحوں کوخوبصورت یاد بنا لینا چاہتے تھے تا کہ اس مصروف زندگی میں اگر وہ دوبارہ کبھی اس پل سے محظوظ ہونے یہاں نہ بھی آ سکےںتو یہ یادیں اس احساس کو ہمیشہ زندہ رکھ سکیں گی جسے وہ آج محسوس کر رہے تھے۔

ان ینگ کپلز کے علاوہ یہاں لڑکے لڑکیوں کا ایک گروپ بھی موجود تھا جو خوب ہلا گلا کر رہا تھا۔تا ریکی میں مد غم ہو تی روشنی،آسمان پر پھیلی شفق کی سرخی،پر سکون سمندر میں وقفے وقفے سے اٹھتی لہروں کا شورماحول اسقدر خوابناک تھا کہ بس اس میں کھو جانے کو جی چا ہتا تھا لیکن ما حول کا یہ ہوشربا طلسم بھی اس گروپ پر کوئی اثر نہیں مرتب کر رہا تھا۔وہ سب کے سب میوزک لگائے اپنی بے ہنگم سی اچھل کود میں مصروف تھے اور اسی گروپ میں سے ایک لڑکا ان سب سے کچھ دور سمندر پر نظریں جمائے کھڑا تھا۔لہریں اس کے قدموں سے آ کر ٹکرا تیں لیکن وہ دونوں ہاتھ جیبوں میں ٹھو نسے یوں اطمینان سے کھڑا تھا جیسے کو ئی دلچسپ کھیل دیکھنے میں مشغول ہو۔ اچانک اس نے گردن گھما کر اپنے دوستوں کی طرف دیکھا وہ سب اس سے بے پروا ہلے گلے میں مشغول تھے۔انہیں مصروف دیکھ کر وہ مطمئن ہو گیا۔جوتے تو اس نے پہلے ہی اتار رکھے تھے ۔اب جھک کر اپنی جینز کے دونوںپائنچے فولڈ کئے اور پھر سیدھا ہو کر آہستہ آہستہ سمندر کی طرف بڑھنا شروع کر دیا۔اس کے چہرے پر کسی بھی قسم کے ڈر یا خوف کا تا ثر نہیں تھا بلکہ اس کے بر عکس وہ بہت ہی متجسس نظر آ رہا تھا۔اس کا دھڑ پو ری طرح پانی میں ڈوب چکا تھا اور اب اسے پانی کے بڑھتے ہوئے دباﺅ کا شدت سے احساس ہو رہا تھا۔اسی وقت اسے ایک چیخ سنائی دی۔شاید اس کے دوستوں میں سے کسی نے اسے دیکھ لیا تھا لیکن اس نے پلٹ کر دیکھنے کی کوشش نہیں کی بلکہ آگے بڑھتا رہا۔اچانک اس کے قدموں نے زمین چھوڑ دی اور وہ خود کو آ گے کی طرف گرنے سے روک نہیںپایا۔سمندر کا نمکین پانی تیزی سے اس کے نتھنوں میں گھستا چلا گیا۔اس نے سانس روکنے کی کوشش کی لیکن پانی کا دباﺅ اسقدر زیا دہ تھا کہ وہ کامیاب نہیں ہو پایا۔اس کا سانس گھٹنے لگا اور با لکل غیر ارادی طور پر اس نے زور زور سے ہاتھ پیر مارنے شروع کر دیئے۔اس کا ذہن ماﺅف ہوتا جا رہا تھا۔اس نے خود کو ہوش میں رکھنے کی بہت کوشش کی لیکن اندھیرے بہت تیزی سے اس کے ذہن پر جھپٹنے لگے تھے۔

”وہاج!اپنا ہاتھ دو مجھے“ ماﺅف ہوتے ذہن کے ساتھ یہ وہ آخری الفاظ تھے جو اس کے کانوں نے سنے تھے اس کے بعد جیسے سارے احساسات ختم ہو گئے۔

آنکھ کھلی تو اس نے خود کو ہاسپٹل کے بیڈ پر لیٹے پایااس کے تمام دوست بھی وہیں موجودتھے۔ان سب کے چہروں سے پریشانی چھلک رہی تھی۔

”یہ تم لوگوں کے منہ کیوں لٹکے ہوئے ہیں“

"come on guys,!I am not dead yet”

اس نے مسکراتے ہوئے کہااور بےڈ سے ٹےک لگا کر بےٹھنے کی کوشش کی۔

"thanks to God and then thanks to Jimi”

یہ تو اچھا ہوا کہ شیبا نے تمھیںدیکھ لیا اور جمی تمھیں بچانے دوڑ پڑاہم تو گھبرا ہی گئے تھے اور شکر اداکرو اُن دو کوسٹ گارڈزکا جو وہاں اتفاقاً راﺅنڈ لگا نے آگئے ورنہ تو نجا نے کیا ہو جاتا“ فری نے اسے مسکراتے دیکھ کر اطمینان سے کہا۔

” اوہتو وہ چیخ اس سٹو پڈ شیباکی تھی “ اس نے یوں شیبا کو دیکھا جیسے اسے اس کی حرکت سخت نا گوار گزری ہو۔

” by the way وہاج!کیا میں جان سکتا ہوں کہ یہ کیا حر کت تھیجب تمھیں تیرنا نہیں آ تا تو تم سمندر کے اتنے قریب گئے ہی کیوں“ جمی کے لہجے میں خفگی کا عنصر نما یا ں تھا ۔

” میں تو صرف چہل قدمی کر رہا تھا “ وہاج نے کسی قدر لا پر وائی سے کہا۔

” کہاںبیچ سمندر میں“ جمی نے طنزیہ انداز میں پو چھا۔

” جمی!don’t try to be my father “ اس نے درشتگی سے کہا تو وہ ہونٹ بھینچ کر رہ گیا۔

اس کے رویے نے سب کو ہی ہرٹ کیا تھا۔وہ سب اپنی اپنی جگہ خا موش ہو گئے تھے لیکن وہ یہ بھی اچھی طرح جا نتے تھے کہ وہاج حسن اپنے برے رویے پر کبھی معذرت کرے یہ اتنا ہی نا ممکن ہے جتنا کہ رات کو سورج کا نکلنا۔حا لانکہ وہ پچھلے چھ سالوں سے ایک دوسرے کو جا نتے تھے۔کا لج کے فرسٹ ائیر سے لیکر اب فا ئنل ائیر تک نہ تو انھوں نے کسی کو اپنے گروپ میں شامل کیا تھا اور نہ کوئی ان کے گروپ سے نکل کر کسی اور گروپ میں شامل ہی ہوا تھا لیکن وہاج کا پل پل بدلتا مزاج کبھی کبھی انھیں ایک پل میں ہی اجنبی بنا دیا کر تا تھااور اب تو وہ سب ہی اس کے مزاج کے عادی ہو تے جا رہے تھے ۔پھر بھی کبھی کبھی اس کا رویہ انھیں بہت ہرٹ کر جا تا تھا اور پچھلے کچھ عرصے سے تو اس کے اس رویے میں کافی تلخی در آئی تھی۔ دو بار ایکسیڈنٹ میں اس کی جان جاتے جاتے بچی تھی۔ اب تک وہ اسے محض حادثہ ہی سمجھتے آئے تھے لیکن آج کے واقعے نے انھیں شک میں مبتلا کر دیا تھا۔

دروازہ کھلا تو حسن آفندی اور سلمی حسن آگے پیچھے چلتے ہوئے اندر داخل ہوئے۔

” وہاج!what,s wrong with you بیٹا!تمھارا دھیان کہاں ہوتا ہے آجکل“ سلمی اس کے پاس بیڈ پر آکر بیٹھ گئیں جبکہ حسن آفندی بہت غور سے اسے دیکھ رہے تھے۔

”nothing to worry مام!بس ذرا پیر پھسل گیا تھا “ اس کا لہجہ ہلکی سی بیزاری لیے ہوئے تھا۔اس کے لہجے نے حسن آفندی کو چونکایا ضرور تھا لیکن وہ کچھ بولے نہیں۔

” انکل !آئی تھنک ہم لوگوں کو اب چلنا چاہیے۔ ویسے بھی اب آپ اور آنٹی تو ہیں ہی یہاں، اس کا خیال رکھنے کے لیے۔ حالانکہ جو خود اپنا خیال نہ رکھنا چاہے اس کے لےے دوسرے کیا کر سکتے ہیں “

جمی کو بھی اس کا لہجہ برا لگا تھا اس لیے وہ کہے بغیر نہ رہ سکا اور پھر تیزی سے کمرے سے نکل گیا۔اس کے پیچھے باقی دوست بھی چلے گئے۔

” وہاج !تمھیں کوئی پرابلم تو نہیں کوئی ایسی بات جو تم ہم سے شےئر کرنا چاہو “ حسن آفندی نے بڑی عجیب نظروں سے اسے دیکھا ۔

” !no dad“ اس نے لا تعلقی سے کہا تو سلمی اس کے انداز دیکھ کر حیران رہ گئیں۔

” اگر واقعی کچھ نہیں تو ان سب با توں کا کیا مطلب ہےحاد ثہ ایک بار ہو سکتا ہے،دو بار ہو سکتا ہے لیکن تیسری بارتم کیوں ہمیں کچھ اور سوچنے پر مجبور کر رہے ہو “ نہ چا ہتے ہوئے بھی ان کا لہجہ سخت ہو گیا تھا۔

” اب میں کیا کہہ سکتا ہوں سوائے اس کے کہ یہ آپ کا وہم ہےany way "dad! I want to take some rest”

اس نے کندھے اچکا کر کہا اور لیٹ کر آنکھیں موند لیں۔

” you “ اس سے پہلے کہ وہ غصے میں کچھ کہتے سلمی نے انھیں روک دیا۔

” اس وقت بات کرنا ٹھیک نہیں ہم اس سے بعد میں ڈسکس کریں گے“ سلمی نے کہا تو وہ ایک گہرا سانس بھر کر رہ گئے۔

٭  ٭  ٭

وہ جم جانے کے لیے کمرے سے نکلا تو حسن آفندی لاﺅنج میں ہی مو جود تھے لیکن وہ انھیں نظر انداز کرتا انٹرنس ڈور کی طرف بڑھ گیا اور وہ جو اتنی دیر سے اسی کے انتظار میں یہاں بیٹھے تھے، اسے یوں لا تعلقی سے اپنے قریب سے گزرتے دیکھ کر بے ساختہ پکا ر اٹھے۔

” وہاج ! “

” یس ڈیڈ! “ اپنا نام سن کر وہ رک ضرور گیا تھا لیکن اس نے پلٹ کر دیکھنے کی کوشش نہیں کی تھی۔

” come hereمجھے تم سے کچھ بات کر نی ہے“ انھوں نے بڑے ہی ٹھہرے ہوئے انداز میں کہا۔

” ڈیڈ!میں جم سے لیٹ ہو رہا ہوں۔آپ پھر کبھی بات کر لیجئے گا“

اس نے اکتائے ہو ئے انداز میں کہتے ہوئے پلٹ کر انھیں دیکھا۔اس کے اس انداز پر انھیں غصہ تو بہت آیا لیکن وہ بر داشت کر گئے۔

”بیٹھو ادھر آ کر پا نچ منٹ سے کوئی فرق نہیں پڑ جائے گا “ انھوں نے قطعیت سے کہا تو وہ کندھے اچکاتا ان کے بالکل سامنے والے صو فے پر آ کر بیٹھ گیا۔

پچھلے کچھ مہینوں میں اس کی عا دات اور سوچ تک میں ایک نا معلوم سی تبدیلی آ چکی تھی کہ ان کے لیے یہ سب کچھ حیران کن تھا۔بچپن ہی سے وہ کچھ منفرد لیکن برےلےنٹ تھا۔ ہمیشہ روٹین سے ہٹ کر کچھ نیا اور منفرد کرنے کی کوشش میں رہتا تھا ۔اب تک تو وہ اسے اچھا سائن سمجھتے آئے تھے لیکن اب اس کی یہی خو بی ان کے لیے پریشانی کا با عث بن گئی تھی۔وہ بغور اس کا جا ئزہ لینے لگے۔فرنچ کٹ ڈاڑھی،کندھوں تک آتے بال جن کی شاید کئی مہینوں سے کٹنگ نہیں کر وائی گئی تھی،گلے میں لٹکتی موٹی سی سلور چین ،ایک لمبی بلیک ڈوری سے لٹکتا سلور، بلیک کلر کا پینڈنٹ،کلائی پر بندھا بریسلٹ،بلیک کلر کا ٹراﺅ زر جس کے ایک پا ئنچے پر وائٹ کلر سے scorpio پینٹ کیا گیا تھا اور بلیک اےنڈوائٹ لائننگ کی ٹی شرٹ پہنے وہ کہیں سے بھی انڈسٹر یلیسٹ حسن آفندی کا اکلوتا بیٹا نظر نہیں آ رہا تھا۔

”یہ کیاحا لت بنا رکھی ہےاپنی نہیں تو کم از کم ہما ری ہی عزت کا خیا ل کر لیاکرو “ انھوں نے قدرے نا گواری سے اسے دیکھتے ہو ئے کہا۔

” اگر آپ کا ارادہ بے بی سٹر بننے کا ہے تو آ ئی ایم سوری میں“ اس کے یوں بدتمیزی سے بات کر نے پر وہ ایکدم غصے میں آ گئے۔

” شٹ اپ یو ایڈیٹ! تم شاید بھول سکتے ہو کہ تم وہاج حسن آفندی ہو لیکن لوگ نہیں بھول سکتے“ نہ چا ہتے ہوئے بھی ان کی آ واز کافی بلند ہو گئی تھی اور اس کا احساس بھی انھیں وہاج کے چہرے پر بر ہمی کے آ ثار دیکھ کر فوراً ہی ہو گیا۔اس سے پہلے کہ وہ اپنے اس شدید رویے کی وضا حت کر تے وہ ایک جھٹکے سے اٹھا اور تیز تیز قدم اٹھا تا انٹر نس ڈور کراس کر گیا۔

” وہاج! “ اسے یوں غصے میں جاتا دیکھ کر انھوں نے اسے پکا را لیکن ان کی آواز انٹرنس ڈور کو زور سے بند کیے جانے کے دھماکے میں دب کر رہ گئی۔

” یہ کیسا شور ہے حسن! “ آوازیں سن کر سلمی بھی کمرے سے نکل آئیں۔

” پتا نہیں یہ لڑکا کیا کرنے والا ہے“ ان کے لہجے میں پریشانی کا عنصر نمایاں تھا۔

” میرا خیال ہے آپ اس کے بارے میں over concious ہو رہے ہیں۔    اس عمر کے بچے freedom چاہتے ہیںاور یہ غلط بھی نہیں۔ ہماری اےڈوائسسزاسے انٹرفےئرنس لگتی ہے اسی لیے وہ کبھی کبھی ہا ئپر ہو جاتا ہے but there is nothing to worry وقت کے ساتھ ساتھ سب ٹھیک ہو جائے گا اب آپ جلدی سے تیار ہو جاﺅ ورنہ آج شام کی پارٹی کے لیے ہم لیٹ ہو جائیں گے “ وہ انھیں تسلی دیتی واپس کمرے میں چلی گئیں۔

” جو میں دیکھ سکتا ہوں وہ تم نہیں دیکھ پا رہی ہو سلمی! “ ان کی پیشانی پر شکنوں کا ایک جال سا بن گیا تھا۔

٭  ٭  ٭

وہاج ریموٹ ہاتھ میں لیے مسلسل کمرے میں ٹہل رہا تھا اور ٹی وی کے چینلز ایک کے بعد ایک بدلتے جا رہے تھے ۔ ہر چینل کے ساتھ ہی اس کے چہرے کا زاویہ مزید بگڑ جاتا۔ آخر تنگ آکر اس نے ٹی وی آف کیا اور ریموٹ بیڈ پر اچھال دیا۔اسی وقت دروازے پر دستک ہوئی۔دستک کی آواز سن کر بے اختیار ہی اس کے چہرے پر جوش کے تاثرات ابھر آئے تھے۔

” یس کم ان “ اس نے اپنے مخصوص سخت لہجے میں کہا تو بوڑھے شرفو بابا گرم دودھ کا گلاس ہاتھ میں پکڑے اندر چلے آئے۔گھر کے تمام نوکروں میں سے ایک شرفو بابا ہی تھے جنھیں اس نے اپنے کمرے میں آنے کی اجازت دے رکھی تھی۔ وہی اپنی نگرانی میں اس کے کمرے کی صفائی وغیرہ بھی کروایا کرتے تھے،ورنہ باقی سب نوکر تو اس کے غصیلے مزاج سے بہت ڈرتے تھے۔ایک تو ویسے ہی وہ گھر میں بہت کم رہتا تھا اور جب گھر میں موجود ہوتا تو سب پوری کوشش کرتے کہ اس سے ان کا سامنا نہ ہو۔

” اور کچھ چاہیے بیٹا! “ شرفو بابا نے دودھ کا گلاس سائیڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئے ہمیشہ کی طرح پوچھا۔

” نہیںمیں اب سونے لگا ہوںاور سب سے کہہ دیں کہ مجھے کسی بھی وجہ سے ڈسٹرب نہ کیا جائےکسی بھی وجہ سے“ اس نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا۔

” جی بہتر“ شرفو بابا نے حیرانی سے اسے دیکھا کہ آخر اسے آج اس تاکید کی ضرورت کیوں پیش آئی لیکن سوال کرنے کی نہ تو انھیں اجازت تھی اورنہ جرا ¿ت ہی۔اس لیے خاموشی سے کمرے سے چلے گئے۔

ان کے کمرے سے نکلتے ہی وہاج نے دروازہ لاک کیا پھر جیب سے ایک شیشی نکال کر اس کی ساری ٹیبلٹس دودھ کے گلاس میں انڈیل دیں۔چمچ سے اچھی طرح ملانے کے بعد جب اسے یقین ہو گیا کہ ساری گولیاں دودھ میں مل چکی ہیں تو اس نے چمچ پلیٹ میں رکھااور گلاس اٹھا کر منہ سے لگا لیا۔دودھ نیم گرم تھااور اس کا ذائقہ بھی کچھ عجیب سا تھا پھر بھی وہ اُسے ایک ہی سانس میں پی گیا۔خالی گلاس واپس پلیٹ میں رکھ کر اس نے خالی شیشی اٹھائی اور اسے کمرے کے کارنر میں رکھے ڈسٹ بن میں پھینک دیا۔اب وہ کافی مطمئن دکھائی دے رہا تھا۔واپس بیڈ پر آکر اس نے ٹی وی آن کیا،اس پر MTV چینل سیٹ کیا، ریموٹ سائیڈ پر اچھال دیا اور خود بیڈ کے سرہانے سے ٹیک لگائے چینل پر چلتے انگلش میوزک کا مزہ لینے لگا۔ لیکن تھوڑی ہی دیر بعد نیند اس پر حاوی ہونے لگی۔ اس نے آنکھیں کھلی رکھنے کی بہت کوشش کی لیکن اس کے اعصاب بہت تیزی سے سن ہوتے جا رہے تھے۔ ڈوبتے ہوئے حواس میں آخری آواز جو اس کے کانوں سے ٹکرائی وہ اس کے موبائل کے بجنے کی تھی اور پھر دماغ کسی کیمرے کے شٹر کی طرح بند ہو گیا۔

٭  ٭  ٭

حسن آفندی اور سلمی حسن حیران رہ گئے تھے۔وہ دونوں تو یہ سوچ سوچ کر بے حال ہوئے جا رہے تھے کہ آخر اسے کس چیز کی کمی تھی جو وہ یوں زندگی سے بیزار ہو چکا تھا اور اب تو شک کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہی تھی کہ وہاج کے کمرے میں موجود ڈسٹ بن سے نیند کی گو لیوں کی خالی شیشی ملی تھی۔جسے اب تک وہ محض حاد ثے سمجھتے آئے تھے وہ اس کی خودکشی کی کوششیں تھیں، یہ جان کر تو ان کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں ہی ختم ہو کر رہ گئی تھیں۔ اس بار بھی وہ بس اتفاقاََ ہی بچ گیا تھا ورنہ اس نے تو خود کو مارنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔شرفو بابا کو اُس کے کمرے میں سے کچھ لےنا تھا ، وہاج کے منع کرنے کے باوجود اُنہوں نے دروازے پر دستک دی تھی مگر جب کئی بار کی دستک کے بعد بھی دروازہ نہیں کھلا تو شرفو بابا نے حسن آفندی کو بتاےا ۔ پھر دروازے کو توڑ دےا گےا ۔ تقدیر کو شایدکچھ اور منظور تھا۔ وہ بچ تو گیا تھا لیکن اس نے گو لیاں اتنی زیادہ تعداد میں کھائی تھیں کہ معدہ واش کرنے کے باوجود بھی اس کی حالت ابھی پوری طرح سنبھلی نہیں تھی اس لیے ڈاکٹرز اسے مزیددوتین دن ہاسپٹل میں ہی رکھنے پر زور دے رہے تھے اور حسن آفندی اور سلمی تو اس حد تک اس کے اقدام سے خوفزدہ ہو چکے تھے کہ انھوں نے ایک بار بھی اسے گھر لے جانے کی بات نہیں کی تھی بلکہ فوراً ہی ڈاکٹرز کی بات مان لی تھی۔

ہاسپٹل سے ڈسچارج ہو کر وہ گھر آیا تو حسن آفندی اپنے ایک دوست کے مشورے پر اسے سائیکو انالسٹ کے پاس لے گئے ۔سائیکو انالسٹ کے سامنے بیٹھے اس کا منہ چیونگم چباتے ہوئے تیزی سے چل رہا تھا۔اس کے چہرے پر کسی بھی قسم کی گبھراہٹ یا پر یشا نی کا تاثر نہیں تھا لیکن بیزاریت اس کے ہر انداز سے نمایاں تھی۔

سائیکو انالسٹ چالیس سالہ ایک وجیہہ شخص تھا جو بغور اس لڑکے کا جائزہ لے رہا تھا،جس کی عمر بمشکل اکیس بائیس سال تھی اور وہ چار بار خود کشی کی کوشش کر چکا تھا۔

” تو وہاج!کیا کرتے ہو تم؟“ اس کے چہرے پر نظریں جمائے اس نے پوچھا۔

” کچھ نہیں “

” اچھالیکن مجھے تو بتا یا گیا ہے کہ تم بی۔ایس۔سی آنرز کر رہے ہو “ اس نے دوستانہ انداز میں مسکراتے ہوئے پوچھا۔

” کیا آپ واقعی سائیکو انالسٹ ہیں “ اس نے چیونگم چباتے چباتے رک کر پوچھا۔

” یس آف کورسکیوں کوئی شک ہے کیا“

” تو پھر آپ وہ پو چھیں جس کے لیے مجھے یہاں لایا گیا ہےجو چیزیں آل ریڈی میری فائل میں موجود ہیں ان کے متعلق سوال پوچھ کرآپ کیوں اپنا اور میرا وقت ضائع کر رہے ہیں “ اس نے اطمینان سے کہا اور دوبارہ چیونگم چبانے میں مصروف ہو گیا۔

اس نے بے اختیار ایک گہرا سانس بھرا تھا۔اسے یہ ماننے میں کوئی عار نہیں تھی کہ اس کے سامنے بیٹھا یہ نوجوان اس کی دس سالہ پریکٹس میں سب سے مشکل اور بے حد ذہین پیشنٹ تھا۔

” اوکے ایز یو وشمرنا کیوں چاہتے ہو تم ؟“ اس نے براہ راست سوال کیا۔

” ابھی اس سوال پر غور کر نا باقی ہے “ وہاج کا اطمینان قابل دید تھا۔

” that,s strangeیعنی چار بار خودکشی کی کوشش کرنے کے باوجود تم اس کی وجہ نہیں جانتے “ اس نے جتلاتے ہوئے کہا۔

”let me correct you first چار نہیں تین بار۔۔۔۔۔۔پہلی بار واقعی حادثہ تھا“

” اور تم چاہتے ہو کہ میں اسے سچ مان لوں “

” نہ مانیںمجھے کوئی فرق نہیں پڑتا“ اس نے بے فکری سے کہا۔

” اوکے لیو اٹ یہ بتاﺅ کہ بار بار خودکشی کی کوشش کیوں کرتے ہو “ اس نے اسی سوال کو ذرا مختلف انداز میں پوچھا۔

” ہوں یہ سوال ذرا معقول ہےlet me see ویسے اس سوال کا سیدھا جواب تو یہ ہے کہ I am fed up with my life “ وہاج نے پہلی بار ذرا سوچتے ہوئے جواب دیاتھا تو انالسٹ کے چہرے پر اطمینان پھیلتا چلا گیا کہ اب وہ اسے اپنی راہ پر لانے میں کامیاب ہو رہا تھا۔

”کیوں ظاہر ہے زندگی سے تمھاری یہ بیزاری بلا وجہ تو نہیں ہو سکتی نا ؟“ اس نے جان بوجھ کر سوال کرنے کے ساتھ اپنی رائے بھی دے دی تاکہ وہ اسے بنا سوچے رد نہ کر سکے۔

” may be “ اس کا انداز جان چھڑانے والا تھا۔

”but I am sure تمھارا اکیڈمک کیر ئیر اتنا شاندار ہے اور پھر تمھارا فیملی بیک گراﺅنڈ جس طرح کا ہے، مجھے نہیں لگتا کہ کوئی بھی آسائش تمھاری پہنچ سے دور ہےاس کے باوجود بھی اگر تم زندگی سے خوش نہیں ہو تو لازمی کوئی نہ کوئی ٹھوس وجہ تو ہوگی ہی “ اس نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا۔

” مجھے نہیں پتا کہ ٹھوس وجہ آپ کی نظر میں کیا ہوتی ہےمیں تو بس خوشی ڈھونڈنے کی کوشش کر رہا ہوںجو میرے پاس نہیں ……..“

” joy and happiness “

” خوشیاور وہ بھی موت میںکیا زندگی کی آسائشیں کم پڑ گئی ہیں جو تم موت میں خو شی تلاش رہے ہواور اگر ایسا ہے بھی تو تم دنیا کے بے وقوف ترین انسان ہو کیوں کہ موت تو نام ہی احساس کا ختم ہو جانا ہے پھر تمھیں خوشی کیسے مل سکتی ہے “ اس نے بڑے ہی ماہرانہ انداز میں اس کی برین واشنگ کرنے کی کوشش کی۔

” یہ بات مجھ سے بہتر کون جان سکتا ہے لیکن پرابلم یہ ہے کہ جب احساس ہی ختم ہو جاتا ہے تو خوشی ملتی ہے یا نہیں ،کیسے پتا چل سکتا ہے بس یہی چیز مجھے کنفیوژ کر رہی ہے“ مقابل بھی وہا ج حسن تھا جو اتنی آسانی سے قابو میں آنے والوں میں سے نہیں تھا۔

” اور جب تک تمھاری یہ کنفیوژن دور نہیں ہو جاتی تم خود کشی کی کوششیں جاری رکھو گے“ اس کے جواب سے اس نے نتیجہ اخذ کرتے ہوئے پو چھا۔

” خا صے ذہین ہیں آپ “ اس نے سراہتے ہوئے کہا۔

”ذہین تو تم بھی ہوفرق صرف اتنا ہے کہ تم اپنی ذہانت کا غلط استعمال کر رہے ہو“ اس نے ایک اور کوشش کی۔

” رئیلینئی اطلاع ہے“ اس نے طنزیہ انداز میں مسکراتے ہوئے کہا لیکن وہ نظر انداز کر گیا۔

”look وہاج!زندگی صرف ایک بار ملتی ہے اسے یوںضائع مت کرواگر تمھیں جینے کے اتنے مواقع مل چکے ہیں تو ضروری نہیں کہ اگلی بار بھی ایسا ہی ہو۔ہو سکتا ہے کہ تم یہاں سے قدم باہر نکالو اور اگلے ہی موڑ پر موت تمھاری منتظر ہو یا پھر یہ بھی ہو سکتا ہے کہ آگے ایک طویل زندگی تمھارا انتظار کر رہی ہوخوشی ڈھونڈنے سے نہیں ملتی اور جیسے تم ڈھونڈ رہے ہو ویسے تو بالکل بھی نہیں۔کسی دوسرے کو خوشی دے کر ہی ہم خوشی پا سکتے ہیںاگر واقعی تم سچی خوشی پانا چاہتے ہوتوآج کا سیشن ہم یہیں ختم کرتے ہیں۔باقی باتیں ہم اگلی سٹنگ میں کریں گے “ وہاج کے چہرے پر بیزاری کے آثار دیکھ کر اس نے اپنی بات جلدی سے سمیٹ دی۔

” وٹابھی اگلی سٹنگ باقی ہے ؟“ اس نے حیران ہو کر پوچھا۔

” یہ سِٹنگز تو ابھی چلیں گی جب تک کہ میں تمھیںیا تم مجھے قائل نہیں کر لیتے “ اس نے خوشدلی سے مسکراتے ہوئے کہا تووہ منہ بنا تا اس کے کیبن سے باہر نکل گیا۔

وہاج کے جاتے ہی اس نے حسن آفندی کو اپنے کیبن میں بلا لیا۔

” مجھے کافی سِٹنگز کرنی پڑیں گی وہاج کے ساتھڈیٹس آپ میری سیکر ٹری سے لے لیجیے گافی الحال صرف اتنا کہوں گا کہ آپ اسے وقت دیں۔کوشش کر کے ہر روز کچھ گھنٹے اس کے ساتھ گزاریں،اسے احساس دلائیں کہ آپ کو اس کی پروا ہے۔کیوں کہ ایسی حرکتیں عموماََ بچے اپنے پیر نٹس کی توجہ حاصل کرنے کے لیے بھی کیا کرتے ہیں “ اس نے انتہائی سنجیدگی سے انھیں بریف کیا تو وہ شکریہ ادا کر کے چلے آئے۔

٭  ٭  ٭

پچھلے چھ ہفتوں سے حالات کافی پرسکون جا رہے تھے۔سائیکو انالسٹ کے ساتھ وہاج کے اب تک چار سیشن ہو چکے تھے اور چوتھے سیشن کے بعد سے تو اس میں کافی تبدیلیاں نظر آ رہی تھیں۔ اب وہ زیا دہ تر یا تو سوچوں میں گم رہتا یا پھر خود سے ہی الجھتا نظر آتا۔

کزن کی منگنی کا فنکشن اٹینڈ کرنے کے لیے سلمی نے جب وہاج کواپنے ساتھ اسلام آباد چلنے کو کہا تو تھوڑی سی پس و پیش کے بعد وہ مان گیا۔حالانکہ وہ فیملی گیدرنگ سے ہمیشہ گھبراتا تھا لیکن اس بار اس کے اتنی جلدی مان جانے پروہ حیران بھی تھیں اور خوش بھی۔وہ دونوں کل شام ہی اسلام آباد پہنچے تھے۔فنکشن آج تھا لیکن آج صبح آنے والے زلزلے نے سب کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ مار گلہ ٹا ور کے جو بلاک زلزلے سے متاثر ہوئے تھے ان میںکچھ relatives اور فیملی فرینڈز بھی زخمی ہو گئے تھے۔ اس لیے فنکشن فی الحال postponeکر دیا گیا تھا۔اور صبح سے ہر نیوز چینل آج زلزلے کو ہی ہائی لائٹ کر رہا تھا،خاص طور پرملک کے شمالی علاقے۔اور وہاں کی جو حالت تھی وہ دیکھ دیکھ کروہاج کو وحشت ہونے لگی تھی۔وہ موت میں ہمیشہ خوشی تلاش کرتا آیا تھا لیکن اتنا عبرت ناک انجام دیکھ کر اسے عجیب سی گبھراہٹ ہو نے لگی تھی۔ اسی لیے وہ بغیر کسی کو بتائے کزن کی گاڑی لیکر باہر نکل آیا۔ اس کا خیال تھا کہ باہر کھلی فضا میں آ کر وہ ان مناظر کو بھول پائے گااور اس کی بے چینی بھی دور ہو جائے گی لیکن یہ اس کی خام خیالی تھی کیوں کہ ڈرائیو کر تے ہوئے بھی بار بار اس کی آنکھوں کے سامنے وہی مناظر آ رہے تھے۔ کبھی کوئی ٹو ٹا ہوا گھرروتا ہوا بچہوحشت زدہ عورتیںبے بس مرداس کے کانوں میں مسلسل آوازیں گونج رہی تھیں۔اچانک ایک سائیڈ سے ،بھاگتا ہوا ایک نوجوان اس کی گاڑی کے سامنے آگیا۔اسے بچانے کے لیے اس نے بڑی مہارت سے سٹےئرنگ بائیں طرف گھمایا لیکن پھر بھی کار کا بمپر اس کی دائیں ٹا نگ سے ٹکرایا اور وہ اچھل کر دور جا گرا۔ خدا کا شکر کہ اس روڈ پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر تھی۔اس لیے کوئی بڑا حادثہ ہونے سے بچ گیا ۔گاڑی کے بریک کچھ دےر تک چر چرا ئے اور وہ فرنٹ ڈور کھول کر تقریباً بھاگتے ہوئے اس نوجوان کے پاس آیا۔ایسا پہلی بار ہوا تھا کہ زخمی وہ خود نہیں بلکہ کوئی اور تھا۔اس کی دائیں ٹا نگ خون میں لت پت تھی لیکن وہ سانسیں لے رہا تھا۔اس نے اپنے بازوﺅں میں اسے اٹھا یا تو اسے کچھ عجیب سی فیلنگ ہوئی جسے وہ خود بھی سمجھنے سے قاصر تھا لیکن اس وقت مو قع ایسا تھا کہ اس نے سر جھٹکا اور اسے لا کر کار کی پچھلی نشست پر لٹا دیا اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر آ بیٹھا۔اس نے نظریں گھما کر پیچھے اس پر ایک نظر ڈالی اور پھر گاڑی سٹارٹ کر کے اس کا رخ ہا سپٹل کی طرف موڑ دیا۔

وہاج ہاسپٹل کے کوریڈور میں کھڑا خود پر حیران ہو رہا تھا کہ وہ نہ صرف اس زخمی نوجوان کو ہاسپٹل تک لے آ یا تھا بلکہ اب تک یہاں موجود بھی تھا۔اپنے اندر آنے والی اس اچانک تبدیلی نے کسی حد تک اسے الجھا بھی دیا تھا۔ اچانک ڈا کٹر نے آ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو وہ چونک اٹھا۔

”پریشانی والی کوئی بات نہیں۔ چوٹیں معمولی نوعیت کی تھیں ہم نے بینڈج کر دی ہے۔صرف تھائی پر بمپر لگنے کی وجہ سے ماس پھٹ گیا تھا تو ہمیں سٹیچز لگانے پڑے۔ اب آپ انھیں گھر لے جا سکتے ہیں “

ڈاکٹر اس کے کندھے پر تھپکی دیتا آگے بڑھ گیا اور وہ خود بڑے ہی نپے تلے قدم اٹھا تا اس کمرے کی طرف بڑھنے لگا جہاں سے ابھی ابھی ڈاکٹر باہر نکلا تھا۔

کمرے کے اندر جانے کے لیے ابھی اس نے ہینڈل لاک پر ہاتھ رکھا ہی تھا کہ دروازہ خود بخود کھلتا چلا گیا اور اس کے سامنے وہی نوجوان دروازہ پکڑے کھڑا تھا۔اس کی چوٹیں اگر شدید نوعیت کی نہیں تھیں تو اتنی معمولی بھی نہیں تھیں کہ وہ بنا سہارے کے آرام سے کھڑا رہ پاتا۔

”ہیںتم یہاں کیا کر رہے ہو“ وہاج نے آگے بڑھ کر اسے سہارا دیتے ہوئے اس کا ہاتھ اپنے کندھے پر رکھ لیا۔

” مجھے جانا ہےفوراََمیرے گھر والے نجانے کس حال میں ہونگے “

اس نے اتنے بکھرے ہوئے لہجے میں کہا کہ وہ چونک اٹھا۔اس وقت اس کی جو حالت تھی اس میں اپنے علاوہ کسی اور کے بارے میں اس کی فکر مندی وہاج کو حیران کر رہی تھی۔وہ خود بھی ایسی ہی کنڈیشن سے کتنی بار گزر چکا تھا لیکن اس کے چہرے کے تاثرات اس کے لیے نا قابل فہم تھے۔

” ٹھیک ہےمیں تمھیں تمھارے گھر تک ڈراپ کر دیتا ہوں “ وہ سر جھٹک کر اسے سہارا دئیے گاڑی تک لے آیا۔پھرفرنٹ سیٹ پر اسے بٹھا کر خود ڈرائیونگ سیٹ پر آ بیٹھا۔

” تمھیں جانا کہاں ہے ؟ “ گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے مین روڈ پر آکر اس نے پوچھا۔

” بس سٹینڈبارہ بجے کی بس ہے میریپلیز مجھے جلدی سے وہاں پہنچا دو“ نوجوان نے بڑے ہی عجلت بھرے انداز میں کہا۔

” بس سٹینڈ۔میں سمجھا نہیںابھی تو تم اپنے گھر والوں کے لیے پریشان تھے اور اب“ وہاج نے الجھ کر اسے دیکھا جو اب ہولے ہولے کچھ بڑ بڑا رہا تھا لیکن اس کی آوازاتنی ہلکی تھی کہ وہ کچھ سن ہی نہیں پایا۔ اس کی اس عجیب و غریب حالت نے وہاج کو اور بھی الجھا دیا۔ اس نے گاڑی سائیڈ پر روک کراس کے کندھے پر اپنے ہاتھ کا دباﺅ ڈالا تو وہ چونک اٹھا۔

” کیا پہنچ گئے ؟ “ اس نے بڑی ہی بے تابی سے کار سے باہر نظریں دوڑاتے ہوئے پوچھا۔

” نہیںلیکن میں تمھیں سمجھ نہیں پا رہا ہوںتمھارا behaviour کچھ عجیب سا ہے“

” اس وقت میں تمھیں کچھ نہیں سمجھا سکتا دوست!میرے پاس وقت بالکل نہیں۔بس تم مجھے بس سٹینڈ پہنچا دو “ اس کا لہجہ آخر میں کچھ التجائیہ ہو گیا۔

” پہنچا تو دوں لیکن کیا تمھیں لگتا ہے کہ بارہ بجے والی بس اب تک تمھارے انتظار میں رکی ہوئی ہو گی “ نہ چاہتے ہوئے بھی اس کا لہجہ تلخ ہو گیا تھا۔

” کیا مطلب ؟ “ اس نے چونک کر اس کی طرف دیکھا تو اس کی آنکھوں میں لہراتے ڈر اور خوف کے سائے وہاج کی نظروں سے اوجھل نہیں رہ سکے ۔

” اس وقت ایک بج رہا ہے“ اس نے بغور اس کی طرف دیکھتے ہوئے بڑے ہی ٹھہرے ہوئے انداز میں کہا۔

” اوہیہ کیا ہو گیااب میں کیا کروںاس ٹانگ کو بھی ابھی زخمی ہونا تھا “ پریشانی و غصے کی ملی جلی کیفیت میں گھر کر اس نے زور سے اپنی زخمی ٹانگ پر ہاتھ مارا جس سے درد کی ایک تیز لہر اس کے پورے بدن میں دوڑ گئی اور وہ کراہ کر رہ گیا۔

” ارے۔یہ کیا کر رہے ہوسٹیچز کھل جائیں گے “ وہاج نے اس کاہاتھ تھام لیا۔

” یہاں کئی زندگیاں داﺅ پر لگی ہیں اور تم ان معمولی سٹیچز کے لیے پریشان ہو رہے ہو “ اس نے اپنا ہاتھ کھینچ کر طنزیہ انداز میں کہا۔اس اچانک پڑنے والی آفت نے اسے تھوڑا ہائپر کر دیا تھا ورنہ شکل سے وہ بہت دھیمے مزاج کا انسان لگ رہا تھا۔

وہاج نے بہت غور سے اسے دیکھا تھا۔وہ تقرےباََ اسی کا ہم عمر تھا لیکن اس کی ذہنی حالت اس کو پہنچنے والے کسی بہت بڑے صدمے کی غماز تھی۔اس کی آنکھوں میں درد کا اتنا گہرا تاثر تھا کہ بہت دیرتک وہ اس کی آنکھوں پر سے اپنی نظریں ہٹا نہیں پایا۔

” دیکھواگر تم مجھے اپنی پرابلم بتاﺅ تو شاید میں تمھاری کچھ مدد کر سکوں“ کچھ دیر بعد جب وہ بولا تو اپنے ہی لفظوں پر اسے جی بھر کر حیرانی ہوئی تھی۔پتا نہیں یہ ہمدردی تھی یا ندامت یا شاید تھوڑی دیر پہلے وہ جس جذباتی کیفیت سے گزر رہا تھا یہ اسی کا اثر تھا۔ بہرحال جو بھی تھا، یہ لمحہ وہاج حسن کی زندگی کا سب سے عجیب و غریب لمحہ تھا۔

” ہاںتم میری مدد کر سکتے ہومجھے مظفر آباد پہنچا دو کسی بھی طرحمیری فیملیپتا نہیں وہ سب کس حال میں ہوںگے

کاش میں رکا نہ ہوتا۔ہمیشہ کی طرح فرائی ڈے کو ہی چلا گیا ہوتالیکن نہیںمجھے تو یونیورسٹی،دوست ،پارٹی یہ سب گھر والوں سے زیادہ پیارے تھے نایہ زلزلہ“ وہ خود پر غصہ نکال رہا تھا۔اس کی ہر بات ادھوری ہوتے ہوئے بھی مکمل تھی۔

مظفر آباد کا نام سن کر وہاج ساری صور تحال سمجھ گیا تھا۔اب وہ اس کی ذہنی کیفیت کو زیادہ بہتر طور پر سمجھ پا رہا تھا۔ ٹی وی پر جو کچھ دیکھ کر وہ وحشت کا شکار ہوا تھا،وہ اس کے لیے ایک live show سے زیادہ کوئی اہمیت نہیں رکھتا تھا۔اس زلزلے میں اس نے کسی اپنے کو نہیں کھویا تھا لیکن اس کے باوجود زلزلے سے ہونے والی تباہی دیکھ کر وہ اندر سے ہل کر رہ گیا تھا جبکہ اس کے ساتھ بیٹھا یہ نوجوان شاید اس تباہی میں بہت کچھ کھو چکا تھا یا پھر کھونے والا تھا۔لیکن جو چیزوہاج کو hit کر رہی تھی وہ اس کی آنکھوں میں موجود ڈر تھاکسی اپنے کو کھو دینے کا ڈراچانک اس کے دل میں خواہش پیدا ہوئی تھی کہ وہ ان آنکھوں سے ڈر کا یہ تاثر مٹا دے اور ان میں خوشی اور مسکراہٹ بھر دےبس ایک پلاور فیصلہ ہو گیاجس احساس سے گھبرا کر وہ بھاگنا چاہ رہا تھا اس نے پوری طرح سے اسے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔

”میں تمھیں لیکر جاﺅنگا وہاں“ اس نے مطمئن سے انداز میں کہا اور گاڑی سٹارٹ کر دی۔ اس نوجوان نے کسی قدر حیرانی سے اسے دیکھا لیکن اس کے چہرے پر پھیلا اطمینان دیکھ کر اس نے خا موشی سے سیٹ کی بیک سے سر ٹکا دیا۔

اب اس کے چہرے پر بھی ہلکا سا اطمینان نظر آ رہا تھا۔

٭  ٭  ٭

سفر کئی گھنٹوں کا تھا لیکن ابھی اس نے آدھا راستہ ہی طے کیاتھا کہ اس کا مو بائل بجنے لگا۔ اس نے جیب سے موبائل نکال کر دیکھا تو اس پر مام کا نام بلنک کر رہا تھا۔شاید اس کی اتنی لمبی غیر حا ضری نے انھیں پریشان کر دیا تھا۔

” یس مام!“ اس نے ایک ہاتھ سے سٹےئرنگ تھاما اور دوسرے ہاتھ سے موبائل آن کر کے کان سے لگا لیا۔

” وہاج!کہاں ہو تمکچھ بتا کر بھی نہیں گئےپتا ہے میں کتنا پریشان ہو رہی تھی“ دوسری طرف سے ان کی پریشان سی آواز سنائی دی۔

” take it easy مام!میں ٹھیک ہوںایک ضروری کام سے جا رہا ہوںکل تک واپس آجاﺅنگا “

”وٹآر یو میڈ وہاج!یہاں کیا حالات ہیں اور تممیں کچھ نہیں جانتی۔ اگلے ایک گھنٹے تک میں تمھیں گھر میں دیکھنا چاہتی ہوں“ ان کا لہجہ حیرت کے ساتھ ساتھ تحکم سے بھرپور تھا۔

”مام!I can’t come ویسے بھی میںقدم بڑھا چکا ہوں اور اب واپس آنا حماقت ہو گی “ اس نے سنجیدگی سے کہا۔

” تم آخر ہو کہاںاور کیا کرنے جا رہے ہو “ اس کی سنجیدگی نے انھیں ڈرا دیاتھااور یہ ان کے لہجے سے صاف ظاہر تھا۔

” ڈونٹ وری مام!میں کچھ غلط نہیں کرنے جا رہا ہوںاب تک میں خود کو آزماتا آیا ہوں لیکن آج میں یہ موقع زندگی کو دینا چاہتا ہوںحالانکہ اب تک میںٹھیک سے کچھ طے نہیں کر پایا ہوں۔ بس دیکھنا چاہتا ہوں کہ جو لوگ خود کو لہروں کے سپرد کر دیتے ہیں ان کا انجام کیا ہو تا ہے کیوں کہ لہروں کے مخالف جا کے تو میں نے دیکھ لیا ہے۔ اس لیے اب“ اس کا طمینان قابل دید تھا اور دوسری طرف سے وہ چےخ اٹھیں۔

” سٹاپ دس نان سینس وہاج!یہ آخر تمھیں ہو کیا گیا ہےکیوں مجھے پریشان کر رہے ہو۔پلیز گھر آجاﺅ “ بولتے بولتے آخر میں ان کی آواز رندھ گئی۔

” بلیو می مام!میں یہ سب آپ کو پریشان کرنے کے لیے نہیں کر رہا ہوں “ اس نے یقین دلاتے ہوئے کہا۔

” تو پھر! “

”I don’t know why لیکن مجھے ایسی فیلنگ ہو رہی ہے جیسے یہ سفر میری زندگی میں کوئی بہت بڑی تبدیلی لانے والا ہے کچھ ہے جو مجھے اپنی طرف کھینچ رہا ہے اور وہ کچھ کیا ہے یہ میرے لیے جاننا بہت ضروری ہے۔ please try to understand me “ اس نے اتنے مدلل انداز میں اپنا نقطہ نظر پیش کیا کہ کچھ دیر کے لیے دوسری طرف بالکل خاموشی چھا گئی۔

” پتا نہیں تم کیا کہہ رہے ہومیری تو سمجھ میں کچھ نہیں آرہاٹھیک ہے جیسے تمھاری مرضیلیکن اپنا خیال رکھنا “کچھ دیر کے بعد ان کی بکھری ہوئی آواز سنائی دی۔

”I will “ اس نے کہا اور موبائل آف کر کے واپس جیب میں رکھ لیا۔یونہی اس نے ایک نظر ساتھ بیٹھے اس نوجوان پر ڈالی جس کی آنکھیں بند تھیں لیکن اس کے چہرے کے تاثرات سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ وہ اپنے اندیشوں اور واہموں کو دور کرنے کے لیے ماضی کے خوبصورت لمحوں کو یاد کر رہا ہے۔

٭  ٭  ٭

وہ مظفر آباد پہنچے تو شام کے سائے گہرے ہو رہے تھے۔وہ ایک طویل اور تھکا دینے والا سفر طے کر کے یہاں تک پہنچے تھے لیکن جس قیامت کے آثار وہ راستے میں دیکھتے آئے تھے، وہ کس طرح قہر بن کر ٹوٹی تھی اس کا صحیح اندازہ اسے اب ہو رہا تھا۔

نوجوان کی بتائی ہوئی جگہ پر وہاج نے گاڑی روکی تو وہ بڑی بے تا بی سے دروازہ کھول کر اترا ۔ایک پل کے لیے اس کے قدم ڈگمگائے لیکن اس نے دروازے کا سہارا لے لیا اور پھر ایک عزم کے ساتھ وہ لنگڑاتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔وہاج نے اسے آواز دینا چاہالیکن یہ سوچ کر وہ حیران رہ گیا کہ جس کا درد محسوس کر کے وہ یہاں تک چلا آیا تھا وہ اس کا نام بھی نہیں جانتاوہ اسی سوچ میں غلطاں گاڑی سے اتر گیا۔وہ اس کے پیچھے جانا چاہتا تھا لیکن اس کے قدم جیسے جم کر رہ گئے تھے۔چاروں طرف ایک سا ہی منظر تھا۔گھر تو کوئی تھا ہی نہیں بس آثار بچے تھے جن پر گھر ہونے کا گمان کیا جا سکتا تھا۔زندگی کی اتنی ہولناک تصویر اس نے پہلی بار دیکھی تھی اور کانپ کر رہ گیا۔اچانک اسے کسی بچے کے رونے کی آواز سنائی دی۔اس نے چونک کر دائیں طرف دیکھا تو ایک دو سالہ بچہ ملبے تلے دبی کالی چادر پر ہاتھ مار مار کر رو رہا تھا۔اس کا دل جیسے کسی نے مٹھی میں جکڑ لیا اور اس کے قدم بے اختیار اس بچے کی طرف اٹھتے چلے گئے۔بچے کو گود میں اٹھانے کے لیے جھکا تو چادر سے باہر نکلے نسوانی ہاتھ پر اس کی نظر پڑی۔اس نے چادر ہٹائی تو بس ہاتھ ہی ملبے سے باہر نظر آ رہا تھا۔اس نے اندازے سے اپنے ہاتھوں کی مدد سے جلدی جلدی مٹی ہٹائی تو تھوڑی سی کوشش کے بعد اس عورت کا چہرہ بھی ملبے سے باہر آگیا۔اس نے فورًا ہی اس کی سانسیں محسوس کرنے کی کوشش کی لیکن بہت دیر ہو چکی تھی۔موت کے بے رحم شکنجے نے ایک معصوم کی جان لے لی تھی ۔یہ دیکھ کر اس کے حواس معطل ہو رہے تھے۔بچہ ابھی تک رو رہا تھا۔اس نے بچے کو اٹھا کر اپنے سینے سے لگا یا تو اسے محسوس ہوا کہ اس کا پورا جسم ہولے ہولے لرز رہا ہے۔ موت کتنی بے رحم ہوتی ہے اس کا اندازہ اسے بخوبی ہو رہا تھا۔بچہ اب بھی روئے چلے جا رہا تھا۔ اسے سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے۔تب اس کی نظر ایک اور خاتون پر پڑی۔اس کے آس پاس لوگ ادھر سے ادھر بھاگتے پھر رہے تھے لیکن وہ تو جیسے ہوش و خرد سے بیگانہ ہو چکی تھیبس پتھرائی ہوئی آنکھوں سے اپنے سامنے بے حس وحرکت پڑے بچے کو دیکھے جا رہی تھی۔وہاج نے ایک پل کے لیے سوچا اور پھر اس روتے ہوئے بچے کو لے جا کر اسی بچے کے پہلو میں بٹھا دیا اور خود اس سے ذرا فاصلے پر کھڑے ہو کر دیکھنے لگا۔بچہ مسلسل رو رہا تھا لیکن اس عورت نے اب تک اس پر کوئی دھیان نہیں دیا تھا۔آخر بچہ گھٹنوں کے بل چل کر اس عورت کے پاس گیا اور اس کی چادر پکڑ کر کھینچنے لگا۔روتے ہوئے بچے نے جب اس عورت کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ مارا تو جیسے اس بے جان وجود میں جان آگئی۔بچے کو یوں بلکتا دیکھ کر ممتا تڑپ اٹھی اور اس نے بچے کو سینے سے لگا لیا۔

اب وہ آہستہ آہستہ اسے تھپک رہی تھی اور بچے کا رونا بھی اب ہلکی ہلکی ہچکیوں میں بدل چکا تھا۔وہ خاموشی سے وہاں سے ہٹ گیا اور بھاری قدموں سے چلتا ہوا اپنی گاڑی کے پاس آکر کھڑا ہو گیا۔اس نے ایک طائرانہ نگاہ چاروں طرف دوڑائیاسے لگا کہ اب وہ یہاں سے واپس نہیں جا پائے گا۔اس زمین نے اس کے قدموں کو زنجیر کر لیا ہے اندھیرا گہرا ہو چکا تھا اور اس کے ساتھ ہی لوگوں کی دم توڑتی امیدیں ان کے بے بس چہروں پر لکھی صاف نظر آ رہی تھیں۔اس نے ایک گہرا سانس خارج کیا اور سوچوں میں گھرا گاڑی کی پچھلی نشست پر دراز ہو گیا۔

٭  ٭  ٭

صبح کی روشنی نمودار ہوتے ہی وہ اٹھ گیا حالانکہ ساری رات اس کی جاگتے ہوئے گزری تھی۔یہاں جو کچھ اس نے دیکھا تھا اس کے بعد تو سو جانے کا تصور ہی محال تھا لیکن اس کے لیے یہ رات خود احتسابی کی رات تھی۔شاید اسی لیے ساری رات جاگنے کے باوجود نیند کا ہلکا سا شائبہ بھی اس کی آ نکھوں میں موجود نہ تھا۔روشنی کی ایک کرن گھپ اندھیرے کا دامن کیسے چیردیتی ہے ،یہ وہ آج ہی جان پایا تھا اور وہ بھی اس لیے کہ اس کے اپنے اندر کے اندھیرے کو آگہی کی روشنی مل گئی تھی۔صبح کی روشنی پوری طرح پھیلنے کے بعد لوگ پھر سے کوششوں میں لگ گئے تھے کہ شاید کسی کو ان قبروں میں زندہ دفن ہونے سے بچا سکیں۔کچھ امدادی ٹیمیں بھی یہاں آکر کام کر رہی تھیں۔وہ بھی ان میں سے ایک ٹیم کے ساتھ شامل ہو گیا۔ان لوگوں کی پہلی تر جیح یہی تھی کہ اگر کوئی ملبے کے نیچے اب بھی سانسیں لے رہا ہے تو اسے نکال پائیں اور جو زخمی ہوئے ہیں انھیں میڈیکل کیمپ تک پہنچایا جائے۔وہاج بھی ان لوگوں کے ساتھ پوری تندہی سے اپنی کوششوں میں لگا ہوا تھا اور شام تک ان کی ٹیم آٹھ نو لوگوں کو ملبے سے نکال چکی تھی۔ان میں سے کچھ تو خاصے زخمی تھے جنھیں وہاج نے خود میڈیکل کیمپ تک پہنچاےا تھا جبکہ دو بچوں کو بہت ہی معمولی چوٹیں آئی تھیں حالانکہ ملبے کے اندرجس پوزیشن میں وہ تھے اس میں ان کا بچ جانا ایک معجزہ ہی تھامگر جسے اللہ رکھے

وہاج اور اس کی ٹیم ایک گھر کا ملبہ ہٹا رہے تھے کہ انھیں ہلکی ہلکی سسکیاں سنائی دیں۔ان سب نے اپنے اپنے ہاتھ روک لیے اور بہت غور سے آواز کی سمت کا اندازہ لگانے لگے۔آواز پچھلی سمت سے آرہی تھی۔وہ سب گھوم کر پیچھے چلے گئے۔گھر کی پچھلی دیوار پوری طرح گری نہیں تھی بلکہ اب بھی آدھی دیوار قائم تھی اور اسی وجہ سے چھت آگے کی طرف سے تو پوری زمین پر آگری تھی جبکہ پیچھے اس دیوار کے سہارے ٹکی تھی۔سسکیوں کی آواز اب ذرا تیز ہو گئی تھی۔

”اندر کوئی ہےاندر کوئی ہے“ وہاج نے زور زور سے آوازیں دینی شروع کر دیں۔

”بابابابا“ کچھ دیر بعد بھرائی ہوئی آواز میں کچھ ٹوٹے پھوٹے لفظ انھیں سنائی دئیے تھے۔بچے کی آواز بتا رہی تھی کہ وہ بمشکل سات آٹھ سال کا ہے اور پچھلے تیس گھنٹوں سے اندر بند ہونے کی وجہ سے بہت خوفزدہ ہے۔

” بچہ کافی چھوٹا ہے اور ڈرا ہوا بھی لگ رہا ہے۔۔۔۔۔۔مجھے اندر جانا پڑے گا “ وہاج نے کچھ سوچتے ہوئے کہا۔

” اندر جانا خطرناک ہو سکتا ہے “ امدادی ٹےم میں سے ایک لڑکے نے کہا۔

”رسک تو لینا پڑے گا“ وہاج نے فیصلہ کن لہجے میں کہا تو وہ سب اندر جانے کے لیے راستہ بنانے لگے۔ان کی پوری کوشش تھی کہ ملبہ اس طرح ہٹایا جائے کہ دیوار کو کوئی نقصان نہ پہنچے کیوں کہ چھت کو اسی دیوار کا سہارا تھا اور اندر کی صورتحال سے وہ اب تک لا علم تھے۔کافی تگ و دو کے بعد آخر وہ اتنا راستہ بنا لینے میں کامیاب ہو گئے کہ ایک آدمی سینے کے بل گھسٹ کر اندر داخل ہو جائے۔

”ایک بار پھر سوچ لو “ اسی لڑکے نے دوبارہ اسے خطرے سے آگاہ کرنا چاہا۔

” میں نے زندگی میں زیادہ تر کام بنا سوچے ہی کیے ہیں“ اس نے دھیمے سے مسکراتے ہوئے کہا اور ایک نظر آسمان پر ڈال کر سینے کے بل گھسٹتے ہوئے اندر داخل ہوگیا۔

بچہ دیوار کے قریب ہی سکڑا سمٹا بیٹھا تھا۔اندھیرے کے باوجود وہ اس بچے کی آنکھوں میں منجمد خو ف دیکھ چکا تھا۔اس نے دیوار کے سہارے بیٹھ کر بچے کو اپنے سینے سے لگا لیا تاکہ اس کا ڈر کچھ کم ہو جائے ورنہ بچے کے چہرے پر پھیلی وحشت دیکھ کر اسے یہ خطرہ لاحق ہو گیا تھا کہ کہیں اس کا ہارٹ فیل ہی نہ ہو جائے۔اس کی دھڑکنیں کچھ تھیں تو اس نے اسے crawling کراتے اسی راستے سے باہر بھیج دیا۔

” وہاج ! بچہ صحیح سلامت پہنچ گیا ہے ۔ اب تم بھی باہر آجاﺅ “ اسی لڑکے کی آواز اسے دوبارہ سنائی دی جو اسے اندر آنے سے روک رہا تھا۔

بچے کے صحیح سلامت باہر پہنچنے کا سن کر اس کے اندر اطمینان پھیل گیا ۔پھروہ جیسے ہی دیوار سے ہٹ کر اس سرنگ نما راستے کی طرف بڑھا اچانک زلزلے کا ایک ہلکا سا جھٹکا لگا۔کمزور دیوار یہ ہلکا سا جھٹکا بھی نہ سہہ سکی اور زمین بوس ہوگئی۔اس کے گرتے ہی چھت اس کے اوپر آ گری۔درد کی ایک تیز لہر اس کے پورے جسم میں دوڑ گئی جس نے اس کے ڈوبتے ہوئے ذہن کو پھر سے بیدار کر دیا۔اس کا پورا دھڑ چھت کے نیچے دبا ہوا تھا۔اس لیے وہ کوشش کے باوجود ایک انچ بھی حرکت نہ کر پایا۔اس کے سر میں درد کی شدید ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔اس نے اپنے سر پر ہاتھ لگایا تو اسے کچھ نمی سی محسوس ہوئی اور پھر کانوں کے قریب سے بہتا خون بھی اسے محسوس ہو گیا۔اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ رینگ گئی۔

” وہاجوہاج“ اپنے نام کی پکار اسے صاف سنائی دے رہی تھی لیکن اس کی اپنی آواز جیسے حلق میں ہی اٹک کر رہ گئی تھی۔

مامڈیڈمیں“ اس کی آنکھیں بند ہو نے لگیں۔باہر سے آنے والی آوازیں بھی اب مدھم پڑنے لگی تھیں۔ اور

پھر موت جیت گئی۔موت کا تعاقب آج اپنے اختتام کو پہنچ گےا تھا،موت اپنے شکار کو گھےر گھار کر وہیں لے آئی تھی جہا ں اُسے آنا تھا۔

 

٭  ٭  ٭

بارے KAHAANY.COM

Check Also

تیرے پیار میں پاگل ہوئے ۔۔۔ از ۔۔۔ روبینہ غلام نبی

تیرے پیار میں پاگل ہوئے ۔۔۔ روبینہ غلام نبی ………… پتھر بنا دیا مجھے رونے …

57 comments

  1. http://donpozitiv.com – что подарить

  2. Hello friends
    I am sorry if I create off-topic
    But I lately had to find a detailed short article about the way to write essays with the university.
    I just located a superb short article. Maybe an individual else will need this material.
    http://soluzioni-legali.com/2017/07/essays-and-powerpoint/

    By the way, although I was attempting to find this short article, I discovered that many of us purchase home works, compositions, papers and essays. I don’t know how protected it can be and what high quality is often obtained inside the finish. Who faced this difficulty, create, you create or invest in? Were you caught by the lecturer for this?

  3. Me enjoying, will read more. Cheers!

  4. http://fajno.net/ – женский сайт журнал лучших советов красота, здоровья, кулинарные рецепты.

  5. After study a number of of the blog posts on your web-site now, and I genuinely like your way of blogging. I bookmarked it to my bookmark web site list and might be checking back soon. Pls take a look at my website as well and let me know what you feel.

  6. Good, this is what I was looking for in google

  7. I enjoying, will read more. Thanks!

  8. You are totally right. I really enjoyed looking through this and I will return for more as soon as possible. Our website is on the subject of top rated electric razors, you can check it out if you happen to be interested in that.

  9. Do you have a spam problem on this blog; I also am a blogger, and I was wondering your situation; many of us have developed some nice practices and we are looking to swap methods with others, why not shoot me an email if interested.

  10. Agencja Ochrony Kingpol Security – Agencja Ochrony Kingpol Security z Gdanska to jedna z najstarszych firm na tym terenie zajmujaca sie ochrona osob i mienia.
    Gdanska ochrona>>>

  11. My spouse and I really enjoy your site and find a majority of the articles to be what precisely I am in need of. Do you offer other people to post articles for you? I would not mind composing a story relating to homework help sites or on a number of the topics you are writing about on this website. Great site!

  12. You are certainly right, I would love to learn more on this particular topic! I am also interested by desktop pc since I think it really is very trendy these days. Keep doing this!

  13. Всем привет!
    Так хочется похвастаться – я теперь выгляжу секси!
    И при этом не худела и не занималась спортом. Да и не надо худеть – надо хорошо выглядеть!
    Просто ношу комбидресс, купила по этой ссылке: https://goo.gl/HG5wrf
    Жирок конечно никуда не делся, но люди теперь меня воспринимают по другому – как симпатичную женщину!
    Муж тоже рад, но скоро я обязательно понастоящему похудею и порадую его еще больше!
    А ещё мне дали Скидку более 30% по промокоду DRESS300 !!!!

  14. You’re totally correct and I agree with you. Whenever you wish, we can also talk regarding top desktop computers, one thing which intrigues me. Your website is impressive, all the best!

  15. Ni hao, here from yahoo, i enjoyng this, I come back soon.

  16. Me enjoying, will read more. Cheers!

  17. Ha, here from google, this is what i was looking for.

  18. There are amazing changes on the layout of this site, I definitely love that! My website is relating to lic online payment through credit card and now there are lots of stuff to be done, I’m still a newbie in web page design. Be careful!

  19. Hello, happy that i saw on this in bing. Thanks!

  20. Appreciating the dedication you put into your site and in depth details you provide. It’s great to come across a site every now and then which is not the similar old re-written stuff. Excellent read! We have saved your blog and I am adding the RSS feeds to my garageband for windows website.

  21. It was wonderful reading this info and I think you’re entirely correct. Let me know in the event that you are looking into medical malpractice law firms, that’s my main expertise. I hope to hear from you soon, take care!

  22. Many thanks for this superb posting! I truly enjoyed learning about.I will be sure to bookmark the website and will come back later on. I would really like to encourage you to ultimately keep on with the nice work, possibly blog about framaroot app download also, have a superb evening!

  23. You’re completely right, I would really like to know a lot more on this subject! I am as well interested by omega xl complaints because I feel it is really quite unique now. Keep it up!

  24. I have interest in this, thanks.

  25. Hey! I just saw this excellent website and I honestly like it. I also want to focus on mobile number locator at times. Great to be around, thanks!

  26. I always read through your content carefully. I’m also focused on lucky patcher download, maybe you could talk about that sometimes. I will be back soon.

  27. Great, this is what I was browsing for in bing

  28. Appreciate you sharing, great blog post. Fantastic.

  29. Awesome, this is what I was looking for in bing

  30. I must say got into this post. I found it to be interesting and loaded with unique points of interest.

  31. I have interest in this, xexe.

  32. Howdy! Someone in my Facebook group shared this website with us so I came to look it over. I’m definitely loving the information. I’m book-marking and will be tweeting this to my followers! Wonderful blog and outstanding design.

  33. very nice post, i actually love this web site, carry on it

  34. When some one searches for his necessary thing, therefore he/she wants to be available that in detail,
    therefore that thing is maintained over here.

  35. I was suggested this web site by means of my cousin. I am not positive whether or not this post is written by way of him as
    nobody else know such detailed approximately my problem.
    You’re incredible! Thank you!

  36. Hey, what do you really feel on the subject of upvc windows? Very awesome subject, isn’t it?

  37. This post is genuinely a pleasant one it helps
    new internet viewers, who are wishing for blogging.

  38. Hi there very nice web site!! Guy .. Excellent .. Superb ..
    I’ll bookmark your web site and take the feeds additionally?

    I’m satisfied to seek out numerous helpful information here in the post, we need develop
    extra strategies in this regard, thank you for sharing.
    . . . . .

  39. Terrific work! That is the kind of information that should be shared around the net.

    Shame on the search engines for not positioning this put up upper!
    Come on over and consult with my site . Thanks =)

  40. A person essentially help to make critically articles I might state.

    This is the first time I frequented your website page and up to now?

    I surprised with the analysis you made to make this actual
    submit extraordinary. Excellent process!

  41. Keep this going please, great job!

  42. Hey there I am so grateful I found your website, I really found you by error, while I
    was searching on Aol for something else, Regardless I am here now and would just like to say thanks a lot for a
    incredible post and a all round enjoyable blog (I also
    love the theme/design), I don’t have time to look over it all at the
    moment but I have bookmarked it and also added your RSS feeds, so when I have time
    I will be back to read much more, Please do keep up the excellent job.

  43. Hi there, all is going perfectly here and ofcourse every one is sharing data, that’s really excellent,
    keep up writing.

  44. Are you how they may well be more protect in the privacy
    of your home?

  45. Do you have them may be more ensure of your home?

  46. Do you feel them are often more guarantee of your home?

  47. To help keep your belongings in complete safety?

  48. It’s not my first time to go to see this website, i am visiting this
    web page dailly and obtain fastidious facts from here all the
    time.

  49. You are a very bright individual!

  50. Good day! I just noticed your site and I truly like it. I also like to focus on Arvind Pandit Kansas from time to time. Great to be here, cheers!

  51. Very interesting points you have remarked, appreciate it for putting up.

  52. You are certainly right and I agree with you. If you want, we could also talk regarding getapk market app, something that intrigues me. The website is certainly great, best wishes!

  53. Hi there! I recently saw your site and I honestly like it. I also want to speak about kik for pc occasionally. Good to be here, many thanks!

  54. I have read so many content on the topic of the blogger lovers but this article is in fact
    a fastidious post, keep it up.

  55. Just wanna input on few general things, The website layout is perfect, the articles is very superb : D.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Translate »
error: Content is protected !!